جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 5 از 5

 باقی صحیح بخاری شریف جلد اول کتاب الجنائز باب موت يوم الاثنین کی اُس روایت کے متعلق کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے مرض الموت میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے سوال کیا کہ حضور ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا اور حضور ﷺ کی کس روز وفات ہوئی تھی اس سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو کفن اور یومِ وفات کا علم نہ تھا اس لیے کہ وہ موجود نہ تھے کیونکہ صحیح و صریح روایات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اسی روز ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئی، اسی روز انہوں نے حضور ﷺ کے چہرہ انور کو بوسہ دیا اسی روز خطبہ دے کر صحابہ کرامؓ کو وفات رسولﷺ کا مسئلہ سمجھایا اور امت کو انتشار و افتراق سے بچایا تو یقیناً سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو وفات کے دن کا تو پورا پورا علم تھا۔ اب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اس سوال کا مقصد اسی قسم کا ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا مَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسیٰ اے موسیٰ ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ یا قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاُمِیَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ (اے عیسٰی کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو ) ۔

یا جس طرح بخاری شریف جلد اول کتاب الحج باب خطبہ ایام منیٰ میں ہے۔

حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ سے سوال کیا :-

 ای يوم هذا۔ قالوا یوم حرام قال فٰای بلد هذا قالوا بلد حرام قال فٰای شهر هذا قالوا شهر حرام

 یہ کون سا دن ہے؟صحابہؓ نے عرض کیا یہ حرمت کا دن ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟عرض کیا یہ شہرِ حرمت ہے۔فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ؟ عرض کیا یہ ماہِ حرمت ہے،

 تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول ﷺ کے یہ سوالات بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسری حکمتوں اور مقاصد کے لیے ہیں اسی طرح سیدنا

 ابوبکرصدیقؓ کا اپنے مرض الموت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کی زبان مبارک سے حضور ﷺ کی وفات کے واقعہ اور کفن دفن و یوم وفات کا ذکر درحقیقت اپنی وفات کے صدمہ پر صبر و تسلی کی تلقین کے ساتھ اپنی تجہیز و تکفین وغیرہ میں حضور ﷺ کی موافقت و اتباع اور محبت کا اظہار تھا کہ میری وفات بھی یومِ اثنین کو ہو اور کفن بھی تین کپڑوں میں حضور ﷺ کی موافقت و متابعت میں ہو اسی لیے تو فرمایا کہ یہ قمیص دھو لو اور کفن میں دو کپڑے اور بھی شامل کر لینا ۔ تو درِ حقیقت مقصد یہ تھا کہ حضورﷺ سیدہ عائشہؓ سے سوال کر کے اپنے کفن دفن کے معاملہ میں پوری یادداشت سے حضور ﷺ کا اتباع و موافقت کرانا مقصود تھا تا کہ اتباع و موافقت نبوی ﷺ میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اگر حضورﷺکے یومِ وفات اور کفن کے متعلق غیر حاضری کی وجہ سے سیدنا صدیق اکبرؓ کو دریافت کرنا ہوتا تو وہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد ہی ابتدائی ہفتہ عشرہ میں اس قسم کی معلومات حاصل کرتے نہ کہ دو 2 سال گزر جانے کے بعد اپنے مرض الموت میں اس قسم کا سوال کرتے ۔

اب ان معروضات سے بخوبی یہ واضح ہو چکا کہ اہلِ سنّت و اہل تشیع دونوں فریق کی کتابوں سے بتصریح ثابت ہے کہ بیعت خلافت کا معاملہ تو سوموار کے دن تھوڑے سے وقت میں طے پا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبيب رحمة للعالمین ﷺ کی غیر معمولی تربیت اور تزکیہ و تصفیہ کی برکت سے شاگردانِ رسولﷺ صحابہ کرامؓ کو انتشار و افتراق سے بچا کر متفقہ و متحدہ طور پر سب کو اپنے حبیب نبی کریمﷺ کے جنازہ و دفن میں شمولیت و شرکت کا شرف بخشا جس پر اہلسنّت کی کثیر و کافی کتابوں کے علاوہ شیعہ مذہب کی بھی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 52 اور مرآة العقول جلد1 صفحہ 371 کی روایاتِ معتبرہ شاہد ہیں کہ :۔

لم يبق احد من المهاجرين والانصار الا صلی علیہ۔

مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہا جس نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ نہ پڑھا ہو۔

 اب ایسی تصریح کے بعد کہ مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہا جو آنحضرت ﷺ کے جنازہ میں شریک نہ ہو بلکہ تمام کے تمام کو شمولیتِ جنازہ کا شرف حاصل ہوا۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اہلِ سقیفہ نے جنازہ نہ پڑھا۔ دوسرے انصار و مہاجرین نے پڑھا ،اب تک تو تمام صحابہ کرامؓ کا کہا جاتا تھا کہ سوائے سیدنا علیؓ اور چندان کے اہلِ بیت و خواص اوروں نے آنحضرت ﷺ کا جنازہ چھوڑ دیا ۔

 لهذا اب ان تصریحات کے بعد مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیئے بلکہ کُھلم کُھلا اور علانیہ کہنا چاہیے ما هذا الابهتان عظیم که صحابه کرامؓ پر یہ صریح بہتان عظیم ہے کہ وہ حضور ﷺ کے جنازہ میں شریک نہ ہوئے ۔ اللّٰہ تعالی تمام مسلمانوں کو حق بات سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔

 وما توفیقی الّا باللّٰه

 واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العٰلمين



صفحہ 5 از 5