شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 12 از 13

والسلام علیکم وعلی اجمیع المسلمین

روح اللہ الموسوی الخمینی

13 ذی الحجہ 1401

1981-10-11

آخر میں ماہنامہ الفرقان لکھنؤ بابت مارچ اپریل 1987ء اور اقراء ڈائجسٹ کراچی میں سے چند نکات پیش کرتا ہوں:

1):- ایرانی انقلاب کے بعد ایران کے نئے دستور اہلِ سنت مسلمانوں کو غیر مسلم اقلیت میں رکھا گیا ہے اور سنی مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے(ڈائجسٹ 47)

2):- ایران اور اسرائیل کا خفیہ رابطہ اسرائیل کے فوجی ماہرین ایران میں ذمین سے مار کرنے والے میزائیلوں کی تیاری میں ایرانی حکام کی رہنمائی کررہے ہیں۔(روزنامہ جنگ کراچی 4 ستمبر 1987ء اقراء ڈائجسٹ 7)

3):-بیروت میں ہزاروں کی تعداد میں سنی فلسطینیوں کو تڑپا تڑپاکر قتل کرنے اور کتوں اور بلیوں کا گوشت کھا کر جان بچانے پر مجبور کرنے والے دہشت گردوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو خمینی کی پشت پناہی حاصل ہے ہندوستان میں بابری مسجد کے نام پر سنی مسلمانوں کے خون بہانے اور مساجد بند کرانے ان پر سیاہ جھنڈے لہرانے جیسا کہ امام بازوں کیلئے کیا جاتا یے تو اس شرارت میں وثوق ذرائع کے مطابق ایرانی خمینی حکومت کا ہاتھ ہے امریکہ میں مسلمانوں کے بچوں کے لئے نصاب تعلیم (M, S, A) کی طرف سے چلایا جارہا ہے اب اس میں سے خلفاء ثلاثہ کا تذکرہ حذف کیا گیا ہے اس میں ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے( ماہنامہ الفرقان لکھنؤ بابت ماہ ستمبر 1987ء 11صفحہ)

4):-ایرانی انقلاب سے پہلے ایرانی حاجیوں کی تعداد معمولی تھی لیکن انتقلا کے بعد حاجیوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ اردو میں یہ تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئی۔(اقرا ڈائجسٹ صفحہ 149)

5):- حاجیوں کے نام خمینی کے بھیجے ہوئے تخریب کار تقریباًچھ سات برس سے مکہ مکرمہ اور حرم پاک کے اندر اور باہر خمینی کی تقاریر بینرز اور لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال کرکے جلسہ جلوس نکالتے رہے اور سعودی حکومت خاموشی سے ہر سال یہ ڈرامہ برداشت کرتی آئی.

6):- 1987 میں حاجیوں کی آڑ میں خمینی کے بھیجے ہوئے ایک لاکھ پچاس ہزار ایرانی جن میں کافی تعداد تربیت یافتہ دہشت گردوں کی تھی اور باقی دوسرے ان کے مقصد سے متفق اور مددگار تھے ان کا یہ پروگرام تھا کہ وہ جلوس کی شکل میں حرم پاک میں داخل ہو کر حرم کے دروازے بند کرکے اسوقت میں موجودہ حاجیوں کو یرغمال بنا کر اپنی من پسند کاروائی کریں گے اور سعودی حکومت کو مجبور کریں گے وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے اپنی حکومت ختم کرنے کا اعلان کرے اس مقصد کے لئے ان لوگوں نے حج سے پہلے بہت سے ملکوں میں حج سیمنار منعقد کئے تھے ان میں یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ حرمین شریفین کو بین الاقوامی شہر قرار دیا جائے اور اس کا نظم و نسق دنیا بھر کے مسلمان نمائندوں کو سونپ دیا جائے(الفرقان لکھنؤ اگست 1987)

سعودی حکومت کو بھی ان کے یہ عزائم معلوم ہو چکے تھے.

