شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 13 از 13

2):-واقعہ یہ ہوا کہ ذوالحج کی پانچ یا چھ تاریخ تھی،میں اپنے میزبان کے ساتھ حرم شریف جارہا تھا جب ہم جنت المعلات قبرستان کے پاس پہنچے تو ٹریفک جام ہو گیا چنانچہ میں گاڑی سے اتر کر حرم شریف کی طرف پیدل چلنے لگا تو راستہ میں پہلی مرتبہ ایرانیوں کو جمع ہوتا دیکھا،ان کے ہاتھوں میں بینر جھنڈیاں اور کارڈ تھے جن پر الموت لاسرائل وغيرہ لکھے ہوئے تھے جگہ جگہ کھلی ہوئی گاڑیوں میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے ایرانی علماء فصیح عربی میں اشتعال انگیز تقریریں کررہے تھے اس دوران اپنے نعرے لگائے جارہے تھے جو سمجھ سے بالاتر تھے چاروں طرف دنیا کے مسلم ممالک کے سفارت خانوں کی گاڑیاں کھڑی تھی ان میں عرب امارات، تیونس، مصر اور کچھ دوسرے ممالک کی گاڑیوں کی نشاندہی ہوتی تھی جلوس کے ساتھ دونوں طرف سعودیہ کی نوجوان پولیس اپنے آگے حفاظت کے لئے دبیز شیشے ہاتھوں مین تھامے مستعد کھڑے تھے اور ایرانی بار بار اپنے کارڈ اور جھنڈیاں پولیس والوں کے بالکل قریب کرکے فارسی اور عربی میں نعرہ لگا کر گزر رہے تھے۔

3):- راقم مترجم کو دوسری بار 1986ء میں محض توفیق خداوندی سے حرمین کی حاضری نصیب ہوئی تو 10 ذی الحج تقریباً ساڑھے دس بجے جمرہ عقبہ پر ایک ایرانی نوجوان سے ملاقات ہوئی اس نے سلام کرکے ہاتھ ملایا اور حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے اپنے رومال میں چھپے ہوئے تخریبی لٹریچر سے دو پمفلٹ نکال کر چھپا کے مجھے دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستانی ہیں، آپ ہمارے بھائی ہیں یہ خمینی کی ہدایات ہیں،یہ ہم سعودیوں کو نہیں دیتے اسطرح ایرانی حاجی طواف کرنے والوں کے لئے بھی خاص رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اسطرح کہ وہ مقام ابراہیم پر اپنی کسی عورت کو نماز کے لئے کھڑا کر دیتے ہیں اور اس کے چاروں طرف ایک دائرہ کی شکل میں ایرانی کھڑے ہو جاتے ہیں پھر طواف کرنے والوں کو زرہ برابر کوئی احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان کا مقصد ہی نمائش ہوتی ہے تو پھر دوسرے کسی کا خیال کیوں کریں ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح سعودی پولیس ان سے الجھ پڑے اور یہ ہنگامہ کرتے ہوئے دنیائے اسلام کو اپنی طرف متوجہ کریں اور سعودیہ عربیہ کے حکمرانوں کو بدنام کریں۔

ایران کی مداخلت جاری رہی تو افغانستان کے ٹکڑے ہو جائیں گے

ہفت روزہ اردو رسالہ تکبیر کراچی 19 دسمبر 1991ء اس وقت میرے سامنے ہے، اس میں افغان عبوری حکومت کے وزیر داخلہ اور حزب اسلامی (یونس خالص گروپ)

کے ستر سالہ مولوی یونس خالص کا انٹرویو چھپا ہے جو سوال و جواب کی صورت میں شائع ہوا ہے موصوف نے انکشاف کیا ہے کہ:

دراصل (شیعہ تنظیمیں) ایران نے پیسہ اور اسلحہ دے کر پیدا کی ہیں تاکہ وہ افغانستان میں اپنی خواہش کے مطابق جگہ پیدا کر سکے.

آگے فرماتے ہیں:

حکومت ایران ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہی ہے وہ ان تنظیموں کے ذریعے ہمارے شیعہ بھائیوں کو ابھارنے میں مشغول ہے اگر ہم آج محض شیعہ ہونے کی بنیاد پر انہیں نمائندہ مطالبہ کریں گے اور ہمیں انھیں نمائندہ حیثیت سے تسلیم کر لیں تو پھر کل کو تاجک، کوچی، ترکمان، اور دوسرے لسنای نسلی اور مذہبی گروہ بھی مطالبہ کریں گے انھیں نمائندہ حیثیت سے تسلیم کرنا پڑے گا.

آگے فرماتے ہیں:

ہمارے مجاہدین افغانستان میں رہنے والی ہر قومیت اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن شیعوں میں یہ بات موجود نہیں ہے ان کا ایک مخصوص گروہ ہوتا ہے جس میں شیعہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص داخل ہو ہی نہیں سکتا اگر مذہبی حوالے سے جیسا کہ ایران چاہتا ہے ان کی بات تسلیم کر لی جائے، تو اس کے نتیجہ میں افغانستان کے ٹکڑے ہو جائیں گے(خلاصہ انٹرویو 19)(روزنامہ جنگ کراچی (6) اتوار 29دسمبر 1991)

مسجد شریف میں شیعوں کا تازہ بم کا دھماکہ

مسجد میں بم کا دھماکہ

جمعہ کے روز جھنگ کی ایک مسجد میں عین اس وقت بم پھینکا گیا جہاں نماز فجر ادا کی جارہی تھی دھماکے کے نتیجہ 3 نمازی شہید اور 20 زخمی ہوگئے کچھ نمازیوں نے تعاقب کرنے والوں پر فائرنگ شروع کر دی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اگرچہ جھنگ ایک طویل عرصے سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور محاذ آرائی کا مرکز بنا ہوا ہے اور اب تک مخلف فسادات میں درجنوں افراد جاں بحق اور بیشمار زخمی ہو چکے ہیں لاکھوں روپے کی قیمتی املاک جل کر تباہ ہو چکی ہے اور کاروبار ذندگی متعدد مرتبہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے لیکن مسجد میں بم پھینکنے کا واقعہ اپنی سنگینی کے اعتبار سے بےحد خطرناک ہے جھنگ جو کسی زمانہ میں امن وآشتی کا گہوارہ تھا اب فساد بدامنی کی علامت بن چکا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ خانہ خدا بھی اس سے محفوظ نہیں رہا.

اس باب میں آپ کے سامنے قرآن و سنت کے پیروسنی مسلمانوں اور سنی مسلمان حکومتوں کے ساتھ شیعوں کی دائمی دشمنی اور عداوت کے داستان مختصر کی صحیح تیسری صدی ہجری سے لیکر آج پندرھویں صدی ہجری کی اوائل تک بلاوقفہ مسلسل پیش کئے گئے ہیں تاکہ آپ ان کی اسلام دشمنی کے اصلی خدوخال اور ان کے اتحاد بین المسلمین،

شیعہ سنی بھائی بھائی کے پر فریب مکارانہ اور منافقانہ نعروں کی اصلی حقیقت کو آسانی کے ساتھ ساتھ سمجھ سکیں.

اللہ اسلام اور مسلمانوں کو شیعیت کے فتنہ سے محفوظ فرمائے

صرف ان چند باتوں پر اکتفا کرتے ہیں بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کی ایمان کی حفاظت فرمائے آمین

قدتمت الباب الحادی عشر وبلیہ الباب الثانی عشر10


صفحہ 13 از 13