جنازۃ الرسولﷺ
مولانا عبدالستار تونسویبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
الحمد لله وكفىٰ والصلوٰة والسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء وعلىٰ اله واصحابه الاتقياء اما بعد
جاں نثاری اور محبت کی داستانیں دنیا کی تاریخ میں عجیب غریب ملتی ہیں مگر جو عشق و محبت کا کمال شاگردانِ جناب رسولﷺ،صحابہ کرامؓ میں جاگزیں و دل نشیں ہوا اس کی نظیر و مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔وہ لوگ اپنی جان و مال، عزیز و اقارب دوست احباب ، گھر بار سب کچھ عشق و محبت رسولﷺ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت مضطرب و بے قرار رہتے تھے۔ جناب رسول اللہﷺ کے اشارے پر گردنیں کٹوانے کو فخر و عزت سمجھتے تھے۔ حُبّ رسول اللہ ﷺ میں اپنے بیوی بچے، جان و مال ، گھر بار دینے سے دریغ و گریز نہ کیا ۔ جہاں صحابہ کرامؓ کو خطرہ ہوا کہ دشمنوں کی طرف سے حضورﷺ کو کانٹا چبھے گا وہاں اپنی گردنیں اور سر کٹوا دیے مگر جناب رسول اللهﷺ کو کانٹا نہ چبھنے دیا ۔ ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں حضورﷺ کے گرد جمع رہے ، کسی وقت بھی آپﷺ کا مبارک و مقدس دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، تو ایسے جاں نثار و فادار لوگوں کے متعلق اس قسم کا گمان و وہم کیا جا سکتا ہے کہ ان حضراتِ صحابه کرامؓ نے جن کی جابجا قرآن مجید میں تعریف و توصیف کی گئی ہے اخیر وقت میں جناب رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر حضور ﷺ کے جنازے تک کو ترک کر دیا ۔ (العیاذ باللہ)
سادہ لوح مسلمانوں میں اس قسم کا مکروہ پروپیگنڈہ اور بے بنیاد چرچا بعض خود غرض لوگ پھیلا کر ان کو پیشوایانِ دین و ائمه ہدیٰ و نجوم ہدایت کے حق میں بدظنی و بد گوئی پر آمادہ کر کے ان کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی اور ان کے دین وایمان اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے پیشِ نظر کتبِ معتبرہ سے ایسے حوالہ جات نقل کرتے ہیں جن سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد تمام مہاجرین و انصار نے آپ ﷺ کے جنازہ مبارک میں شرکت شمولیت کا شرف حاصل کیا اور یہ ان محبّانِ رسولﷺ پر صریح بہتان اور جھوٹ ہے کہ ان حضرات نے حصولِ خلافت و حکومت کے لیے حضورﷺ کا جنازہ چھوڑ دیا۔ حالانکہ کتب معتبرہ اہلِ سنّت و شیعہ سے صاف اور صریح طور پر ثابت ہے کہ تمام مہاجرین، تمام انصار اہل مدینہ و اطراف مدینہ کے مردوں عورتوں ، بوڑھوں بچوں سب نے حضور ﷺ کے جنازہ مبارکہ میں شرکت کی۔
لما كفن رسول الله ﷺ وضع على سريره دخل ابوبكر وعمر فقالا: السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته و معهما نفر من المهاجرين الانصار قدر ما يسع البيت فسلّموا کما سلّم ابو بكر وعمر وصفّوا صفوفًا لا يومهم علیہ احدٌ فقال ابو بكر و عمر وهما فی الصف الاول خيال رسول اللهﷺ اللهم انا نشهد انه قد بلغ ما انزل الیہ الخ......... ثم یخرجون ویدخل اٰخرون حتی صلوا علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان فلما فرغوا من الصلوٰۃ تکلموا فی موضع قبرہﷺ۔
(البدایہ والنہایہ مصنفہ علامہ ابن کثیر جلد خامس فصل کیفیتہ الصلوٰة علیہﷺصفحہ 265)
جب رسول اللہﷺکو کفن مبارک پہنا کر چارپائی پر رکھا گیا تو صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ حجرۂ مبارکہ میں داخل ہوئے اور السلام عليك ايها النبی ورحمة اللہ و برکاتہ پڑھا اور ان دونوں حضرات کے ساتھ اتنے مہاجرین وانصار بھی داخل ہوئے جتنے کہ حجرۂ مبارکہ میں سما سکتے تھے۔ ان سب نے صدیقؓ و فاروقؓ کی طرح حضور ﷺ پر سلام پڑھا اور صفیں باندھیں اور حضور ﷺ کے جنازہ پر امام کوئی نہ تھا اور ابوبکرؓ و عمرؓ پہلی صف میں حضور ﷺ کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے پڑھ رہے تھے اللهم انا نشهد الخ. ثم پھر اسی طرح باقی لوگ جنازہ کے لیے حجرۂ مبارکہ سے نکلتے اور داخل ہوتے رہے حتّٰی کے آپ ﷺ پر مردوں نے نماز جنازہ پڑھ لیا پھر عورتوں نے پھر بچوں نے پڑھا پس جب سب لوگ جنازہ سے فارغ ہوگئے تو صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کے مقامِ قبر مبارک کے متعلق بات چیت کی ۔