7):- ایرانیوں نے اپنے منصوبہ کے مطابق مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان جنت المعلات کے پاس جمع ہوکر جلوس کی شکل میں حرم شریف کی طرف مارچ شروع کیا ان کی زبانوں پر اللھم لبیک کی جگہ لبیک خمینی کے الفاظ تھے،ان کے پاس خنجر اور چھرے چھپے ہوئے تھے اور بہت سے ایرانیوں کے ہاتھ میں پیٹرول کی بوتلیں تھیں مکمل ٹریفک جام ہو گیا،ایک مخصوص مقام پر پہنچنے پر سعودیہ پولیس نے ان کو حرم شریف میں داخل ہونے سے روکا جلوس کے شرکاء نے رکنے سے نکار کیا اور پولیس پر آزادانہ طور پر خنجروں اور چھریوں کو استعمال کیا اور پیٹرول سے آگ لگانے کی کوشش کی اسطرح حالات قابو سے باہر ہو گئے اس لئے سعودی حکومت نے مجبور ہو کر سختی سے کام لیا ایرانی لشکر ڈیڑھ لاکھ سے قریب تھا اس کاروائی پر ان میں بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجہ میں کئی لوگ ہلاک ہو گئے ان میں اکثریت عورتوں کی تھی ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو تک ہو گئی تھی(اقراء ڈائجسٹ 152)

ایرانی دہشت گردی کے اس جلوس کی سعودی عرب کے اخبارات میں جو تصویریں اس وقت چھپی تھیں ایک عالم دین وہ اخبارات خرید کر اور وہ تصویریں کاٹ کر اپنے ساتھ لائے ان میں سے کچھ تصویروں کے فوٹو اسٹیٹ دے رہا ہوں تاکہ اس جلوس کے بارے میں آپ خود غور کر سکیں کہ یہ جلوس کتنی بڑی دہشت گردی کے لئے تھا (دیکھیں فوٹو 599 تا602)

ناچیز مترجم کی ایرانی حاجیوں سے ملاقاتیں اور ان کے جلوسوں میں شرکت اور آنکھوں دیکھا حال

1):-میں 1985ء میں پہلی مرتبہ حرمین شریفیں کی زیارت سے مشرف ہوا اس سال ایرانی بہت بڑی تعداد میں حج کے لئے آئے تھے محض اتفاقی طور پر کچھ ایرانیوں سے ملاقاتیں ہوئی ان سے اندازہ ہوا کہ یہ تمام لوگ حج یا زیارت کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ یہ اپنے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بارے میں دیگر ممالک کے لوگوں سے رائے لینے اور اپنے ملک کی سفارت اور وکالت کرنے آئے ہیں چنانچہ گرلز کالج شیشہ مکہ مکرمہ ہے قریب جامع مسجد میں ایک مرتبہ امام صاحب جو کہ ایہ بہت بڑے عالم شخص ہیں کی عدم موجودگی میں مغرب کی نماز امامت جماعت کے اصرار پر میں نے کرائی جوں ہی سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوا تو پہلی صف سے ایک آدمی نے وضع قطع سے عالم معلوم ہوتے تھے نے باادب بیٹھ کر مصافحہ کیا اور عربی میں پوچھا کہ آپ سعودی ہیں؟میں نے جواب میں کہا کہ نہیں میں پاکستانی ہوں تو اس کے خوش ہو کر کہا کہ اچھا آپ پاکستانی ہیں ہمارا انقلاب آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ میں نے جب اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور یہاں کیا کرتے ہیں تو اس نے کہا میں قم کا رہنے والا ہوں اور مسلسل چند سالوں سے یہاں ایرانی حاجیوں کے ایک گروہ کی قیادت کرتا ہوں

بعد میں کچھ بات چیت ہوئی اس سے یہی معلوم ہوا کہ ایرانی علماء اگلی صفوں میں بیٹھ کر سعودی اماموں کو تنگ کرنے اوراپنی اہمیت جتلانے کے لیے خوامخواہ مزہبی مسائل پوچھتے ہیں اور پھر اماموں سے سوالات کرتے ہیں اور یہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہوتے ہیں اس لئے ہر سال ایک ہی آدمی گروپ لیڈر بنا کر بھیجا جاتا ہے۔

صفحہ 12 از 13