جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 5

ایسی واضح اور صریح روایات کے باوجود نہایت ہی حیرت کا مقام ہے کہ کس طرح صحابہ کرامؓ کی وفادارو جاں نثار جماعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات حضور ﷺکے جنازے پر نہ تھے۔

 (6) شیعہ کی کتاب حیات القلوب جلد 2 صفحہ 664 پر ہے:-

  و کلینی بسند معتبر ازامام محمد باقر روایت کرده است که چوں حضرت رسالت رحلت فرمود نماز کردند برو جمیع ملائکہ ومہاجران وانصار فوج فوج۔

کلینی نے نہایت معتبر سند کے ساتھ امام محمد باقر سے روایت نقل کی کہ جب حضرت

 رسالت ﷺ نے رحلت فرمائی تو آپ ﷺ کی نماز جنازہ سب فرشتوں اور مہاجروں اور انصار نے فوج فوج ہو کر پڑھی –

(7) ضمیمہ جات مقبول ترجمہ صفحہ450 پر آنحضرتﷺکے جنازے کے متعلق لکھا ہے :-

" جناب سردارِ دو عالم ﷺ نے وفات پائی تو جوق در جوق مهاجرین و انصار اور ملائکہ نے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجا"۔

 (8) شیعہ کی معتبر تفسیر صافی کے صفحہ 426 پر امام محمد باقر کا فرمان مذکور:-

 لما قبض النبی صلّت علیہ الملائکۃ و المہاجرون والانصار فوجا فوجا۔

آنحضرت ﷺ کی رحلت کے بعد فرشتوں اور مہاجرین و انصار نے فوج فوج ہو کہ آپ پر نمازِ جنازہ(صلوٰۃ و سلام)پڑھی۔

 (9) حیات القلوب جلد 2 صفحہ664 پر مہاجرین انصار کے متعلق ثابت ہے کہ یہ سب حضرات حضورﷺ کے جنازہ میں شامل ہوئے ۔

 و ایشاں برآں جناب صلوٰة مے فرستادند وبیروں نے رفتند تا آنکه همه مهاجران و انصار چنیں کردند۔

 اور یہ لوگ آنحضرت ﷺ پر صلوٰۃ بھیجتے اور حجرۂ مبارکہ سے باہر نکلتے تھے یہاں تک کہ سب کے سب مہاجرین انصار نے اس طرح جنازہ پڑھ لیا۔

(10) احتجاج طبرسی مطبوعه نجف اشرف صفحہ 52 پر آنحضرت ﷺ کے جنازے میں انصار و مہاجرین کی شرکت کے متعلق مرقوم ہے :-

 ثم ادخل عشرة من المهاجرين وعشرة من الانصار فيصلون ويخرجون حتّٰى لم يبق من المہاجرون و الانصار اکا صلی علیہ

 پھر سیدنا علیؓ نو دس دس مهاجرین اور انصار کو حجرۂ مبارکہ میں جنازہ کے لیے داخل کرتے رہے پس وہ لوگ نماز جنازہ پڑھتے اور نکلتے رہے۔

 یہاں تک کہ مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایسا نہ رہا جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔

 (11) شیعہ مجتهد علامہ باقر مجلسی نے اپنی مشہور کتاب جلاء العیون کے صفحہ36 پر بھی آنحضرتﷺ کے جنازے میں تمام مہاجرین انصار مردوں عورتوں، چھوٹوں بڑوں اہلِ مدینہ و اطرافِ مدینہ کی شمولیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :۔

تا آنکه خود و بزرگ مرو زن اهل مدینہ و اطراف مدینه همه برآن حضرت چنیں نماز کردند و کلینی بسند معتبر از حضرت امام محمد باقر روایت کردہ است کہ چوں حضرت رسالت رحلت فرموند نماز کر دند برو جمیع ملائکہ و مہاجرو انصار فوج فوج۔

یہاں تک کہ چھوٹے بڑے مردوں عوتوں سب اہلِ مدینہ اور اطرافِ مدینہ نے آنحضرت ﷺ پر اس طرح نماز جنازہ ادا کی اور کلینی نے امام محمد باقر سے نہایت معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جب حضرت رسالت مآب ﷺ نے رحلت فرمائی تو آپﷺ پر تمام ملائکہ اور مہاجرین انصار نے فوج فوج ہو کر نماز پڑھی ۔