بعینہٖ حضور ﷺ کے جنازہ مبارک کی یہی کیفیت طبقات ابن سعد جزء پنجم صفحہ 290 ذکر الصلوٰۃ علیٰ رسول الله ﷺ پر مذکور و ثابت ہے ۔
نيز سيرة حلبيه جلد سوم صفحہ 394 پر یہ عبارت بعینہٖ موجود ہے
(2) شیعہ مذہب کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد 2 صفحہ 664 پر ہے :
شیخ طبری از حضرت شیخ طبری نے امام محمد باقر روایت کردہ است کہ دہ وہ نفر داخل مے شد ند وچنیں برآں حضرت نماز مے کردندبے امامے درروز دوشنبہ وشنبہ تا صبح وروز سہ شنبہ تا شام تا آنکہ خورد وبزرگ مرد و زن از اہلِ مدینہ و اہلِ اطراف مدینہ ہمہ برآں جناب چنیں نماز کردند۔
شیخ طبری نے امام باقر سے روایت کی ہے کہ دس دس آدمی حجرہ مبارکہ میں داخل ہوتے تھے اور اس طرح ( صلوٰۃ و سلام پڑھ کر) آنحضرتﷺ پر نماز جنازہ ادا کرتے رہے بغیر کسی امام کے سوموار کے دن اور منگل کی رات صبح تک اور منگل کے دن شام تک یہاں تک کہ سب چھوٹے بڑے مرد و عورت مدینہ اور اطرافِ مدینہ کے لوگوں نے اسی طرح آنحضرت ﷺ پر نمازِ جنازه ادا کی۔
(3)_ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب حق الیقین فارسی جلد 1صفحہ 132 پر آنحضرت ﷺ کے جنازہ کے متعلق مرقوم ہے :۔
و ایشاں صلوٰۃ می فرستادند ومی رفتند تا آنکہ مہاجران و انصار داخل شدند صلوات فرستادند
اور یہ لوگ صلوٰۃ اور (درود و سلام) پڑھتے اور حجرۂ مبارکہ سے نکلتے رہے حتی کہ مہاجرین اور انصار داخل ہوئے اور صلوٰۃ و سلام پڑھا ۔
(4)_ اصول کافی شیعہ مذہب کی معتبر ترین کتاب کے صفحہ 286 پر مرقوم ہے :۔
عن ابی جعفر علیہ السلام قال لما قبض رسول اللہﷺ صلت علیہ الملائکۃ والمھاجرون والانصار فوجاً فوجاً
امام محمد باقر علیه السلام نے بیان فرمایا جب جناب رسول اللهﷺ کا انتقال ہوا تو آپ پر ملائکہ اور تمام مہاجرین انصار نے گروہ در گروہ (صلوٰۃ وسلام) پڑھا۔
(5)مرأۃ العقول شیعہ مذہب کی معتبر کتاب کی جلد اول صفحہ 371 پر مرقوم ہے :-
کہ دس دس مہاجرین اور انصار آنحضرت ﷺ کا جنازہ (صلوٰۃ و سلام) پڑھتے تھے اور باہر آتے تھے۔
حتى لم يبق احد من المهاجرين والانصار الا صلی علیہ
یہاں تک که مهاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہ گیا کہ جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔
ایسی واضح اور صریح روایات کے باوجود نہایت ہی حیرت کا مقام ہے کہ کس طرح صحابہ کرامؓ کی وفادارو جاں نثار جماعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات حضور ﷺکے جنازے پر نہ تھے۔
(6) شیعہ کی کتاب حیات القلوب جلد 2 صفحہ 664 پر ہے:-
و کلینی بسند معتبر ازامام محمد باقر روایت کرده است که چوں حضرت رسالت رحلت فرمود نماز کردند برو جمیع ملائکہ ومہاجران وانصار فوج فوج۔
کلینی نے نہایت معتبر سند کے ساتھ امام محمد باقر سے روایت نقل کی کہ جب حضرت
رسالت ﷺ نے رحلت فرمائی تو آپ ﷺ کی نماز جنازہ سب فرشتوں اور مہاجروں اور انصار نے فوج فوج ہو کر پڑھی –
(7) ضمیمہ جات مقبول ترجمہ صفحہ450 پر آنحضرتﷺکے جنازے کے متعلق لکھا ہے :-
" جناب سردارِ دو عالم ﷺ نے وفات پائی تو جوق در جوق مهاجرین و انصار اور ملائکہ نے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجا"۔
(8) شیعہ کی معتبر تفسیر صافی کے صفحہ 426 پر امام محمد باقر کا فرمان مذکور:-
لما قبض النبی صلّت علیہ الملائکۃ و المہاجرون والانصار فوجا فوجا۔
آنحضرت ﷺ کی رحلت کے بعد فرشتوں اور مہاجرین و انصار نے فوج فوج ہو کہ آپ پر نمازِ جنازہ(صلوٰۃ و سلام)پڑھی۔
(9) حیات القلوب جلد 2 صفحہ664 پر مہاجرین انصار کے متعلق ثابت ہے کہ یہ سب حضرات حضورﷺ کے جنازہ میں شامل ہوئے ۔
