شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 2 از 13

اسکے ساتھیوں نے حجاج کو لوٹ لیا اور قتل کیا. یہاں تک کہ جو حاجی حرم شریف میں پناہ لینے کے لیے داخل ہوئے انکو بھی نہیں بخشا بلکہ قتل کر دیا گیا ابوطاہر قرامطی شیعہ نے شہید کئے گئے حاجیوں کو مسجدالحرام میں گڑھے کھدوا کر بغیر تجہیزوتکفین کے دفن کروایا اس بےرحم ظالم نے بیت اللہ شریف کا غلاف اتروا کر پھاڑ ڈالا اور اپنے ساتھیوں میں تقسیم کیا اور حجراسود کو کھدواکر اپنے ساتھ لے گیا اور اس نے مکہ مکرمہ کے گھروں کو خوب لوٹا اس شرمناک واقعہ نے شیعوں کو مسلم دنیا میں بہت بدنام کیا آخر میں شیعہ حکمران المہدی ابو محمد عبیداللہ علوی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا جسکی وجہ سے یہ حجراسود 22برس گزرنے کے بعد یعنی 339ھ میں شیعوں سے واپس ملا اور وہ بیت اللہ شریف میں نصب کیا گیا۔ابو طاہر قرامطی مکہ مکرمہ میں 11دن تک قتل و غارتگری کرتا رہا پھر جب وہ اپنے وطن واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسکو طویل عرصہ تک عبرت ناک سزا میں مبتلا کر دیا اسکے بدن کے گوشت میں کیڑے رینگتے نظر آتے تھے اور اسکے اعضاء کیڑوں کے کھانے کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرتے تھے اسطرح یہ طویل مدت تک اس دنیا میں ذلت کا عذاب چکھتا ہوا دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بنا رہا اور اسی ذلت میں مر گیا

خلافت عباسیہ کے خاتمے اور بغداد کی تباہی میں شیعوں کا نمایاں کردار

خلافت عباسیہ کا دور حکومت مسلم تہذیب و ثقافت تابناک دور شمار کیا جاتا ہےاس دور میں مسلم حکومت پوری دنیا میں عظیم حکومت سمجھی جاتی تھی اس دور میں اسلام کے ہر ایک پہلو کو بڑی ترقی حاصل ہوئی دینی علوم کے تمام شعبوں یعنی قرآن، حدیث، تفسیر وفقہ،اصول فقہ، لغت تصوف نے تمام تدریجی مراحل طے کرکے باقاعدہ مرتب مدون شکل میں تکمیل اور عروج حاصل کیا۔اسکے علاوہ دینوی علوم و فنون سائنس وغیرہ نے بھی خلافت عباسیہ میں بڑی ترقی کی۔ہر امیر اور عالم کے گھر میں بڑے بڑے کتب خانے قائم تھے،اور بغداد اس وقت پوری دنیا میں علوم وفنون کا مرکز تھا یہاں پر ایشیاء اور یورپ سے بھی غیر مسلم طلباءسائنسی اور فنی علوم میں تحصیل کے لئے آتے تھے اور یہ مسلم حکومت انکی ہر قسم کی مدد کرتی تھی، لیکن اس عظیم سلطنت کے کمزور ہونے کی وجہ بھی باطنی قرامطی شیعوں کی سازشیں تھیں ان سازشوں کا کچھ ذکر اوپر آچکا ہے آخر میں ان لوگوں نے سن 652ھ میں مشہور وحشی تاتاری حاکم ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی مکمل تباہی اور عباسی حکومت کا خاتمہ کیا. یہ حادثہ اسطرح پیش آیا کہ آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے لیے یہ عظیم غلطی بڑی اذیت ناک ثابت ہوئی کہ اس نے ابن العلقمی شیعہ کو اپنا وزیراعظم بنایا اور اس پر حد سے ذیادہ اعتماد کیا۔