اہلِ سنّت اور شیعہ حضرات کی اس قدر واضح اور معتبر روایات سے بخوبی ثابت ہے کہ مہاجرین اور انصار سارے کے سارے حتّٰی کہ ان کے بیوی بچے تک آنحضرت ﷺ کے جنازہ مبارک میں شریک ہوئے کوئی بھی غیر حاضر اور اس سعادت سے محروم نہ رہا۔ اب ایسی معتبر اور صحیح اور واضح روایات کی موجودگی میں تربیت یافتگان درسِ نبوی و نجوم هدایت و نمونہ اخلاق نبوت شاگردانِ رسول ﷺ صحابہ کرامؓ کے متعلق کیسے یہ فضول بے حقیقت بات کہی اور سنی جاسکتی ہے کہ جو حضرات سخت مشکل سے مشکل اوقات میں آنحضرت ﷺ پر پروانہ وار فدا اور قربان ہوتے رہے العیاذ باللہ انہوں نے اخیر وقت میں اُس محبوب ترین ہستی اپنے پیارے رسول اللہ ﷺ کا جنازہ تک نہیں پڑھا ۔

سوال : اگر تمام مہاجرین و انصار آنحضرتﷺ کے جنازے پر موجود تھے تو پھر آپﷺ کا جنازہ دو دن تک کیوں رکھا رہا؟

 جواب:- روایات اہلِ سنّت وشیعہ میں واضح طور پر موجود ہے کہ چونکہ امام الانبیاء علیہم السلام کا جنازہ تھا جس پر ہزاروں کی تعداد مردوں عورتوں، بوڑھوں بچوں کی بوجہ اپنے عشق و محبت کے موجود تھی اور آنحضرت ﷺ کا جنازہ حجرۂ مبارکہ سے باہر نکالنا مصلحت نہ سمجھی گئی اس وجہ سے دس دس آدمی باری باری داخلِ حجرۂ ہوتے رہے جس کے باعث دو 2 دن تک تاخیر ہوئی ۔

جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب جلاء العیون صفحہ36 اور حیات القلوب جلد دوم صفحہ 664 پر لکھا ہے :-

از حضرت امام محمد باقر روایت کرده است کہ ده ده نفر داخل مے شدند و برآں حضرت نمازمی کردند بے امامے ورروزو و شنبہ وشب سہ شنبہ تاصبح روز

سہ شنبہ تا شام تا آنکه خورد و بزرگ مردوزن اھل مدینه و اطراف مدینه ہمہ بر آنخضرت چنین نماز کردند –

  امام محمد باقر سے روایت کی ہے کے دس دس آدمی حجرۂ مبارک میں داخل ہوتے تھے اور امام کے بغیر آنحضرتﷺ کی نمازجنازہ اداکرتے تھے سوموار کے دن اور منگل کی رات صبح تک اور منگل کے دن شام تک جنازہ ہوتا یہاں تک کہ سب چھوٹے بڑے مردوں عورتوں اور اہلِ مدینه و اطرافِ مدینه سب لوگوں نے اسی طرح جنازہ پڑھا۔

 اہلِ سنّت کی معتبر کتاب البدایہ النہایہ جلد 5 صفحہ 265 پر مرقوم ہے :-

قد قيل انهم صلوا علیہ من بعد الزوال يوم الاثنين الى مثله من يوم الثلثاء –

تحقیق بیان کیا گیا کہ لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی سوموار کے دن کے بعد نماز جنازہ شروع کی اور اسی طرح منگل کے دن تک ادا کرتے رہے

یہ روایات واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے عشق و محبت کی وجہ سے متواتر پورے دو دن رات صبح و شام آنحضرت ﷺ کے جنازے پر مہاجرین وانصار کے مردوں عورتوں، بچوں کا ازدحام رہا جس کی وجہ سے جنازہ دو دن تک بصد مشکل پورا ہو سکا۔مخفی نہ رہے کہ اس دیر و تاخیر کے باعث عام اموات کی طرح آنحضرتﷺ کے جسم اقدس و اطہر میں کسی قسم کے تغیر کا اندیشہ نہ تھا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ تو قبروں میں قیامت تک محفوظ ہیں ۔ قرآن مجید میں موجود ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا وجود مسعود عبادت خانہ میں بہت دنوں تک رہا۔ مگر کسی قسم کا ذرا بھی تغیر نہ ہوا۔

صفحہ 2 از 5