و ایشاں برآں جناب صلوٰة مے فرستادند وبیروں نے رفتند تا آنکه همه مهاجران و انصار چنیں کردند۔
اور یہ لوگ آنحضرت ﷺ پر صلوٰۃ بھیجتے اور حجرۂ مبارکہ سے باہر نکلتے تھے یہاں تک کہ سب کے سب مہاجرین انصار نے اس طرح جنازہ پڑھ لیا۔
(10) احتجاج طبرسی مطبوعه نجف اشرف صفحہ 52 پر آنحضرت ﷺ کے جنازے میں انصار و مہاجرین کی شرکت کے متعلق مرقوم ہے :-
ثم ادخل عشرة من المهاجرين وعشرة من الانصار فيصلون ويخرجون حتّٰى لم يبق من المہاجرون و الانصار اکا صلی علیہ
پھر سیدنا علیؓ نو دس دس مهاجرین اور انصار کو حجرۂ مبارکہ میں جنازہ کے لیے داخل کرتے رہے پس وہ لوگ نماز جنازہ پڑھتے اور نکلتے رہے۔
یہاں تک کہ مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایسا نہ رہا جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔
(11) شیعہ مجتهد علامہ باقر مجلسی نے اپنی مشہور کتاب جلاء العیون کے صفحہ36 پر بھی آنحضرتﷺ کے جنازے میں تمام مہاجرین انصار مردوں عورتوں، چھوٹوں بڑوں اہلِ مدینہ و اطرافِ مدینہ کی شمولیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :۔
تا آنکه خود و بزرگ مرو زن اهل مدینہ و اطراف مدینه همه برآن حضرت چنیں نماز کردند و کلینی بسند معتبر از حضرت امام محمد باقر روایت کردہ است کہ چوں حضرت رسالت رحلت فرموند نماز کر دند برو جمیع ملائکہ و مہاجرو انصار فوج فوج۔
یہاں تک کہ چھوٹے بڑے مردوں عوتوں سب اہلِ مدینہ اور اطرافِ مدینہ نے آنحضرت ﷺ پر اس طرح نماز جنازہ ادا کی اور کلینی نے امام محمد باقر سے نہایت معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جب حضرت رسالت مآب ﷺ نے رحلت فرمائی تو آپﷺ پر تمام ملائکہ اور مہاجرین انصار نے فوج فوج ہو کر نماز پڑھی ۔
اہلِ سنّت اور شیعہ حضرات کی اس قدر واضح اور معتبر روایات سے بخوبی ثابت ہے کہ مہاجرین اور انصار سارے کے سارے حتّٰی کہ ان کے بیوی بچے تک آنحضرت ﷺ کے جنازہ مبارک میں شریک ہوئے کوئی بھی غیر حاضر اور اس سعادت سے محروم نہ رہا۔ اب ایسی معتبر اور صحیح اور واضح روایات کی موجودگی میں تربیت یافتگان درسِ نبوی و نجوم هدایت و نمونہ اخلاق نبوت شاگردانِ رسول ﷺ صحابہ کرامؓ کے متعلق کیسے یہ فضول بے حقیقت بات کہی اور سنی جاسکتی ہے کہ جو حضرات سخت مشکل سے مشکل اوقات میں آنحضرت ﷺ پر پروانہ وار فدا اور قربان ہوتے رہے العیاذ باللہ انہوں نے اخیر وقت میں اُس محبوب ترین ہستی اپنے پیارے رسول اللہ ﷺ کا جنازہ تک نہیں پڑھا ۔
سوال : اگر تمام مہاجرین و انصار آنحضرتﷺ کے جنازے پر موجود تھے تو پھر آپﷺ کا جنازہ دو دن تک کیوں رکھا رہا؟
جواب:- روایات اہلِ سنّت وشیعہ میں واضح طور پر موجود ہے کہ چونکہ امام الانبیاء علیہم السلام کا جنازہ تھا جس پر ہزاروں کی تعداد مردوں عورتوں، بوڑھوں بچوں کی بوجہ اپنے عشق و محبت کے موجود تھی اور آنحضرت ﷺ کا جنازہ حجرۂ مبارکہ سے باہر نکالنا مصلحت نہ سمجھی گئی اس وجہ سے دس دس آدمی باری باری داخلِ حجرۂ ہوتے رہے جس کے باعث دو 2 دن تک تاخیر ہوئی ۔
جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون صفحہ36 اور حیات القلوب جلد دوم صفحہ 664 پر لکھا ہے :-
از حضرت امام محمد باقر روایت کرده است کہ ده ده نفر داخل مے شدند و برآں حضرت نمازمی کردند بے امامے ورروزو و شنبہ وشب سہ شنبہ تاصبح روز
سہ شنبہ تا شام تا آنکه خورد و بزرگ مردوزن اھل مدینه و اطراف مدینه ہمہ بر آنخضرت چنین نماز کردند –
امام محمد باقر سے روایت کی ہے کے دس دس آدمی حجرۂ مبارک میں داخل ہوتے تھے اور امام کے بغیر آنحضرتﷺ کی نمازجنازہ اداکرتے تھے سوموار کے دن اور منگل کی رات صبح تک اور منگل کے دن شام تک جنازہ ہوتا یہاں تک کہ سب چھوٹے بڑے مردوں عورتوں اور اہلِ مدینه و اطرافِ مدینه سب لوگوں نے اسی طرح جنازہ پڑھا۔
اہلِ سنّت کی معتبر کتاب البدایہ النہایہ جلد 5 صفحہ 265 پر مرقوم ہے :-