ابن العلقمی نے پہلے مختلف بہانوں سے خلافت کی فوج کو کم کراکے صرف 10ہزار کر دیا اور پھراس نے مشہور شیعہ فلسفی نصیر الدین طوسی کی معرفت مشہور اسلام دشمن تاتاری وحشی ہلاکو خان کو بغداد کے اوپر حملہ کرنے کی دعوت دی اس وحشی نے بغداد پر حملہ کیا اور تاریخ کی بدترین تباہی پھیلائی کافی عرصے تک مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کا بےدردی سے قتل عام. ہوتا رہا لاکھوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے اور ان کے خون سے بہت دن تک دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو کر بہتا رہا۔

امام ابن تیمیہؒ کی کتاب منہاج السنتہ کی تلخیص المنتقی ہے اور المنتقی کا اُردو ترجمہ

پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے، اس کے حاشیہ میں پروفیسر حریری لکھتے ہیں کہ:

بت پرست ہلاکو خانتاتاری فوج کے دو لاکھ سپاہی ساتھ لیکر بغداد پر حملہ آور ہوا ابن العلقمی نے خلیفہ المستعصم باللہ کو دھوکہ دیکر ہلاکو خان کا کام کافی حد تک آسان کر دیا اس نے ہلاکو خان سے خلیفہ کی صلح کرانے کا بہانہ بنایا اور خلیفہ سے اجازت لیکر ہلاکو خان سے ملاقات کی ملاقات میں اس نے ہلاکو خان سے اپنی وفاداری اور خلافت عباسیہ سے خیانت کا یقین دلایا ابن العلقمی نے خلیفہ کے پاس آکر اس کو کہا کہ ہلاکو خان اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کے بیٹے ابوبکر کے ساتھ کرنا چاہتا ہے یہ سن کر خلیفہ بہت خوش ہوا اور اپنے علماء و امراء کو ساتھ لیکر اپنے بیٹے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لئے خود ہلاکو خان کے پاس پہنچا۔جب یہ تمام لوگ خلیفہ کی رفاقت میں ہلاکو خان کے پاس پہنچے تو اس نے ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسطرح ان سب کا کام ادھر ہی تمام کر دیا گیا. پھر تاتاریوں کا لشکر شہر میں داخل ہو گیا جس نے قتل عام کا بازار گرم کر دیا اور یہ انسانی قتل 40،دن تک جاری رہا ہلاکو خان نے جب مقتولین کو شمار کرنے کا حکم دیا تو ان کی تعداد 10 لاکھ 80ہزار ہوئی. اور جو قتل شدہ انسان شمار نہ ہو سکے ان کی تعداد اس سے بھی ذیادہ تھی.

(المنتقی مترجم اردو کے حاشیہ کا خلاصہ 478)

اسکے بعد اس ظالم وحشی نے ہر ایک کتب خانے کو تلاش کرکے جلا دیا اور اسطرح علم و ہنر کے تمام نشانات مٹا دئیے۔یہ واقعہ اتنا وحشتناک تھا کہ اس نے پوری مسلم دنیا کو ہلا دیا لیکن افسوس کہ شیعوں کے علماء نے اپنے فلسفی نصیر الدین طوسی کو اس کارنامہ پر فخریہ خراج تحسین پیش کیا.

 چنانچہ مشہور مورخ حافظ ابوعبدالله محمد بن عثمان الذھبی المتوفی 748ھ اپنی کتاب مختصر منہاج السنتہ میں اپنے وقت کے ایک شیعہ اہل قلم مرزا محمد باقر خونساری طوسی کی کتاب روضات الجنات کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ :

"اس (نصیر الدین طوسی) کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ ایران میں سلطان محتشم ھلاکو خان کا وزیراعظم بنایا گیا وہ سلطان کے ساتھ بغداد آیا تاکہ خلق کی خبرگیری اور ملک کی اصلاح کرے اور سلطنت عباسیہ کا خاتمہ کرے اور اس کے حامیوں کا قتل تمام کرکے فساد کی بیخ کنی کرے اور فساد کی آگ بجھائے چنانچہ ان کے گندے خون کو نہروں کیطرح بےدریخ بہایا گیا. جو دریائے دجلہ سے جا ملا اور وہاں سے جہنم میں پہنچا.

(روضات الجنات 578 المنتقی عربی 326 بحوالہ ماہنامہ الفرقان لکھنؤ صفحہ 30،اپریل 1980)

صفحہ 2 از 13