شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 4 از 13

نادر شاہ نے اس بات پر خفا ہو کر دہلی میں قتل عام کا حکم دے دیا چند لمحوں میں ہزار دہندگان خدا مارے گئے اور سارا شہر لٹ گیا آخر نظام الملک کی سفارش پر نادر شاہ نے قتلِ عام بند کر دیا مگر لوٹ کھسوٹ دو ماہ تک جاری رہی اسکے بعد نادر شاہ 70 کروڑ روپے کے تاوان کے عوض تخت طاؤس، کوہ نور ہیرا اور بیشمار جواہرات و قیمتی کپڑے دہلی سے لیکر ایران واپس چلا گیا اور جانے سے پہلے محمد شاہ کو دوبارہ تخت پر متمکن کرتا گیا،مگر سلطنتِ مغلیہ کی ساری ساکھ اس حملہ کی بدولت برباد ہو گئی(تاریخ مسلمانانِ عالم 462)

          شیعہ پہلوی خاندان کی حکومت

قریبی دور کو دیکھیں رضا شاہ پہلوی سابق حکمران ایران خمینی کی طرح شیعہ مجتہد اور مذہبی حکومت کا مدعی نہیں تھا لیکن چونکہ یہ شیعہ تھا لہذا مشرقِ وسطیٰ کی مسلم عرب دنیا کے لئے بڑا نقصان دہ ثابت ہوا مغربی قوتوں نے اسکو مسلم دنیا اور خلیجی ملکوں کے خلاف پوری طر مسلح کیا اور اسکو اس علاقے کے لئے پولیس مین (police man) بنانے کی کوشش کی اسطرح مغربی قوتوں نے اس کو عرب دنیا کے لئے استعمال کیا اور یہ بھی خوب اچھی طرح استعمال ہوا،مسلم دنیا کے لئے یہ بات کتنی حیرت انگیز اور شرمناک اور رنج دہ ہے کہ پوری مسلم دنیا میں پہلوی ایران وہ واحد ملک تھا جس نے یہودیوں کی حکومت اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کیا اور شروع ہی سے اسکے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے اور تیل جیسی اہم چیز کی تجارت کی اور اسرائیل کو قوت حرب میں آضافے کے مواقع فراہم کئے. یہاں یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ

(1)صفوی خاندان (2) اشاریہ خاندان (3) ذیدیہ خاندان (4)قاچار خاندان (5)پہلوی خاندان

ان میں سے 3 اور4 کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا، ہر ایک شیعہ حکمران نے پوری طرح یہ کوشش جاری رکھی کہ کسی طرح سنیوں کو شیعت میں تبدیل کرکے سنیوں کو اقلیت میں بدل دیا جائے یہ کوشش آج تک جاری ہے اس عمل میں سنیوں کے اوپر وہ مظالم ڈھائے گئے ہیں، اور اب بھی ڈھائے جارہے ہیں کہ جن کے تاریخی نقوش کبھی مٹ نہیں سکتے.

حالیہ ایرانی انقلاب اور خمینی کے ناپاک منصوبے

یہ واضح حقیقت ہے کہ جن مغربی طاقتوں نے رضا شاہ پہلوی جیسے وفادار مہرے کو ہٹا کر اسکی جگہ پر جس مذہبی انقلاب کو آنے کی اجازت دی ہے یعنی خمینی اور اسکا نام نہاد اسلامی انقلاب کو تو ان کے اغراض و مقاصد بھی ذیادہ اہم اور ان مغربی عیسائی اور یہودی قوتوں کے لئے ذیادہ فائدہ مند ہوں گے.

