شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 1 از 13

شیعوں کی شروع سے قرآن و سُنّت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

                    قارئین کرام

اسلامی تاریخ کی یہ انتہائی دردناک حقیقت ہے کہ ابتداء سے لیکر آج تک ہر دور میں مسلمانوں کے مابین انتشار پیدا کرنے، انتہائی گہری اور مخفی سازشوں سے مسلم حکومتوں کو کمزور کرنے اور ان کے خلاف غیر مسلم حکومتوں اور اقوام کو اکسانے، مسلمانوں کی فتوحات کے سلسلہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، مختلف اقسام کے فتنے پھیلانے، نیز موقعہ ملنے پر خود مسلمانوں کا بےدردی سے خون بہانے کے سلسلہ میں شیعہ حضرات پیش پیش رہے ہیں اور ان کا ہر دور مقصد صرف یہ رہا ہے کہ قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں کو کسطرح نیست و نابود کیا جائے۔چنانچہ موقع ملنے پر ان کا کردار اتنا معاندانہ رہا ہے کہ خود غیر مسلم مؤرخوں کو بھی اس پر تعجب ہے، انکی اسلام دشمنی کی تاریخ اتنی طویل ہے کہ اس لیے لئے ایک ضخیم کتاب لکھنے کی ضرورت ہے اللہ کرے کہ کوئی اہل محقق یہ علمی کام انجام دے مجھے یہاں پر چند واقعات کے ذریعہ کچھ مثالیں پیش کرنی ہیں امید ہے کہ عام مسلمانوں کو یہ آسانی سے یہ اندازہ ہو جائے گا شیعہ مذہب کے بانی عبداللہ بن سبا یہودی سے لیکر دورِ حاضر کے مشہور شیعہ اثنا عشریہ کے امام زمان کے قائم مقام سیاسی اور مذہبی رہنما خمینی تک اسلام اور مسلم دشمنی کا مسلسل اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے جو کہ بغیر کسی وقفہ سے جاری رہا ہے

                      ابتدائی دور

یہ تو ہر ایک کو بخوبی معلوم ہے کہ خلافت راشدہ کے دور میں عرب سے باہر اسلامی فتوحات اور اشاعت اسلام کا سلسلہ تیزی سے جاری تھا۔حضرت عثمانؓ کے دور خلافت کے ابتدائی 6 سال کے عرصہ تک مشرق میں مکران سے لیکر مغرب میں الجزائر تک ایک وسیع اسلامی سلطنت معرض وجود میں آگئی تھی اور عساکرِ اسلام کے کتنے ہی قافلے فتوحات کے اس سلسلہ میں کامیابی سے چاروں طرف بڑھ رہے تھے تو اسی وقت ایک مشہور اسلام دشمن عبداللہ بن سبا یہودی محبت اہل بیت کے حسین نعرہ کی آڑ لےکر شیعیت کی بنیادیں مضبوط کرکے امتِ مسلمہ کو ایسے فتنوں اور داخلی انتشار میں مبتلا کر گیا کہ خلیفہ راشد اور پوری قوم اس فتنہ کی سرکوبی میں لگ گئے اور فتوحات کا یہ عظیم سلسلہ پندرہ برس تک بالکل بند رہا یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہؓ کے دور خلافت میں امن بحال ہوا اور پھر یہ فتوحات کا نیا سال سفر شروع ہوا یہ بات تاریخ کا ہر طالب علم جانتا یے کہ اگر یہ سلسلہ پندرہ برس تک بند نہ رہتا یورپ اور افریقہ کے بہت سارے ممالک اسلامی حکومت کے جھنڈے کے نیچے آجاتے،اموی دورِخلافت میں یہ فتوحات کا سلسلہ اگرچہ شروع ہو گیا تھا لیکن شیعوں کی طرف سے ہر قسم کی رکاوٹیں اور داخلی انتشار پیدا کرنے کے لئے برابر مکروفریب کے حربے جاری رہے.