قد قيل انهم صلوا علیہ من بعد الزوال يوم الاثنين الى مثله من يوم الثلثاء –
تحقیق بیان کیا گیا کہ لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی سوموار کے دن کے بعد نماز جنازہ شروع کی اور اسی طرح منگل کے دن تک ادا کرتے رہے
یہ روایات واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے عشق و محبت کی وجہ سے متواتر پورے دو دن رات صبح و شام آنحضرت ﷺ کے جنازے پر مہاجرین وانصار کے مردوں عورتوں، بچوں کا ازدحام رہا جس کی وجہ سے جنازہ دو دن تک بصد مشکل پورا ہو سکا۔مخفی نہ رہے کہ اس دیر و تاخیر کے باعث عام اموات کی طرح آنحضرتﷺ کے جسم اقدس و اطہر میں کسی قسم کے تغیر کا اندیشہ نہ تھا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ تو قبروں میں قیامت تک محفوظ ہیں ۔ قرآن مجید میں موجود ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا وجود مسعود عبادت خانہ میں بہت دنوں تک رہا۔ مگر کسی قسم کا ذرا بھی تغیر نہ ہوا۔
سوال : سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ نے آنحضرت ﷺ کے جنازہ سے پہلے حصولِ خلافت کا اہتمام و انتظام کیوں کیا ؟
سیدنا صدیقؓ و فاروقؓ کی طرف سے حصولِ خلافت کا اہتمام و انتظام تو بجائے خود رہا ان حضرات کو حصولِ خلافت کا خیال تک بھی نہ تھا اور پھر قدرتی طور پر خلافت کے حاصل ہو جانے کے باوجود حضورﷺ کی تجہیز و تکفین اور جنازہ و دفن وغیرہ امور میں مکمل اور پورے اور پورے طور پر شامل اور شریک رہے۔
حضورﷺ کے انتقال پرُ ملال کے بعد صحابہ کرامؓ کے دل و دماغ پر اتنا صدمہ پڑا کہ بعض کہتے تھے حضور ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بعض کہتے تھے کہ نزولِ وحی والی استغراقی حالت میں ہیں اور بعض حالت بے خودی میں کچھ بول نہ سکتے تھے ۔ ادھر سیدنا عمرفاروقؓ ہاتھ میں تلوار لے کر کہہ رہے تھے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے متعلق کہے آپﷺ فوت ہو گئے ہیں اس کا سر قلم کردوں گا تواس عالم غم والم میں سیدنا صدیق اکبرؓ نے وہ مشہورو معروف خطبہ دیا جس میں آنحضرت ﷺ کی وفات اور رحلت کے مسئلہ کو سمجھایا جس سے سیدنا عمرؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ مغموم و اداس ہو کر مسجد نبوی میں بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں خبر ملی کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار تقررِ خلیفہ کے سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ امت مسلمہ کو افتران و اختلاف سے بچانے کی غرض سے سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے مجمع میں پہنچے۔ یہ دونوں حضرات تو صدمہ فراق رسول اللہﷺ میں مغموم و اداس مسجد نبوی میں بیٹھے تھے سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کا مجمع یا مسئلہ خلافت کا تذکرہ نہ سیدنا صدیق اکبرؓ و فاروق اعظمؓ کے انتظام و اہتمام سے ہوا اور نہ ان دونوں حضرات کے وہم و گمان میں یہ بات تھی ۔ اتفاق قدرت سے ان حضرات کے پہنچنے کے بعد اس مجمع نے صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر باوجود ان کے انکار کرنے کے ان کی صحبت و خدمت قدیمہ اور رفاقت غار اور حضورﷺ کے آخری وقت میں اپنا قائم مقام بنا کر امامت نماز پر مقرر فرمانے کی وجہ سے بیعت کر لی ۔ اس فیصلہ پر بیعت کے فوراً بعد اسی وقت یہ حضرات واپس مسجد نبوی میں پہنچے اور حضورﷺکی تجہیز و تکفین غسل وجنازہ وغیرہ تمام امور کا انتظام و اہتمام فرمایا اور اس بیعت خلافت کے پہلے ہو جانے کی قدرتی طور پر کئی حکمتیں اور ضرورتیں تھیں۔ مثلا اگر یہ بیعت نہ ہوتی تو خلافت کا انتظام بگڑ جاتا اور کوئی ایسا شخص خلیفہ منتخب ہو جاتا جس میں سیاسی قابلیت اور روحانی قوت اس درجہ کی نہ ہوتی تو اس کی اصلاح نا ممکن ہوتی اور جو فتنے ارتداد و منع زکوٰۃ وغیرہ کے پیش آئے ان میں دین اسلام کا باقی رہ جانا بظاہر ناممکن تھا۔
