شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 3 از 13

اس عبادت کے آخری حصہ کو بغور مطالعہ کریں کہ شیعوں نے ان مسلمانوں کے خون کو گندا خون کہا ہے یہ مسلمان ظاہر ہے کہ خالص سنی تھے جن کے مقدس خون کو شیعہ مجتہد گندا خون کہہ رہا ہے اور اسکی جگہ اس کے ہاں جہنم ہے (نعوذ باللہ)

یہ ہے شیعوں کی عباسیہ خلافت کے خلاف سازش اور سفاکیوں کی ایک جھلک،اب ان واقعات کو سامنے رکھنے کے ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سلطان غازی صلاح الدین ایوبی کی فوج میں جاسوس ابن جرف،سلطان فتح علی خان ٹیپو، سے غداری کرنے والا میر صادق اور نواب سراج الدولہ کا غدارمیرجعفریہ سب شیعہ تھے ایسی دوسری بہت سی مثالیں اور بھی ہیں۔

تاریخ کے وسیع مطالعہ سے یہ بات حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ سنی حکمران مسلمانوں نے شروع سے لیکر بغیر کسی تحقیق کے کہ یہ سنی ہے یا شیعہ ہے، شیعوں کو محض قابلیت کی بنیادوں پر بہت بڑی کلیدی آسامیوں پر فائز کیا ہے اور اس فراخدلی اور فیاضی کے نتیجہ میں انکو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے، چنانچہ آگے چل کر یہ فیاضی انکی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ انکی جان کے خاتمہ کا بھی باعث بنی ہے اسکے برعکس تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی شیعہ حکمران نے کسی سنی کو اہم منصب پر فائز کیا ہو یہ عجیب و غریب صورت حال بھی ضرور غور طلب ہے.

    ایران کی شیعہ حکومتیں اور ان کا کردار

         شیعہ صفوی خاندان کی حکومت

سقوط بغداد کے بعد رافضیوں کی ہمت بڑھ گئی اور انہوں نے بڑی ترقی کی، چنانچہ907ھ میں اسماعیل صفوی شاہ ایران بن کر تخت سلطنت پر متمکن ہوا تخت نشینی کے بعد اسماعیل نے سب سے پہلے اعلان کے ذریعہ امامیہ مذہب کو ریاستی مذہب مقرر کرنے کا اعلان کر دیا.

چنانچہ براؤن لکھتا ہے:-

"دو، ایک سال کے اندر ہی وہ تبریز فتح کرکے تخت ایران پر متکمن ہو گیا اور اپنے مشیروں کے مشورے کے خلاف اس نے اپنی رعایا کے لئے مذہب شیعیت لازمی اور جبری قرار دیا لوگوں نے اسے سمجھایا کہ تبریز کی دو ثلث آبادی سنی ہے اور نماز اور خطبوں کے درمیان ایسے فقروں کا اضافہ جو خصوصیت کے ساتھ شیعوں کا شعار تھا خاص کر پہلے 3خلفاء ابوبکرؓ عمر فاروقؓ عثمان غنیؓ پر تبرا بازی کہیں کوئی فتنہ نہ پیدا کر دے مگر اس نے نہ مانا اور جواب دیا خدائے جہاں آئمہ معصومین کے ساتھ میری مدد میں ہیں، مجھے کسی کا ڈر نہیں اگر رعایا نے مخالفت میں ایک لفظ بھی کہا تو تلوار کھینچ کر ایک شخص کو بھی ذندہ نہیں چھوڑوں گا چنانچہ اس نے جیسا کہا تھا ویسا کر دیکھایا اور رعیت کو حکم دیا گیا کہ اگر تبرا پڑھتے وقت انہوں نے یہ آواز بلند بیش باد کم مبادی نہ کہا تو انہیں سزائے موت دی جائے گی.

(تاریخ ادبیات ایران در عہد جدید 36،35

بحوالہ الفرقان لکھنؤصفحہ 40اپریل 1987)

               سماعیل صفوی کے مظالم

مشہور مورخ ابن عماد حنبلی(متوفی1089ھ) لکھتے ہیں

اسماعیل صفوی ایران کے تمام امراء پر حاوی ہوگیا اس نے حراسان آزر بائیجان،تبریز،بغداد،عراق،عجم فتح کر لیا علاقوں کے فرمان رواؤں کو مغلوب اور افواج کو قتل کر دیا،10لاکھ سے ذائد افراد کو اس نے قتل کیا،اسماعیل صفوی کی افواج اسے سجدہ کرتی تھی اور اسکا ہر حکم مانتی تھی قریب تھا کہ یہ شخص الوہیت کا دعویٰ کر بیٹھے اس نے علماء کو قتل کیا،ان کی کتابیں اور مصاحف جلائے، سنی علماء واعیان کی قبریں کھدوا کر ہڈیاں نکلوائیں اور انھیں جلا کر خاکستر بنا دیا.

( ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، صفحہ 39،40 بابت ماہ اپریل 1987)

ان صفوی حکمرانوں نے بھی شروع سے لیکر آخر تک اپنی پالیسی کا رخ مسلمان دنیا کی دشمنی کی طرف رکھا اور اکثر یورپ کے عیسائی حکمرانوں سے انکی ساز باز رہی. مؤرخین کا اتفاق ہے کہ یورپ سے ساز باز کرکے کی وجہ ترکوں کی نئی پرعزم قیادت جو کہ یورپ میں اشاعت اسلام کے لئے بہت کچھ کر سکتی تھی وہ ایران کی،سازشوں کا سدباب کرنے میں ضائع ہوتی رہی اور یورپ اسلام کی روشنی سے محروم ہو گیا اور ترکی کے عظیم عثمانی دور کے تین عزم حکمرانوں سلطان سلیم، سلطان سلیمان اصغر اور سلطان مراد ثالث کی پوری قوت ایران کے صفویوں کی سازش کا سدباب کرنے میں ضائع ہو گئی،اور یہ سب کچھ یورپی عیسائی حکومتوں کو نفع پہنچانے کے لئے کیا گیا.

سرجان مالکم سابق گورنر اپنی تاریخ ایران میں لکھتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

 شاہ عباس نے ایک خط یورپ کے عیسائی حکمران کی طرف لکھ کر سرانتھونی شرلی کے حوالہ کیاجس خط میں اس نے عیسائی بادشاہوں سے اپنے تعلقات بڑھانے اور مستحکم کرنے کی خواہش ظاہر کی،اسی کتاب میں مذید لکھا گیا ہے کہ شاہ عباس نے ترکوں سے جن سے یورپی حکمران خوفزدہ رہتے تھے،جنگ کرنے کا عزم دیکھایا چنانچہ شاہ عباس نے اپنے ارادے کے مطابق قسطنطنیہ کے حکمران (ترکوں) پر حملہ کر دیا.

(تاریخ ایران بحوالہ الفرقان لکھنؤ صفحہ 32اپریل 1985)

عثمانی دربار میں مامور آسٹریائی سفیر نے لکھا ہے کہ:

ہمارے اور ہماری تباہی کے درمیان اہل ایران ہی صرف ایک روک ہیں ترک ہمیں ضرور دباتے مگر ایرانی انہیں روکے ہوئے تھے ایرانیوں کے ساتھ ترکوں کی اس جنگ سے ہمیں صرف مہلت مل گئی ہے مخلصی اور نجات نہیں حاصل ہوئی۔

(تاریخ ترکان عثمانی جلد3 صفحہ171بحوالہ الفرقان صفحہ 31لکھنؤ اپریل 1985 )

شیعہ افشاریہ نادر شاہ خاندان کی حکومت

ایران کے ایک دوسرے ظالم حاکم نادر شاہ نے پہلے عراق اور افغانستان بعد میں سندھ اور ہندوستان میں جو قتل و غارت گری کی اور ظلم و بربریت کے مظاہرے کئے ان کے پیچھے بھی درحقیقت یہی مسلم کشی کا جزبہ کارفرما تھا۔اس سنگدل ظالم اور درندہ صفت وحشی شیعہ حکمران نے دہلی میں جو قتلِ عام کرایا اسکی مثال کم ازکم ہندوستان کی پوری تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی اس قتل و غارت گری کا سبب بھی مغل حکمرانوں کی کمزوری تھی جس کی اصل وجہ سید برادران کی سازشیں تھیں

پروفیسر محمد رضا خان اپنی تصنیف تاریخ مسلمانان عالم میں لکھتے ہیں کہ!

نادر شاہ مغل سرداروں کے ہمراہ دہلی پہنچ کر دیوان خاص کے قریب ایک محل کے قریب مقیم ہوا۔رات کے وقت شہر میں ایرانی سپاہیوں اور دہلی کے باشندوں کے درمیان غلہ کی خریدوفروخت پر جھگڑا ہو گیا اور دہلی کے شہریوں نے زیادتی کرکے چند ایرانی سپاہیوں کو تہہ تیغ کر ڈالا۔

صفحہ 3 از 13