تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ…

تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ وصول کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

البتہ یہ بحث کہ ان سے وصول کیا جانے والا مال کیا زکوٰۃ ہے یا جزیہ؟ تو صحیح بات یہ ہے کہ وہ جزیہ ہے، کیونکہ اس کے مصارف وہی ہیں جو خراج کے مصارف ہیں اور اس لیے بھی کہ زکوٰۃ کی ادائیگی غیر مسلموں پر واجب نہیں ہے۔ نیز ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جزیہ حفاظت کا مماثل و متبادل ہے اور بنو تغلب مسلمانوں کی حفاظت و نگرانی میں تھے، ساتھ ہی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کلی و عملی طور پر وہ جزیہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بنو تغلب کے نصاریٰ پر جو معاوضہ مقرر کیا گیا تھا وہ ان اموال سے تھا جن پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ پس مسلمانوں کی ہر چیز میں زکوٰۃ ہے خواہ غلہ جات ہوں، پھل ہوں، مویشی ہوں، یا سونا اور چاندی ہوں۔ اور یہی چیزیں ان ذمیوں سے دگنی وصول کی جاتی تھیں، یعنی جس طرح ان کے مردوں پر مقررہ معاوضہ دینا واجب تھا اسی طرح عورتوں پر بھی واجب تھا اشخاص و افراد پر اس کا دارو مدار نہ تھا۔ پس یہ شکل عرف میں ’’جزیہ‘‘ کا مکمل مفہوم ادا نہیں کرتی۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 73۔ النظام الإسلامی المقارن: صفحہ 39)

 ہر چند کہ اسے زکوٰۃ کا نام دیا جائے یا جزیہ کا، دونوں صورتوں میں وہ ایک ٹیکس ہی ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذمی افراد اسلامی حکومت کی تابع داری قبول کرنے پر راضی ہیں۔

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 73)

مفتوحہ ممالک پر جزیہ کے علاوہ عربوں کے دیگر حقوق بھی عائد ہوتے تھے۔ دور فاروقی میں ان حقوق کی جدید اور ترقی یافتہ شکلیں ہو گئیں مثلاً اگر حاکم یا مسلمانوں کے سفراء، نامہ بردار، یا عام مسلمان مفتوحہ ممالک میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں پر ان کی ضیافت واجب ہے۔ آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مہمان نوازی کی مدت تین دن مقرر کر دی ان ایام میں مہمانوں کی انہی چیزوں سے ضیافت ہو گی جنہیں وہ خود کھاتے ہیں، بکری اور مرغی نیز جو چیز کھلانے کی طاقت نہیں ہے اسے کھلانے پر میزبان کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ 

(الأحکام السلطانیۃ والولایات الدینیۃ: صفحہ 164)

آپؓ کے دور میں ’’نو آبادیاتی ترقی‘‘ کے زیر عنوان چند ایسے معاہدوں کا ذکر ہو چکا ہے جن میں آپؓ نے مفتوحہ ممالک کے باشندوں سے شرط لگا دی تھی کہ وہ سڑکیں اور پل وغیرہ خود ہی بنائیں گے۔ 

بہرحال سیدنا عمرؓ کے دور میں جزیہ کے نظام کو ترقی ملی، آبادی کے اعداد و شمار تیار ہوئے، مال دار، فقراء اور متوسط طبقہ کے لوگوں میں تفریق کی گئی، اور دیگر ایسی بہت ساری شرائط اور پابندیاں سامنے آئیں جن کا پہلے وجود نہ تھا۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ آبادی بڑھ گئی اور اسلامی حکومت کا دائرہ مصر، شام، اور عراق تک وسیع ہو گیا، نیز دیگر اقوام کے ساتھ مسلمانوں کا ملنا جلنا اور ان کی تہذیب و ثقافت سے صبح و شام تعلق رکھنا، یہ ایسی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے وہ لوگ کافی حد تک ملکی سیاست، آباد کاری کے اصول اور تعمیر و ترقی کے نظام سے آشنا ہو گئے تھے اور پھر انہی ضروریات کی تکمیل کے لیے انہوں نے سڑکوں کی اصلاح اور پل کی تعمیر جیسی بہت سی چیزیں ایجاد کیں جو پہلے موجود نہ تھیں کیونکہ یہی چیزیں ترقی یافتہ اقوام کی زندگی میں اصل معاون ہیں مختصر یہ کہ اسلامی تہذیب کی تشکیل جدید کے پیش نظر تمام معاملات کو منظم کیا گیا، ملکی سرحدوں میں وسعت کی گئی اور مالیاتی نظام کے اصولوں کو مضبوط کیا گیا۔

(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 174)


صفحہ 2 از 2