جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 1 از 5

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم

 الحمد لله وكفىٰ والصلوٰة والسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء وعلىٰ اله واصحابه الاتقياء اما بعد

  جاں نثاری اور محبت کی داستانیں دنیا کی تاریخ میں عجیب غریب ملتی ہیں مگر جو عشق و محبت کا کمال شاگردانِ جناب رسولﷺ،صحابہ کرامؓ میں جاگزیں و دل نشیں ہوا اس کی نظیر و مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔وہ لوگ اپنی جان و مال، عزیز و اقارب دوست احباب ، گھر بار سب کچھ عشق و محبت رسولﷺ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت مضطرب و بے قرار رہتے تھے۔ جناب رسول اللہﷺ کے اشارے پر گردنیں کٹوانے کو فخر و عزت سمجھتے تھے۔ حُبّ رسول اللہ ﷺ میں اپنے بیوی بچے، جان و مال ، گھر بار دینے سے دریغ و گریز نہ کیا ۔ جہاں صحابہ کرامؓ کو خطرہ ہوا کہ دشمنوں کی طرف سے حضورﷺ کو کانٹا چبھے گا وہاں اپنی گردنیں اور سر کٹوا دیے مگر جناب رسول اللهﷺ کو کانٹا نہ چبھنے دیا ۔ ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں حضورﷺ کے گرد جمع رہے ، کسی وقت بھی آپﷺ کا مبارک و مقدس دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، تو ایسے جاں نثار و فادار لوگوں کے متعلق اس قسم کا گمان و وہم کیا جا سکتا ہے کہ ان حضراتِ صحابه کرامؓ نے جن کی جابجا قرآن مجید میں تعریف و توصیف کی گئی ہے اخیر وقت میں جناب رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر حضور ﷺ کے جنازے تک کو ترک کر دیا ۔ (العیاذ باللہ)

 سادہ لوح مسلمانوں میں اس قسم کا مکروہ پروپیگنڈہ اور بے بنیاد چرچا بعض خود غرض لوگ پھیلا کر ان کو پیشوایانِ دین و ائمه ہدیٰ و نجوم ہدایت کے حق میں بدظنی و بد گوئی پر آمادہ کر کے ان کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی اور ان کے دین وایمان اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے پیشِ نظر کتبِ معتبرہ سے ایسے حوالہ جات نقل کرتے ہیں جن سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد تمام مہاجرین و انصار نے آپ ﷺ کے جنازہ مبارک میں شرکت شمولیت کا شرف حاصل کیا اور یہ ان محبّانِ رسولﷺ پر صریح بہتان اور جھوٹ ہے کہ ان حضرات نے حصولِ خلافت و حکومت کے لیے حضورﷺ کا جنازہ چھوڑ دیا۔ حالانکہ کتب معتبرہ اہلِ سنّت و شیعہ سے صاف اور صریح طور پر ثابت ہے کہ تمام مہاجرین، تمام انصار اہل مدینہ و اطراف مدینہ کے مردوں عورتوں ، بوڑھوں بچوں سب نے حضور ﷺ کے جنازہ مبارکہ میں شرکت کی۔

لما كفن رسول الله ﷺ وضع على سريره دخل ابوبكر وعمر فقالا: السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته و معهما نفر من المهاجرين الانصار قدر ما يسع البيت فسلّموا کما سلّم ابو بكر وعمر وصفّوا صفوفًا لا يومهم علیہ احدٌ فقال ابو بكر و عمر وهما فی الصف الاول خيال رسول اللهﷺ اللهم انا نشهد انه قد بلغ ما انزل الیہ الخ......... ثم یخرجون ویدخل اٰخرون حتی صلوا علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان فلما فرغوا من الصلوٰۃ تکلموا فی موضع قبرہﷺ۔

(البدایہ والنہایہ مصنفہ علامہ ابن کثیر جلد خامس فصل کیفیتہ الصلوٰة علیہﷺصفحہ 265)

