شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 11 از 13

عالی مرتبت جناب شاہ خالد بن عبدالعزيز فرمان روائے مملکت سعودی عرب آپ کا خط موصول ہوا جدہ میں واقع جمہوریہ اسلامیہ ایرانیہ کے سفارت خانے نے جو بات کہی تھی وہ بالکل بجا تھی میرا یقین ہے کہ، مسلمان جن مشکلات سے دو چار ہوئے اور اسلامی حکومتیں جن مشکلات سے دو چار ہوئیں اس کا واحد سبب خود ان کا آپس کے اختلافات اور ان کا منافقانہ طرزِ عمل ہے جو ہر طرف چھایا ہوا ہے خدا تعالیٰ نے ان اسلامی سلطنتوں کو کروڑوں باشندوں اور لامحدود اسباب و اموال ساتھ جن میں سرِفہرست تیل کے وہ چشمے ہیں جن سے بڑا طاقتوں کی رگوں میں آب حیات سپلائی ہورہا ہے قرآن کی دولت سے اور نبیﷺ کی تعلیمات سے سرفراز کیا جو عبادت اور سیاست دونوں شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں اور جو مسلمانوں کو ہمیشہ اس طرف توجہ دلاتی رہتی ہیں کہ خدا کی رسی کو تھامے رہیں اور اختلاف و افتراق سے دور رہیں،حرمین شریفین کو جائے پناہ کی حیثیت دی گئی چنانچہ یہی حرمین شریفین عبادت اور اسلامی سیاست کا مرکز ہے عہدِ رسالت میں یہیں سے فتح و نصرت کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی تھی اور سیاسی طرز عمل(پالیسی)کے فیصلے ہوتے تھےآپ کےاس دنیا فانی سے رحلت فرمانے کے بعد بھی ایک طویل زمانہ تک حرمین میں یہی صورت باقی رہی لیکن کیا کہا جائے غلط فہمیاں بڑی طاقتوں کے اغراض اور ان کے زبردست پروپیگنڈوں نے سیاسی اور اجتماعی معاملات میں شرکت کو جو حرمین کے اندر مسلمانوں کے اہم فرائض میں سے ہے ایک ایسا جرم بنا دیا ہے جسکی وجہ سے سعودی پولیس مسجد حرام کی بےحرمتی پر اترنے لگی جس میں ہر شخص کو پناہ ملنی چاہیے حتیٰ کہ قرآن کی رو سے قانوں شکنوں کو بھی اس کے حدود میں چھیڑا نہیں جا سکتا غرص اس جرم میں سعودی پولیس نے مسلمانوں کو جوتوں اور ہتھیاروں سے زدوکوب کیا اور جیل میں ڈال دیا کیا دشمنانِ خدا اور رسول اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ان لوگوں کا آواز لگانا کوئی جرم تھا؟ میں نہیں جانتا کہ آیا آپ کے ملک اور بالخصوص حرمین شریفین میں پیش آنے والے واقعات کی صحیح صحیح رپورٹ آپ تک پہنچی ہے یا ہر جگہ لگائے جانے والے ایرانی نعروں کے سلسلہ جو غلط غلط رپورٹیں آپ تک پہنچی ہیں اور آپ نے انھیں پر اعتماد کیا ہے؟میں نہیں سمجھ سکا کہ علماء حرمین شریفیں نے اسلام اور حج جیسی عبادت کو کیا سمجھ رکھا ہے جس کے روئیں روئیں میں سیاست رچی بسی ہے حالانکہ اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ عدل و انصاف قائم کرے ظلم و ذیادتی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکے تمام انبیاء اکرامؑ اور بالخصوص نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیﷺ کا یہی مشن تھا علماء حرمین اس بارے میں کیا سمجھ رہے ہیں جو حجاج پر سیاست میں حصہ لینے سے متعلق پابندی اسلام کا نام لیکر عائد کررہے ہیں یہاں تک اسرائیل اور امریکہ کے خلاف آواز لگانا ممنوع قرار دے رہے ہیں؟ یہ رویہ منہج نبوت و صدر اول کے مسلمانوں کے طرزِ عمل دونوں سے متعارض ہے اور یہ طرزِ عمل شعوری غیرشعوری طور پر غیروں کے لئے اسلامی سلطنتوں پرجن میں حرمین داخل ہیں جو وحی و ملائکہ کے نزول کا مرکز ہیں تسلط کی راہ ہموار کررہا ہے حکومتِ حجاز اگر حج کی حقیقت کو سمجھ لے اور اس کے سیاسی اور عبادتیں دونوں مقاصد سے آشنا ہو جائے اور اس میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد کی طاقت اور وزن کا اندازہ کر لے تو پھر امریکہ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ رہے نہ اور اواکس طیاروں کی حاجت اور نہ بڑی طاقتوں کا سہارا تلاش کرنے کی فکر رہے بلکہ مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل ممکن ہے ہوجائے ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ نے اپنے اور اسرائیل کے مفاد کے پیش نظر ہی اپنے کچھ جہاز سعودی حکومت کے استعمال میں دے رکھے ہیں یہ بات ہم نے اس وقت محسوس کر لی تھی جب اواکس طیاروں نے ایران اور اسکے عرب دوستوں کے درمیان تفرقہ اندازی کی غرص سے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے راڈار نے کویت کے تیل کے چشموں پر ایرانی بمباری ریکارڈ کی تھی افسوس اس پر ہوتا ہے کہ اسلامی سلطنتیں تجاھل اور بےخبری کا اس درجہ شکار ہیں کہ دیگر بڑی اسلام دشمن طاقتوں کو مسلمانوں کو سیاسی اسٹیج سے اور خود اپنے معاملات کی فکر سے دور رکھنے کے لئے سب کچھ کرنے کا موقع ملا ہوا نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ درباری علماء خود سیاست کے مرکز اسلامی سیاست کے مرکز کے اندر مسلمانوں کو اس بنا پر مجرم ٹھہرا رہے کہ انہوں نے دشمنانِ اسلام کے خلاف مردہ باد کا نعرہ لگایا تھا اسی بات پر انھیں جیل کی سزا دی گئی اور ستایا بھی گیا حرمین شریفین(بیت اللہ الامین اور مقامِ رسول کریمﷺ) میں واقع ہونے والے یہ المناک واقعات آپ کے علم میں آئے بھی؟ یا ابھی غلط سلط باتیں آپ تک پہنچتی رہی ہیں جیسا کہ نعروں سے صاف ظاہر ہے محض قادر مطلق پر اعتماد کرتے ہوئے ہم نے انقلاب برپا کیا ہے مقصد صرف یہ ہے کہ ہم پھر سے ایک مرتبہ علم توحید کے نیچے اکٹھا ہو جائیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ مسلم ممالک پر سے بڑی طاقتوں کا تسلط ہم ختم کرسکیں اور مسلمان عوام پر ظالم کافروں کےظلم وستم کا سلسلہ بند ہو اور امت کی اس عظمتِ رفتہ کو پھر سے واپس دلایا جائے جو صدر اسلام میں اسے حاصل تھی ہمیں امید ہے کہ اسلامی حکومتیں ہمارے ساتھ پورا تعاون کریں گی بالخصوص حکومت حجاز جو اسلامی سیاست کے مرکز میں واقع ہے تاکہ ہر حکومت کو اس کے عوام کی پھرپور تائید حاصل ہو سکے اور وہ بھی ایران کو جمہوری حکومت کی طرح آسمانی برکات سے بہرہ ور ہوں اور سب باہم اتحاد تعاون کے رشتہ میں مربوط ہوں اور کافروں اور بین الاقوامی بدنیتوں کے مقابلہ میں سخت رویہ اختیار کریں آخر میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ آپ کے مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے آپ تک جو رپورٹ پہنچی وہ نہایت غلط اور بے بنیاد ہے چنانچہ آپ کے اس بیان میں جس میں آپ نے ایرانی حجاج کو مجرم ٹھہرایا ہے یہ ذکر ہے کہ ان کے نعروں سے دنیائے اسلام کے تمام حجاج کو سخت ناگواری ہوئی اگر آپ کے پاس رپورٹنگ کرنے والے کچھ امانت دار اشخاص موجود ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ حجاج میں ناگواری پیدا کرنے کا سبب وہ نعرے نہیں تھے اسرائیل و امریکہ کے خلاف بلند کئے گئے تھے. لکہ ان کی برانگیختگی کا سبب اللہ کے مہمانوں اور روضہ اطہر کی زیارت کرنے والوں پر سعودی ذمہ داروں کی ظلم و زیادتی اور اسرائیل و امریکہ کی مرگ کا نعرہ لگانے پر ان کی گرفتاری تھی خدائے قدیر وبرتر سے دعاگو ہوں کہ وہ مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدارکرے،اسلام کی عظمت وحرمت میں روز افزوں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اور بالخصوص سربراہان حکومت کو وہ راہ دکھائے جو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں باعث خیر ہو۔

صفحہ 11 از 13