دھیان رہے کہ موجودہ دور کی مغربی سیاست اس قدر شاطر ہے کہ اسکی سیاست کے اوپر بیشمار پردے پڑے ہوئے ہیں اور وہ پردے اور حجاب تب ہٹائے جاتے ہیں جب مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں موجودہ سیاست کی یہ بھی عام شیطانی چال ہے کہ جن سے مقاصد پورے کرانے ہوتے ہیں تو اس قوم کو عام دنیا کو اس سے اور بےخبر رکھنے کے لئے ظاہر میں کچھ مفادات کو ٹھکرا دینے اور بظاہرعداوت برتنے،انکو سخت سست کہنے اور اپنے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی بھی ان مہروں کو اجازت تو دور کی بات ہے بلکہ ہدایت ہوتی ہے تاکہ اصلی مقاصد پر پردے پڑے رہیں اور ظاہری مکارانہ چالوں پر لوگوں کا اعتماد قائم ہو جائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خمینی کے اصلی مقاصد کتمان اور تقیہ سے حجابات اٹھ چکے ہیں اور مزید اٹھنا شروع ہو گئے ہیں چنانچہ 10 نومبر 1986 سے آج 27 دسمبر 1986 تک تقریباً ڈیڑھ ماہ کی مدت میں شاید ہی کوئی ایسا دن آیا ہو کہ اس میں اسرائیلی یہودی حکومت،ایران اور امریکہ کے جنگی اسلحہ کی خفیہ خریدوفروخت کی تفصیلات کے بارے میں غالباً دنیا کے بیشتر اخبارات اور جرائد میں روزانہ نئے نئے انکشافات ظاہر نہ ہوتے ہوں اور اب تو پوری دنیا میں ان باتوں کی تصدیق بھی ہو چکی ہے کہ کافی عرصے سے ایران کو، ایران عراق جنگ میں براہ راست یہودیوں سے نیز یہود کی معرفت امریکہ سے امداد اور اسلحہ مل رہا تھا دیکھئے بطور مثال اخبارات کے اقتباسات(روزنامہ جنگ کراچی 6 اتوارب29دسمبر 1991)وٹو 595،594،593

یہ حقیقت میں جنوری 1982 کی ہے کہ یہودی ریاست اسرائیل کا ایک جہاز اسلحہ سے بھرا ہوا روس کے علاقے میں گرکر تباہ ہو گیا تھا جس سے ایسے دستاویزی ثبوت فراہم ہوئے تھے کہ یہ اسلحہ اسرائیل سے ایران کے لیے جارہا تھا اسوقت اس نام نہاد اسلامی جمہوری ایران نے ان دستاویزی ثبوت کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یہ انکار الزام کا سلسلہ کافی عرصہ تک ریڈیو اور اخبارات کی زینت بنتا رہا اور یہ حقیقت اس وقت ایسی نہیں لگ رہی تھی کہ اس پر ہر آدمی یقین کر سکے لیکن اب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ایران کو اسرائیل اور امریکہ سے اسلحہ کی امداد اسی وقت یعنی 1982ء یا اس سے پہلے جاری ہو چکی تھی جسکا اب پردہ فاش ہو رہا ہے اور صحیح حقیقت دنیا کے سامنے آگئی ہے.

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ مسلم ممالک کے سربراہوں کی بار بار کوشش اور تہران (ایران) کے چکر لگانے کے باوجود ایران اپنی ضد پر قائم تھا اور عراق سے صلح کے لئے آمادہ نہ تھا اس سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی تھی کہ عراق ایران جنگ کو مغربی طاقتیں اور اسرائیل اپنے مفاد کے لئے طول دلا رہی تھی اس میں ایران جو استعمال ہورہا تھا جسکی وجہ سے اسرائیل اور مغربی طاقتوں کو چاروں طرف سے اسطرح فائدہ پہنچ رہا تھا.

(1)عرب ملکوں کی افرادی قوت، اقتصادی حالتاور دولت تباہ ہورہی تھی۔

(2)عرب ملک مغربی ممالک کی مزید گرفت میں آگئے۔

(3)یہودیوں کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گیا اور ان کی اقتصادی حالت کو مذید تقویت مل گئی اس لئے کہ یہودیوں کو اسلحہ کی فراہمی کے عوض ایران سے سرمایہ مل رہا تھا۔

(4) براہِ راست عرب اسرائیل جنگ سے اسرائیل کی انفرادی قوت، اقتصادی حالات اور جنگی قوت میں نقصان ہو سکتا تھا جس سے اب اسرائیل محفوظ ہے،اس طرح اسرائیل مغربی طاقتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں۔

قارئین کرام!

 اس جنگ سے تو سراسر مغربی ممالک اور یہودی ریاست اسرائیل کو فائدہ ہوا لیکن دنیا کے مسلم ممالک کو زرہ برابر کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ:

صفحہ 4 از 13