ایک بات یہ بھی تھی کہ حضورﷺ کی تجہیز و تکفین جیسے عظیم الشان کام کا بغیر کسی خلیفہ کی سرکردگی کے انجام پانا ہزاروں اختلافات کا سبب بنتا مثلاً نماز جنازہ کے متعلق اختلاف ہوتا۔کچھ لوگ جنازہ مبارک کو حجرۂ سے باہر لا کر نماز پڑھنا چاہتے اور اس میں جو قیامت برپا ہوتی ظاہر ہے۔ کوئی آپ کو دیکھنا چاہتا کوئی روتا، کوئی بیہوش ہو جاتا، عورتوں اور بچوں کا بھی ہجوم ہوتا ۔ پھر مقام دفن میں بھی اختلاف ہوتا کہ مکہ میں دفن کریں جو آپﷺ کا مولد سے یا شام میں جو حضرت خلیل اللّٰہ کا مدفن ہے یا جنت البقیع میں۔ اگر کوئی خلیفہ نہ ہوتا تو ان اختلافات کا فیصلہ کون کرتا ۔ اب چونکہ سیدنا صدیق اکبرؓ خلیفہ ہو گئے تھے لہٰذا انہوں نے سب امور کا فیصلہ کر دیا کہ نماز جنازہ حجرۂ مبارکہ کے اندر ہوگی۔ دس دس آدمی جائیں اور نماز پڑھ کر آئیں اور تنہا تنہا پڑھیں، نبی کے جنازہ پر کوئی امام نہیں بن سکتا۔ حضور ﷺخود امام ہیں اور مقامِ دفن کے متعلق
سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی روحِ اطہر جہاں قبض ہوئی وہی مقام ِدفن ہے۔ سب اختلافات بآسانی رفع ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کو جو نہ خلافت کے خیال میں تھے اور نہ کسی سعی و کوشش میں تھے محض اپنے فضل و کرم اور اپنے وعدہ قرآنی کو پورا فرماتے ہوئے تمام بنی ہاشم تمام مهاجرین و انصار کو اتقی امت، یارِ غار ، صدیق با وقار کے ہاتھ پر متفق و متحد کر کے خلیفہ بلا فصل بنا دیا ۔ الحمد للہ علی ذلک۔ اس بیعتِ خلافت کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے اتنے تھوڑے سے وقت وقفہ میں طے فرمادیا کہ خود شیعہ کی معتبر روایات میں ثابت ہے کہ:-
حضرت علیؓ ابھی تک جناب رسول ﷺ کو غسل دے رہے تھے کہ مہاجرین و انصار مسجد نبوی میں آکر حضورﷺ کے جنازہ اور دفن وغیرہ کے متعلق باہم مشورہ کر رہے تھے جس کی اطلاع حضرت عباسؓ نے آکر حضرت علیؓ کو دی چنانچہ حیات القلوب جلد 2 صفحہ664 پر امام جعفر صادق سے روایت ہے
عباس بخدمت حضرت امیر المؤمنین آمدو گفت که مردم اتفاق کرده اندکه حضرت رسول رادر بقیع دفن کنند ابوبکر پیش بایستد و برآں حضرتﷺ نماز کند .......... الخ
حضرت عباسؓ جناب امیرالمومنین حضرت علیؓ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ لوگوں نے اتفاق کیا ہے کہ حضور ﷺ کو جنت البیع میں دفن کریں اور ابوبکرؓ حضور ﷺ کے جنازہ کا امام بنے۔
اور مرآة العقول جلد اول صفحہ 371 پر بھی اسی مضمون کی روایتیں موجود ہیں نیز احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر مرقوم ہے ، حضرت سلمان کہتے ہیں :-
وقلت لعلىّ حين يغسل رسول اللہ ﷺ ان القوم فعلوا كذا وكذا وان ابا بكر الساعة العالىٰ منبر رسول اللہ ﷺ
میں نے حضرت علیؓ کو اس وقت کہا جبکہ وہ جناب رسولﷺ کو غسل دے رہے تھے کہ تحقیق لوگوں نے اس اس طرح کر لیا ہے اور اب ابوبکرؓ جناب رسولﷺ کے منبر پر ہے۔
تو شیعہ مذہب کی ان معتبر روایات سے ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ اب تک غسل رسول ﷺ سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ صحابہ کرامؓ مہاجرین و انصار اور ابوبکر صدیقؓ جنازه رسول و کفن دفن کا انتظام اور مشورہ کر رہے تھے حتیٰ کہ بعض لوگ ابوبکر صدیقؓ کو امام جنازہ بنانے کا باہم تذکرہ کر رہے تھے . غور کیجیے کہ حاضرین جنازة رسول تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو امام جنازہ بنانے کا باہم تذکرہ کرتے ہیں لیکن چودہ سو برس بعد آنے والے کس جرآت و بے باکی سے آنحضرت ﷺ کے جنازہ پر صدیق اکبرؓ کی شمولیت کا انکار کرتے ہیں فاعتبروا یا اولی الابصار
