شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 5 از 13

(1)اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والوں کی آپس میں دنیا کے سامنے تاریخ کی طویل ترین اور سب سے گران جنگ تھی اسکے نتیجے میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی تحقیروتوہین ہوئی اور مسلمانوں کے وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

(2)اس جنگ پر کھربوں کی تعداد میں ڈالر خرچ ہوئے اور خلیج کے تمام تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے کھربوں ڈالر کے اثاثے اسلحہ کی خرید پر صرف ہوئے.

(3)عرب ملکوں کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ انھوں نے سب ترقیاتی کام روک دئیے اور تیل کی سب آمدنی عراق کی مدد کے لئے اسلحہ خریدنے پر خرچ کر دی تھی اسطرح ان کی پوری دولت امریکہ کے حوالے ہو گئی۔

(4)اس جنگ میں ایران اور عراق کا اتنا نقصان ہوا کہ ایران نے بارہ تیرہ برس کے لڑکے محاذ جنگ پر بھیجنے شروع کر دئیے تھے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے شہروں پر بمباری کررہے تھے جس سے بےگناہ معصوم شہری مرد، عورتیں، بچے لقمہ اجل بن گئے. اور یہ سب کچھ دنیاوی جنگ کے لئے بدنما داغ تھا لیکن ایرانی شیعی حکومت جوکہ اتحاد بین المسلمین کا نعرہ لگانے سے نہیں تھکتی اس سے کوئی پوچھے کہ قرآن پر شیعوں کا ایمان ہے تو قرآن کی اس آیت میں تمہارے لئے کیا حکم ہے؟

وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِاللّٰهِۚ-

یعنی اور اگر مسلمانوں میں ان کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو (اے مسلمانوں) ان کے درمیان صلح کرواؤ پھر اگر ان میں سے کوئی اس مصالحت کے خلاف سرکشی ک ارتکاب کرے تو تم (سب) اس سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم پر واپس آجائے.

اب سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے منتخب نمائندے تہران کے چکر کاٹ رہے تھے کہ عراق جنگ بند کرنے کے لئے تیار تھا لیکن ایران جنگ بند نہیں کررہا تھا اور کھلے عام قرآنی حکم کی خلاف ورزی کررہا تھا ایران یہ جنگ کیوں بند نہیں کررہا تھا اور اسکا جواب یہ ہے کہ ایران کے اس وقت کےخمینی کے عزائم کچھ اور تھے وہ اپنے آپ کو (فرضی اور خیالی) مہدی غائب زمان کا خلیفہ سمجھتے تھے لہذا اسکی مرضی تھی کی ایرانی شیعہ مملکت کی توسیع ہو اور پوری مسلم دنیا پر شیعیت کو تسلط حاصل ہو اسطرح مقامات مقدسہ القدس، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ وغیرہ پر بھی ایرانیوں کی حکمرانی ہو اس مقصد کے لئے ایران علی الاعلان اظہار بھی کرتا رہتا تھا چنانچہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ اپنی تصنیف انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت میں لکھتے ہیں کہ.....!

ایک دن اچھی طرح نمایاں نئے بینر کا اضافہ ہم نے دیکھا اسکی عبارت عربی میں تھی۔

سنتحدوسنتلاحم حتی نستردمن ایدی المغتصبین اراضینا المقدسة القدس والکعبۃ والجولان

یعنی ہم متحد ہوں گے اور جنگ آزما ہوں گے یہاں تک کہ غاصبوں کے قبضہ سے اپنی، مقدس زمینیں بیت المقدس اور کعبہ اور گولان واپس لے لیں گے

(انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ44)

یہ تو تھی خمینی کی عظیم توسیعی شیعی حکومت کے قیام کی اسکیم لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا چنانچہ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اورخمینی ان تمام آرزوؤں کو دل میں لیکر پروردگار عالم کے پاس جوابدہی کے لئے چلا گیا اور پھر ایرانی قیادت نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی جنگ بندی کے لئے عراقی صدر جناب صدام حسین اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان خط و کتابت کا ایک دور چلا، اس کی ابتداء عراقی صدر نے کی، ایران برابر

لیت ولعل سے کام لیتا رہا، یہ خط و کتابت 21اپریل 1990ءسے 4 اگست 1990ء تک ہوتی رہی آخر

صدام حسين کے مکتوب کے جواب میں ایرانی صدر ہاشمی رفنجانی نے یہ لکھا کہ:

جیسا کہ جنیوا میں مقیم اپنے نمائندہ کے ذریعہ ہم نے آپ تک اطلاع پہنچائی ہے اب ہم تہران میں آپ کے نمائندوں کے استقبال کے لئے تیار ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ موجودہ خوشگوار ماحول اور نیک نیتی کو جاری رکھ کر دو اسلامی ملک و قوم کے تمام جائز حقوق و حدود کی حفاظت کرتے ہوئے ایک جامع اور پائدار صلح تک رسائی حاصل کر لیں گے۔(دو ماہی توحید تہران، ایران جلد 8 شمارہ 1دسمبر 1990ء جنوری 1991ء صفحہ 168)

اسطرح یہ جنگ بند ہو گئی لیکن ایران آگے چل کر اپنے وعدہ یعنی تمام جائز حقوق و حدود کی حفاظت کرنے میں قائم نہ ہو سکا چنانچہ اس نے وعدے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوری 1991ء سے عراق کے ساتھ 28 اتحادی ملکوں کو ہولناک جنگ میں پس پردہ عراق کے خلاف کام کیا پھر جیسے ہی یہ خون ریز جنگ 28فروری 1991ء کو ختم ہوئی تو ایران نے نجف اور کربلا کی شیعہ آبادی کو صدر صدام حسین

 کے خلاف بغاوت پر اکسایا ان کی مدد کی اور باغی لیڈروں کو ایران مین پناہ دی اسطرح بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور بہت قتل و غارت گری ہوئی چنانچہ بھی ایران کے روحانی پیشوا علی خامنہ ای کرد باغیوں اور شمالی عراق ے شیعوں کو یہ ہدایات دے رہے ہیں وہ صدر صدام حسین کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں یہاں تک کہ

صدام حسین سے علیحدہ ہو جائے یہ سب کچھ ہورہا ہے تو اسکا جواب پہلے ذکر کیا جا چکا ہے یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایران عراق جنگ میں جو کچھ ہوا اس نے خلیجی عرب ممالک کو بھی دولت میں کمزور کر دیا تھا تو دوسری طرف تنہا ایران جسکی تیل کی دولت بھی کافی حد تک تباہ اور محدود ہوتی جارہی تھی لیکن پھر بھی ایران باغیوں کی مدد کررہا تھا اور ایرانی شیعہ انقلاب کو اسلامی انقلاب تسلیم،کروانے کے لئے اور تمام ممالک اسلامیہ میں شیعیت کو پھیلانے کے لئے کھربوں کی تعداد میں ڈالر خرچ کررہا ہے اور یہ حقیقت کسی بھی باشعور آدمی سے مخفی نہیں ہے کہ تنہا ایک ملک ایران یہ سب خرچہ کیسے پورا کر سکتا ہے اور اس میں ایران کی مدد کونسا مسلم دشمن ملک کررہا ہے یہ غور طلب مسلہ کیوں نہیں۔

دوستو!!! اب آپ غور کریں یہ فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے کہ خمینی کی یہ سوچی سمجھی پالیسی عین اسلام جا یہ نعرہ اتحاد بین المسلمین اور شیعہ سنی

 بھائی بھائی کتمان اور تقیہ نہیں تو کیا ہے.

صفحہ 5 از 13