معاہدہ جزیہ کی شرائط اور اس کی ادائیگی کا وقت
علی محمد الصلابیخلفائے راشدینؓ کے نظام حکومت کی روشنی میں فقہائے شریعت نے معاہدہ جزیہ کی چند شرائط مستنبط کی ہیں جن کی پاس داری ذمیوں کے لیے واجب ہے:
وہ لوگ اللہ کی کتاب قرآن مجید پر کوئی اعتراض اور اس میں تحریف نہیں کریں گے۔
وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب اور تحقیر سے مکمل اجتناب کریں گے۔
دین اسلام کی برائی نہیں کریں گے اور نہ اس پر طعن و تشنیع کریں گے۔
کسی مسلمان عورت سے زنا کریں گے اور نہ اس سے نکاح کریں گے۔
کسی مسلمان کو اس کے دین کے بارے میں آزمائش میں نہیں ڈالیں گے اور نہ اس کے مال اور دین پر دست درازی کریں گے۔
حربی کافروں کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ان کے مال داروں سے دوستی کریں گے۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 72)
البتہ یہ مسئلہ کہ جزیہ کی ادائیگی کا وقت کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سال کے خاتمہ کو معیار بنایا۔ سال کے خاتمہ سے میری مراد فصلی سال کے آخری ایام ہیں۔ عہد فاروقی میں جزیہ کی ادائیگی کے وقت میں یہ تبدیلی ملکی حالت میں امن و استقرار کے پیش نظر ہوئی کیونکہ امن و استقرار اس بات کا متقاضی ہے کہ جزیہ کی ادائیگی کے لیے ملک اور جزیہ دہندگان کے سامنے مناسب اوقات متعین و منظم ہوں۔ نیز یہ واضح رہے کہ جزیہ کی وصولی اس وقت کی جائے جب غلہ جات کاٹ لیے جائیں مؤرخین نے اسی کو ’’فصلی سال کا آخر‘‘ قرار دیا ہے، اسی میں مشقت سے چھٹکارا اور جزیہ دہندگان کے لیے آسانی و راحت ہے۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمربن خطاب: صفحہ 67)