ناظرینِ کرام! آپ پر بخوبی واضح ہوگیا کہ سیدنا صدیق اکبرؓ اور تمام صحابہ کرامؓ ،مہاجرین ،انصار اور ان کے بیوی بچے سب کے سب جنازہ رسول اکرم ﷺ پرحاضر تھے اور سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ توصفِ اول میں حضور ﷺ کے جنازہ پر موجود حاضر تھے۔ تو یہ کتنا صریح جھوٹ و بہتان ہے کہ یہ حضرات خلافت حاصل کرنے میں مشغول رہے اور جنازہ میں حاضر نہ ہوئے۔ اور یہ بھی بخوبی واضح ہو گیا کہ تقدیم امر خلافت نہایت ضروری تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑے سے وقت میں ہی اپنی قدرت کاملہ سے مکمل فرما کر تمام صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کو تجہیز و تدفین اور جنازہ رسول کریمﷺ میں شمولیت کا شرف بخشاء یہ حقیقت بھی مخفی نہ رہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب صحیح بخاری شریف میں ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضورﷺ کی رحلت کے وقت آئے اور رسول اللہﷺ کے گھر مبارک حجرۂ عائشہ صدیقہؓ میں داخل ہوئے اور :
فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله ثم اكب علیہ فقبلہ ثم بکیٰ
حضورﷺکے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا ، پھر جھک کر آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور پھر غم سے آنسو بہائے۔
پھر وہاں سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور صحابہ کرامؓ میں حضور ﷺ کی وفات کے متعلق اختلاف دیکھ کہ یہ مشہور و معروف خطبہ دیا:
فقال اما بعد فمن كان يعبد محمداً فان محمداً قدمات ومن كان يعبد الله فان الله حی لا يموت قال الله عز وجل وما محمد الارسول قد خلت من قبله الرسل الی الشٰكرين – (بخاری شریف جلد اول کتاب الجنائز باب الدخول على الميت بعد الموت اذا ادرج فی اکفانه) بخاری شریف کی اس صحیح اور صاف و صریح روایت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کی وفات پر نہایت مغموم ہو کر حضورﷺ کو بوسہ دیا،اور وفات کے متعلق اہم امور کا سمجھنا سمجھانا سیدنا صدیق اکبرؓ نے کیا اور اس اثناء میں سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ اطلاع ملنے پر اتفاق و اتحاد امت کی غرض سے مجمع انصار میں سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے اور تھوڑے سے وقت میں خلافت و بیعت کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا اور فوراً واپس آکر حضورﷺ کے کفن و دفن اور جنازہ وغیرہ کا انتظام مکمل کیا جس کی (تصریحات البداية والنهاية ،طبقات ابن سعد،سیرت حلبیه) وغیرہ کتب اہلِ سنّت سے بڑھ کر شیعہ حضرات کی متعدد کتابیں کرتی ہیں کہ جس وقت سیدنا علیؓ حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے اس وقت صدیق اکبرؓ اور صحابہ کرامؓ سقیفہ سے واپس آکر مسجد نبوی میں موجود تھے جس کے متعلق شیعوں کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد دوم صفحہ 664، ومرآة العقول صفحہ 371 ،واحتجاج طبرسی 52 کے حوالہ جات گزرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں فروع کافی کتاب الروضہ صفحہ 159 پر ہے:
قال سلمان فاتیت علیا علیہ السلام وھو یغتسل رسول اللہ ﷺ فاخبرتہ بما صنع الناس وقلت ان ابابکر الساعۃ علیٰ منبر رسول اللہ ﷺ
سلمان کہتے ہیں پس میں حضرت علی علیہ السّلام کی خدمت میں آیا وہ اس وقت حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے تو میں نے خبر دی کہ لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنا لیا ہے اور اب وہ منبرِ رسول ﷺپر ہے۔
شیعہ مذہب کی یہ روایات نہایت ہی معتبر اور مؤثق ہیں۔ حیات القلوب میں تو روایت کی ابتداء ہی میں لکھا ہے :۔
کلینی بسند معتبر از حضرت امام محمد باقر روایت کرده است الخ
تفسیر صافی اور احتجاج طبرسی اور مرآة العقول کی روایتوں میں تو کسی کو کلام نہیں ہو سکتا کیونکہ شیعہ مذہب کی یہ نہایت معتبر و مسلمہ کتابیں ہیں جن پر سارے شیعہ مذہب کا دار و مدار ہے۔ محمد بن یعقوب کلینی کی اصول کافی و فروع کافی تو ایسی کتابیں ہیں جن کے صفحہ اول پر امام مہدی نے و مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے :-
