تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ…

تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ وصول کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جزیرہ عرب کے بعض نصاریٰ نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ اسے اپنے لیے باعث ذلت و حقارت سمجھتے تھے حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ کے بڑوں، بزرگوں اور علماء کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ آپ نے ان سے کہا: جزیہ دو، انہوں نے کہا: آپؓ ہمیں ہمارے جائے امن پر پہنچا دیں۔ اللہ کی قسم! اگر آپؓ نے ہم پر جزیہ مقرر کیا تو ہم روم کی سر زمین میں چلے جائیں گے، اللہ کی قسم آپؓ عربوں کے درمیان ہمیں رسوا کرتے ہیں۔ آپؓ نے ان سے فرمایا: تم نے بذاتِ خود اپنے کو رسوا کیا اور اپنی قوم کی مخالفت کی۔ اللہ کی قسم تمہیں ذلت و رسوائی برداشت کرتے ہوئے اسے ضرور ادا کرنا پڑے گا اور اگر تم روم بھاگ کر گئے تو حاکم روم کے پاس تمہارے متعلق خط لکھوں گا، پھر تمہیں قیدی بناؤں گا۔ انہوں نے کہا: آپؓ ہم سے کچھ لے لیں لیکن اسے جزیہ نہ کہیں۔ آپؓ نے فرمایا: ہم تو اسے جزیہ ہی کہیں گے، تم جو چاہے اسے نام دو۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امیر المؤمنین! کیا سعد بن ابی وقاصؓ نے ان لوگوں پر زکوٰۃ دوگنی نہیں کر دی؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں کی ہے اور پھر آپؓ نے معاملہ پر غور کیا تو ان کے لیے یہی بدلہ مناسب پایا، پھر وہ سب واپس چلے گئے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 30۔ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے اس روایت کو سنداً ضعیف مانا ہے۔ دیکھئے: عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 167)

یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ایسے متکبر دشمنان دین جو اپنی بڑائی اور شوکت و قوت کے حوالے سے مسلمانوں کو مخاطب کریں، اور غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے کی دھمکی دیں ان کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیر المؤمنین سر چڑھے و متکبر ذمیوں سے نہایت سخت لہجے میں ہم کلام ہوئے، ان کو حقارت کا احساس دلایا، اور دھمکی دی کہ اگر غیر مسلم ممالک کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں قیدی بنا کر واپس لایا جائے گا اور مقاتلین جیسا برتاؤ کیا جائے گا یعنی ان کے بچوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیں گے، پھر یہ برتاؤ ان کے لیے جزیہ دینے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو گا۔ اس طرح آپؓ کے اس سخت جواب نے ان کے سروں سے تکبر وبرتری کے احساس کو بالکل ختم کر دیا اور وہ سر جھکائے ہوئے امیر المؤمنین سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے واپس لوٹے کہ آپ جو بھی لینا چاہیں ہم اسے دیں گے، لیکن اسے جزیہ کے علاوہ کوئی دوسرا نام دے دیں۔ بہرحال اس موقع پر سیدنا علیؓ جن کی دینی بصیرت اور ان سے مشاورت کی حضرت عمرؓ کے نزدیک بہت اہمیت تھی، انہوں نے دخل اندازی کی، اور حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا کہ ان سے زکوٰۃ دوگنی مقدار میں وصول کی جائے جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان کے ساتھ کیا ہے حضرت عمرؓ نے ذمیوں کی دلجوئی اور اس خدشہ کو مٹانے کے لیے کہ کہیں وہ غیر مسلم ممالک میں بھاگ کر چلے نہ جائیں آپ نے اس مشورہ کو مان لیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ رائے بالکل مناسب موقع پر سامنے آئی، یعنی ایسے وقت میں کہ امیر المؤمنین نے اپنے سخت رویہ کے ذریعہ سے ان کے احساس برتری اور تکبر کو توڑ دیا تھا۔ اگر آپ ان کے مطالبہ کو شروع ہی میں مان لیتے تو ان کے دلوں میں بڑائی کا تصور باقی رہتا اور عین ممکن تھا کہ وہ عہد و پیمان کو توڑ دیتے اور مسلمانوں سے بدسلوکی کرتے۔ 

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 141، 142) 

ایک روایت میں بنو تغلب کے بارے میں یہ واقعہ منقول ہے کہ انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے انکار کر دیا، پھر جزیہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا تو اس کے لیے بھی راضی نہ ہوئے، اور اسلامی سلطنت سے بھاگ نکلے، وہ روم کی سرزمین میں پناہ لینے کی کوشش میں تھے۔ چنانچہ نعمان بن زرعہ نے حضرت عمرؓ کو خبر دی کہ اے امیر المؤمنین بنو تغلب عرب ہیں، جزیہ ادا کرنے سے ناک منہ چڑھاتے ہیں، ان کے پاس مال و دولت بھی نہیں ہے، وہ کھیتی باڑی کرنے اور مویشیوں کو پالنے والی قوم ہے، البتہ اس میں دشمن کو زیر کرنے کی صلاحیت ہے، لہٰذا ان کے ذریعہ سے اپنے خلاف دشمن کی مدد نہ کیجیے۔ چنانچہ آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کر لی کہ وہ دوگنی زکوٰۃ ادا کریں گے۔ 

(الاموال: جلد 1 صفحہ 37۔ بحوالۃ : سیاسۃ المال فی الاسلام: عبداللّٰه جمعان: صفحہ 73)

اور فرمایا: ہمارے نزدیک یہ جزیہ ہے، تم جو چاہو اس کا نام رکھو۔

(فتح القدیر: جلد 1 صفحہ 514۔ بحوالۃ: سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 72)

 تو بنو تغلب نے کہا: اگر یہ جزیہ عجمیوں کے جزیہ کی طرح نہیں ہے تو ہم راضی ہیں، اور ہم اپنے دین کی حفاظت کریں گے۔ 

(فتوح البلدان: صفحہ 186۔ بحوالۃ: سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 72)

خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بنو تغلب سے زکوٰۃ قبول کرنے کا راز کیا تھا، اور کیا اسے زکوٰۃ کہا جائے یا جزیہ؟ اس اختلاف کا تعلق صرف نام تک محدود تھا، اسی لیے اس معاملہ میں نرمی برتی گئی اور مصلحت عامہ کے پیش نظر خلیفہ نے بھی اسے مان لیا اور اسے مان لینے کے پیچھے یہی خدشہ کار فرما تھا کہ کہیں بنو تغلب رومی سلطنت میں شامل نہ ہوجائیں اور ان کے اسلام قبول کرنے نیز مسلمانوں کی طرف سے دشمنوں کو زیر کرنے کی ان سے جو امید وابستہ ہے وہ بے کار نہ ہو جائے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک عرب قوم تھی، اس کی غیرت وخود داری کا تقاضا تھا کہ ان کا پاس و لحاظ رکھا جائے، نیز ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کے بیت المال اور ملکی آمدنی میں اضافہ اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اسلامی سلطنت سے بھاگ کر رومی سلطنت اور اس کی فوج میں شامل ہو جائیں۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 72 )

صفحہ 1 از 2