جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 4 از 5

 ناظرینِ کرام! آپ پر بخوبی واضح ہوگیا کہ سیدنا صدیق اکبرؓ اور تمام صحابہ کرامؓ ،مہاجرین ،انصار اور ان کے بیوی بچے سب کے سب جنازہ رسول اکرم ﷺ پرحاضر تھے اور سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ توصفِ اول میں حضور ﷺ کے جنازہ پر موجود حاضر تھے۔ تو یہ کتنا صریح جھوٹ و بہتان ہے کہ یہ حضرات خلافت حاصل کرنے میں مشغول رہے اور جنازہ میں حاضر نہ ہوئے۔ اور یہ بھی بخوبی واضح ہو گیا کہ تقدیم امر خلافت نہایت ضروری تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑے سے وقت میں ہی اپنی قدرت کاملہ سے مکمل فرما کر تمام صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کو تجہیز و تدفین اور جنازہ رسول کریمﷺ میں شمولیت کا شرف بخشاء یہ حقیقت بھی مخفی نہ رہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب صحیح بخاری شریف میں ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضورﷺ کی رحلت کے وقت آئے اور رسول اللہﷺ کے گھر مبارک حجرۂ عائشہ صدیقہؓ میں داخل ہوئے اور :

 فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله ثم اكب علیہ فقبلہ ثم بکیٰ

 حضورﷺکے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا ، پھر جھک کر آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور پھر غم سے آنسو بہائے۔

 پھر وہاں سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور صحابہ کرامؓ میں حضور ﷺ کی وفات کے متعلق اختلاف دیکھ کہ یہ مشہور و معروف خطبہ دیا:

 فقال اما بعد فمن كان يعبد محمداً فان محمداً قدمات ومن كان يعبد الله فان الله حی لا يموت قال الله عز وجل وما محمد الارسول قد خلت من قبله الرسل الی الشٰكرين – (بخاری شریف جلد اول کتاب الجنائز باب الدخول على الميت بعد الموت اذا ادرج فی اکفانه) بخاری شریف کی اس صحیح اور صاف و صریح روایت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کی وفات پر نہایت مغموم ہو کر حضورﷺ کو بوسہ دیا،اور وفات کے متعلق اہم امور کا سمجھنا سمجھانا سیدنا صدیق اکبرؓ نے کیا اور اس اثناء میں سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ اطلاع ملنے پر اتفاق و اتحاد امت کی غرض سے مجمع انصار میں سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے اور تھوڑے سے وقت میں خلافت و بیعت کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا اور فوراً واپس آکر حضورﷺ کے کفن و دفن اور جنازہ وغیرہ کا انتظام مکمل کیا جس کی (تصریحات البداية والنهاية ،طبقات ابن سعد،سیرت حلبیه) وغیرہ کتب اہلِ سنّت سے بڑھ کر شیعہ حضرات کی متعدد کتابیں کرتی ہیں کہ جس وقت سیدنا علیؓ حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے اس وقت صدیق اکبرؓ اور صحابہ کرامؓ سقیفہ سے واپس آکر مسجد نبوی میں موجود تھے جس کے متعلق شیعوں کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد دوم صفحہ 664، ومرآة العقول صفحہ 371 ،واحتجاج طبرسی 52 کے حوالہ جات گزرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں فروع کافی کتاب الروضہ صفحہ 159 پر ہے:

 قال سلمان فاتیت علیا علیہ السلام وھو یغتسل رسول اللہ ﷺ فاخبرتہ بما صنع الناس وقلت ان ابابکر الساعۃ علیٰ منبر رسول اللہ ﷺ

 سلمان کہتے ہیں پس میں حضرت علی علیہ السّلام کی خدمت میں آیا وہ اس وقت حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے تو میں نے خبر دی کہ لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنا لیا ہے اور اب وہ منبرِ رسول ﷺپر ہے۔

شیعہ مذہب کی یہ روایات نہایت ہی معتبر اور مؤثق ہیں۔ حیات القلوب میں تو روایت کی ابتداء ہی میں لکھا ہے :۔

کلینی بسند معتبر از حضرت امام محمد باقر روایت کرده است الخ

 تفسیر صافی اور احتجاج طبرسی اور مرآة العقول کی روایتوں میں تو کسی کو کلام نہیں ہو سکتا کیونکہ شیعہ مذہب کی یہ نہایت معتبر و مسلمہ کتابیں ہیں جن پر سارے شیعہ مذہب کا دار و مدار ہے۔ محمد بن یعقوب کلینی کی اصول کافی و فروع کافی تو ایسی کتابیں ہیں جن کے صفحہ اول پر امام مہدی نے و مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے :-

 قال امام العصر حجة الله المنتظر هذا كاف لشيعتنا۔

امام مہدی نے فرمایا یہ کتاب میں ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہیں۔

شاید اسی لیے ان کا نام بھی کافی رکھا گیا ہے ۔

تو ایسی معتبر کتابوں کی روایت کے بعد کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ یہ روایتیں ضعیف ہیں۔ اگر ضعیف ہوتیں تو امام معصوم ان کو نکال دیتے نہ کہ هذا كاف لشيعتنا فرماتے۔

بخاری شریف، البداية والنهاية ، طبقات ابن سعد، تاریخ وسیر کی دیگر کتب اہلِ سنّت اور اہلِ تشیع کی اصول کافی و فروع کافی ، مراة العقول ،احتجاج طبرسی، تفسیر صافی، حیات القلوب جلاء العیون کی روایات معتبرہ سے بخوبی حسبِ ذیل امور ثابت ہیں کہ تمام مہاجرین و انصار مرد و زن اہلِ مدینہ و اطراف مدینہ کے بوڑھوں، بچوں تک سب حضور اقدسﷺ کے جنازے میں شامل ہوئے اور سیدنا صدیق اکبرؓ نہایت مغموم ہو کر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر بوسہ دیا اور اس وقت صحابہ کرامؓ کے مجمع میں آکر مسجد نبوی میں مشہور و معروف خطبہ دیا اور اسی روز ان کے ہاتھ پر محض اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ سے بیعت ہوئی اور جس وقت سیدنا علیؓ حضور ﷺ کو غسل دے رہے تھے۔ اس وقت سیدنا ابوبكر صدیقؓ بمعہ دیگر صحابہ کرامؓ کے مسجد نبوی میں موجود تھے۔ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنازہ رسول ﷺ کی پہلی صف میں موجود تھے ۔ ان صحیح اور معتبر روایات کی موجودگی میں اس قسم کی ضعیف و شاذ کوئی روایت کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے جس میں لکھا ہو کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنازہ ودفن میں موجود نہ تھے جیسے کہ کنز العمال کی روایت ہشام بن عروہ سے نقل کی جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ حضور ﷺ کے دفن کے بعد لوٹے ، حالانکہ ہشام تو عروہ کا بیٹا ہے خود عروہ کی ولادت سیدنا عمرؓ کی خلافت کے اخیر میں یا سیدنا عثمانؓ کی خلافت کی ابتداء میں ہوئی تذکرة الحفاظ جلد 1 صفحہ 59 تهذیب ،جلد7، صفحہ183، 184 لہٰذا اس واقعہ میں خود عروہ کی موجودگی محال ہے چہ جائیکہ ہشام اس کا بیٹا موجود ہو۔بہرحال یہ روایت منقطع اور غیر معتبر ہے جب کہ یہ روایت اسنادًا منقطع ہے اور متناً شاذ ھے تو روایاتِ مسندہ صحیحہ کے مقابلہ میں مردود ہے۔

صفحہ 4 از 5