قال امام العصر حجة الله المنتظر هذا كاف لشيعتنا۔
امام مہدی نے فرمایا یہ کتاب میں ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہیں۔
شاید اسی لیے ان کا نام بھی کافی رکھا گیا ہے ۔
تو ایسی معتبر کتابوں کی روایت کے بعد کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ یہ روایتیں ضعیف ہیں۔ اگر ضعیف ہوتیں تو امام معصوم ان کو نکال دیتے نہ کہ هذا كاف لشيعتنا فرماتے۔
بخاری شریف، البداية والنهاية ، طبقات ابن سعد، تاریخ وسیر کی دیگر کتب اہلِ سنّت اور اہلِ تشیع کی اصول کافی و فروع کافی ، مراة العقول ،احتجاج طبرسی، تفسیر صافی، حیات القلوب جلاء العیون کی روایات معتبرہ سے بخوبی حسبِ ذیل امور ثابت ہیں کہ تمام مہاجرین و انصار مرد و زن اہلِ مدینہ و اطراف مدینہ کے بوڑھوں، بچوں تک سب حضور اقدسﷺ کے جنازے میں شامل ہوئے اور سیدنا صدیق اکبرؓ نہایت مغموم ہو کر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر بوسہ دیا اور اس وقت صحابہ کرامؓ کے مجمع میں آکر مسجد نبوی میں مشہور و معروف خطبہ دیا اور اسی روز ان کے ہاتھ پر محض اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ سے بیعت ہوئی اور جس وقت سیدنا علیؓ حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے۔ اس وقت سیدنا ابوبكر صدیقؓ بمعہ دیگر صحابہ کرامؓ کے مسجد نبوی میں موجود تھے۔ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنازہ رسول ﷺ کی پہلی صف میں موجود تھے ۔ ان صحیح اور معتبر روایات کی موجودگی میں اس قسم کی ضعیف و شاذ کوئی روایت کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے جس میں لکھا ہو کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنازہ ودفن میں موجود نہ تھے جیسے کہ کنز العمال کی روایت ہشام بن عروہ سے نقل کی جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ حضور ﷺ کے دفن کے بعد لوٹے ، حالانکہ ہشام تو عروہ کا بیٹا ہے خود عروہ کی ولادت سیدنا عمرؓ کی خلافت کے اخیر میں یا سیدنا عثمانؓ کی خلافت کی ابتداء میں ہوئی تذکرة الحفاظ جلد 1 صفحہ 59 تهذیب ،جلد7، صفحہ183، 184 لہٰذا اس واقعہ میں خود عروہ کی موجودگی محال ہے چہ جائیکہ ہشام اس کا بیٹا موجود ہو۔بہرحال یہ روایت منقطع اور غیر معتبر ہے جب کہ یہ روایت اسنادًا منقطع ہے اور متناً شاذ ھے تو روایاتِ مسندہ صحیحہ کے مقابلہ میں مردود ہے۔
باقی صحیح بخاری شریف جلد اول کتاب الجنائز باب موت يوم الاثنین کی اُس روایت کے متعلق کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے مرض الموت میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے سوال کیا کہ حضور ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا اور حضور ﷺ کی کس روز وفات ہوئی تھی اس سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو کفن اور یومِ وفات کا علم نہ تھا اس لیے کہ وہ موجود نہ تھے کیونکہ صحیح و صریح روایات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اسی روز ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئی، اسی روز انہوں نے حضور ﷺ کے چہرہ انور کو بوسہ دیا اسی روز خطبہ دے کر صحابہ کرامؓ کو وفات رسولﷺ کا مسئلہ سمجھایا اور امت کو انتشار و افتراق سے بچایا تو یقیناً سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو وفات کے دن کا تو پورا پورا علم تھا۔ اب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اس سوال کا مقصد اسی قسم کا ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا مَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسیٰ اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ یا قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاُمِیَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ (اے عیسٰی کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ) ۔