                    عباسیہ دور خلافت

تیسری صدی ہجری کے آخر سے لیکر ساتویں صدی ہجری تک کے دور میں شیعوں میں دو انتہا پسند گروہ قرامطہ اور باطنیہ پیدا ہوئے ان قرامطیوں اور باطنیوں نے مسلم دشمنی کے ایسے علی الاعلان مظاہرے کئے اور مسلمانوں کو ایسا ستایا کہ ان کی تفصیل پڑھتے ہوئے مسلمان تو اپنی جگہ پر غیر مسلم مؤرخین کے سینوں سے بھی آہیں نکل جاتی ہیں یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ انکی اس وحشت اور بربریت کا نشانہ صرف سنی مسلمان تھے باقی ان کے علاقے کے غیر مسلم یہودی اور نصرانی ہر قسم کے سکون اور حفاظت میں رہے، ان کی بربریت کی داستانوں میں سے چند مثالیں یہاں پیش کی جاتی ہیں.

شام کے ممتاز عالم اور مورخ شیخ عبدالرحمن المیدانی نے ان کی مسلم کشی کا تاریخ وار تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے اسکا خالصہ پیش خدمت ہے:

یحییٰ قرامطی نے 290ھ کو دمشق کا محاصرہ کیا اور کتنے ہی مسلمانوں کو قتل کر دیا اور اسکے بھائی حسین شام کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں قتل عام کیا جس میں اس نے بچوں اور جانوروں کو بھی نہیں بخشا.

ذکرویہ بن مہرویہ نے 294ھ میں خراسان کے حاجیوں کے قافلہ کو قتل کیا اور راستہ کے تمام کنویں بند کر دئیے اور اسی سال تقریباً 20 ہزار حجاج قتل کئے گئے۔حاجیوں کو قتل کرنا قرامطیوں کی خاص عادت تھی. ان میں خاص کر ایران، عراق اور بحرین کے شیعہ مشہور تھے.

 ابو طاہر قرامطی نے 391ھ میں کوفہ میں قتل عام کیا۔498ھ میں ھندوستان اور خراسان کے حاجیوں کے قافلوں ک باطنیوں نے رے میں قتل کیا اور پھر553ھ میں باطنیوں نے خراسانی حاجیوں کا قتل عام کیا۔

تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ یہ قتل عام بڑا تھا کہ اسلامی شہروں میں کوئی ایسا شہر نہیں تھا جہاں حاجیوں کے اس قتل عام پر احتجاج نہ ہوا ہو قدیم مؤرخین میں سےعلامہ حافظ شمس الدین ذہبی اپنی مشہور کتابمنہاج السنتہ میں علامہ ابن خلدون اپنی تاریخ ابن خلدون میں علامہ ابن کثیراپنی شہرہ آفاق تصنیفالبدایہ والنہایہ میں اور دور جدید کے مصری مورخ استاذ ابوزہرہ نے اپنی کتاب مذاہب اسلامیہ میں باطنی اور قرامطی

شیعوں کے ایسے لرزا دینے والے واقعات بیان کئے ہیں جن کے مطالعہ سے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا کہ ایک مسلمان کہلانے والے طبقہ نے دوسرے مسلمانوں پر کیونکر یہ ظلم کیا ہو گا، یا کن اسباب کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟

لیکن حقیقت وہی ہے جو پیش کرنی پڑتی ہے اب جبکہ ایسے واقعات بیشمار ہیں کہ ذکر کرنے کی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے لہذا ان میں سے 317ھ میں حرم شریف میں نہایت توھین آمیز اور المناک واقعہ پیش آیا تھا اسکو یہاں بطور اختتام پیش کرتا ہوں اس واقعہ کو علامہ ابن خلدون، احمد امینؒ، حافظ ابن کثیرؒ اور علامہ ابن اثیرؒ وغیرہ نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے

 ہم حافظ ابن اثیرؒکا تحریر کردہ واقعہ پیش کرتا ہوں چنانچہ یہ لکھتے ہیں......

317ھ منصور دیلمی نے اپنی ساتھیوں کے ساتھ حج کیا یہ بغداد سے مکہ مکرمہ پہنچا راستہ میں امن رہا مگر مکہ مکرمہ پر یوم الترویہ (8ذی الحجہ) کو ابو طاہر قرامطی شیعہ نے حملہ کیا

صفحہ 1 از 13