 جب رسول اللہﷺکو کفن مبارک پہنا کر چارپائی پر رکھا گیا تو صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ حجرۂ مبارکہ میں داخل ہوئے اور السلام عليك ايها النبی ورحمة اللہ و برکاتہ پڑھا اور ان دونوں حضرات کے ساتھ اتنے مہاجرین وانصار بھی داخل ہوئے جتنے کہ حجرۂ مبارکہ میں سما سکتے تھے۔ ان سب نے صدیقؓ و فاروقؓ کی طرح حضور ﷺ پر سلام پڑھا اور صفیں باندھیں اور حضور ﷺ کے جنازہ پر امام کوئی نہ تھا اور ابوبکرؓ و عمرؓ پہلی صف میں حضور ﷺ کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے پڑھ رہے تھے اللهم انا نشهد الخ. ثم پھر اسی طرح باقی لوگ جنازہ کے لیے حجرۂ مبارکہ سے نکلتے اور داخل ہوتے رہے حتّٰی کے آپ ﷺ پر مردوں نے نماز جنازہ پڑھ لیا پھر عورتوں نے پھر بچوں نے پڑھا پس جب سب لوگ جنازہ سے فارغ ہوگئے تو صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کے مقامِ قبر مبارک کے متعلق بات چیت کی ۔

 بعینہٖ حضور ﷺ کے جنازہ مبارک کی یہی کیفیت طبقات ابن سعد جزء پنجم صفحہ 290 ذکر الصلوٰۃ علیٰ رسول الله ﷺ پر مذکور و ثابت ہے ۔

 نيز سيرة حلبيه جلد سوم صفحہ 394 پر یہ عبارت بعینہٖ موجود ہے

(2) شیعہ مذہب کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد 2 صفحہ 664 پر ہے :

 شیخ طبری از حضرت شیخ طبری نے امام محمد باقر روایت کردہ است کہ دہ وہ نفر داخل مے شد ند وچنیں برآں حضرت نماز مے کردندبے امامے درروز دوشنبہ وشنبہ تا صبح وروز سہ شنبہ تا شام تا آنکہ خورد وبزرگ مرد و زن از اہلِ مدینہ و اہلِ اطراف مدینہ ہمہ برآں جناب چنیں نماز کردند۔

 شیخ طبری نے امام باقر سے روایت کی ہے کہ دس دس آدمی حجرہ مبارکہ میں داخل ہوتے تھے اور اس طرح ( صلوٰۃ و سلام پڑھ کر) آنحضرتﷺ پر نماز جنازہ ادا کرتے رہے بغیر کسی امام کے سوموار کے دن اور منگل کی رات صبح تک اور منگل کے دن شام تک یہاں تک کہ سب چھوٹے بڑے مرد و عورت مدینہ اور اطرافِ مدینہ کے لوگوں نے اسی طرح آنحضرت ﷺ پر نمازِ جنازه ادا کی۔

 (3)_ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب حق الیقین فارسی جلد 1صفحہ 132 پر آنحضرت ﷺ کے جنازہ کے متعلق مرقوم ہے :۔

 و ایشاں صلوٰۃ می فرستادند ومی رفتند تا آنکہ مہاجران و انصار داخل شدند صلوات فرستادند

 اور یہ لوگ صلوٰۃ اور (درود و سلام) پڑھتے اور حجرۂ مبارکہ سے نکلتے رہے حتی کہ مہاجرین اور انصار داخل ہوئے اور صلوٰۃ و سلام پڑھا ۔

(4)_ اصول کافی شیعہ مذہب کی معتبر ترین کتاب کے صفحہ 286 پر مرقوم ہے :۔

 عن ابی جعفر علیہ السلام قال لما قبض رسول اللہﷺ صلت علیہ الملائکۃ والمھاجرون والانصار فوجاً فوجاً

امام محمد باقر علیه السلام نے بیان فرمایا جب جناب رسول اللهﷺ کا انتقال ہوا تو آپ پر ملائکہ اور تمام مہاجرین انصار نے گروہ در گروہ (صلوٰۃ وسلام) پڑھا۔

(5)مرأۃ العقول شیعہ مذہب کی معتبر کتاب کی جلد اول صفحہ 371 پر مرقوم ہے :-

 کہ دس دس مہاجرین اور انصار آنحضرت ﷺ کا جنازہ (صلوٰۃ و سلام) پڑھتے تھے اور باہر آتے تھے۔

حتى لم يبق احد من المهاجرين والانصار الا صلی علیہ

 یہاں تک که مهاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہ گیا کہ جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔

صفحہ 1 از 5