یا جس طرح بخاری شریف جلد اول کتاب الحج باب خطبہ ایام منیٰ میں ہے۔
حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ سے سوال کیا :-
ای يوم هذا۔ قالوا یوم حرام قال فٰای بلد هذا قالوا بلد حرام قال فٰای شهر هذا قالوا شهر حرام
یہ کون سا دن ہے؟صحابہؓ نے عرض کیا یہ حرمت کا دن ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟عرض کیا یہ شہرِ حرمت ہے۔فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ؟ عرض کیا یہ ماہِ حرمت ہے،
تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول ﷺ کے یہ سوالات بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسری حکمتوں اور مقاصد کے لیے ہیں اسی طرح سیدنا
ابوبکرصدیقؓ کا اپنے مرض الموت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کی زبان مبارک سے حضور ﷺ کی وفات کے واقعہ اور کفن دفن و یوم وفات کا ذکر درحقیقت اپنی وفات کے صدمہ پر صبر و تسلی کی تلقین کے ساتھ اپنی تجہیز و تکفین وغیرہ میں حضور ﷺ کی موافقت و اتباع اور محبت کا اظہار تھا کہ میری وفات بھی یومِ اثنین کو ہو اور کفن بھی تین کپڑوں میں حضور ﷺ کی موافقت و متابعت میں ہو اسی لیے تو فرمایا کہ یہ قمیص دھو لو اور کفن میں دو کپڑے اور بھی شامل کر لینا ۔ تو درِ حقیقت مقصد یہ تھا کہ حضورﷺ سیدہ عائشہؓ سے سوال کر کے اپنے کفن دفن کے معاملہ میں پوری یادداشت سے حضور ﷺ کا اتباع و موافقت کرانا مقصود تھا تا کہ اتباع و موافقت نبوی ﷺ میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اگر حضورﷺکے یومِ وفات اور کفن کے متعلق غیر حاضری کی وجہ سے سیدنا صدیق اکبرؓ کو دریافت کرنا ہوتا تو وہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد ہی ابتدائی ہفتہ عشرہ میں اس قسم کی معلومات حاصل کرتے نہ کہ دو 2 سال گزر جانے کے بعد اپنے مرض الموت میں اس قسم کا سوال کرتے ۔
اب ان معروضات سے بخوبی یہ واضح ہو چکا کہ اہلِ سنّت و اہل تشیع دونوں فریق کی کتابوں سے بتصریح ثابت ہے کہ بیعت خلافت کا معاملہ تو سوموار کے دن تھوڑے سے وقت میں طے پا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبيب رحمة للعالمین ﷺ کی غیر معمولی تربیت اور تزکیہ و تصفیہ کی برکت سے شاگردانِ رسولﷺ صحابہ کرامؓ کو انتشار و افتراق سے بچا کر متفقہ و متحدہ طور پر سب کو اپنے حبیب نبی کریمﷺ کے جنازہ و دفن میں شمولیت و شرکت کا شرف بخشا جس پر اہلسنّت کی کثیر و کافی کتابوں کے علاوہ شیعہ مذہب کی بھی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 52 اور مرآة العقول جلد1 صفحہ 371 کی روایاتِ معتبرہ شاہد ہیں کہ :۔
لم يبق احد من المهاجرين والانصار الا صلی علیہ۔
مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہا جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔
اب ایسی تصریح کے بعد کہ مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہا جو آنحضرت ﷺ کے جنازہ میں شریک نہ ہو بلکہ تمام کے تمام کو شمولیتِ جنازہ کا شرف حاصل ہوا۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اہلِ سقیفہ نے جنازہ نہ پڑھا۔ دوسرے انصار و مہاجرین نے پڑھا ،اب تک تو تمام صحابہ کرامؓ کا کہا جاتا تھا کہ سوائے سیدنا علیؓ اور چندان کے اہلِ بیت و خواص اوروں نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ چھوڑ دیا ۔
لهذا اب ان تصریحات کے بعد مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیئے بلکہ کُھلم کُھلا اور علانیہ کہنا چاہیے ما هذا الابهتان عظیم که صحابه کرامؓ پر یہ صریح بہتان عظیم ہے کہ وہ حضور ﷺ کے جنازہ میں شریک نہ ہوئے ۔ اللّٰہ تعالی تمام مسلمانوں کو حق بات سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔
وما توفیقی الّا باللّٰه
واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العٰلمين