شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 6 از 13

یہ بات بھی آپکی اطلاع کے لئے ضروری ہے کہ خمینی مسلم ممالک کے حکمرانوں کے لئے انتہاٸی غلیظ الفاظ استعمال کرتا ہے اور شروع سے ہی پاکستان، سعودیہ عربیہ، مراکش، اردن اور مصر وغیرہ میں انقلاب لانے کا نعرہ لگاتا اور لگواتا رہا اسکے لئے آپ روزنامہ امن کی خبریں بطور نمونہ پڑھ سکتے ہیں (فوٹو دیکھیں 595پر)

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی انقلاب ایران اوراسکی اسلامیت میں لکھتے ہیں کہ....

1401ھ مطابق 1981 کے حج کے موقع پر یہ خبریں آئیں کہ اس دفعہ ایرانی حجاج نے حرمین کے اندر اور باہر وہ خاص نعرے اجتماعی شکل میں لگائے جو انقلاب کے بعد ان کے خاص نعرے اور انقلابی شعار بن گئے ہیں

اللّٰه اکبر، خمینی رھبر، اللہ واحد، خمینی قائد، مرگ بر امریکہ، مرگ بر صدام، مرگ بر اسرائیل الموت لاامریکہ، الموت إسرائيل، الموت لصدام، اور یہ چونکہ یہ ایک بالکل عجیب اور نئی چیز تھی اس لئے سعودی حکام نے اس سے منع کیا(انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ35)

اور آگے چل کر لکھتے ہیں :

اور ہم خیال دوستوں کی ایک مجلس میں اس وقت کا نیا تاثر ان الفاظ میں نکلا کہ یہ تو:- دوسرا اسرائیل پیدا ہو رہا ہے غیر فرقہ وارانہ اسلام ور اخوت و اتحاد اسلامی،صرف لبادہ ہے ورنہ اصل میں مکمل شیعیت ہے اور عزائم کا آخری نشانہ مدینہ منورہ ( بوجہ روضۂ اقدس و جنت البقیع) ہے جو اسرائیل عزائم کا بھی اصل نشانہ ہے،انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ 36،35)

دسمبر 1981ء میں مولانا موصوف کو ایک رسالہ ملا جس میں حج کے موقعہ پر حاجیوں کے اس واقعہ کے متعلق شاہ خالد مرحوم کا ایک خط بنام خمینی اور خمینی کی طرف سے اسکا جواب شاہ خالد مرحوم کے نام چھپا ہے اس خط میں خمینی نے اپنے حاجیوں کی اس حرکت اور کردار کی بہت زور دار طریقہ سے وکالت کی ہے اور اس نعرہ بازی اور مظاہرہ کو قرن اول یعنی حضورﷺکے دور کے اسلام کا طریقہ کہا ہے اور شاہ خالد کے نہایت مہذب الفاظ کے مزین خط کا جواب ایک نہایت متکبر سیاست باز ہے طرز پر دیا ہے یہ دونوں مکتوب آگے ملاحظہ فرمائیں:

خمینی کی موجودہ شیعی ایرانی حکومت کا بنیادی مقصد درحقیقت تمام سنی حکومتوں کو کمزور اور بےاثر بنا کر وہاں کے شیعوں کی پشت پناہی کرکے وہاں شیعہ انقلاب لانا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں شیعیت کی پر ور تبلیغ و اشاعت مقصود ہے اسی لئے ہر سطح پر کتمان اور تقیہ سے کام لیکر اسلامی وحدت شیعہ سنی بھائی بھائی اتحاد بین المسلمین وغیرہ جیسے خوبصورت نعروں سے پروپیگنڈے کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے جس پر خرچ کرنے کے لئے ملکی خزانے کے دروازے ایسی فراخ دلی سے کھول دئیے گئے ہیں جیسا کہ جنگ کے زمانے میں حکومتیں اسلحہ اور دوسرے جنگی و سائل پر بےدریغ خرچہ کرتی رہتی ہیں چنانچہ ایرانی حکومت مختلف ملکوں میں مختلف زبانوں میں کتابیں جرائد، اخبارات، اشتہارات،اور کرایہ پر مقالہ نگاروں سے اخبارات میں مختلف موضوعات پر مضامین اور مقالات لکھوا کر مسلسل شائع کررہی ہے اور یہ فتنہ سیلاب عظیم کی طرح جاری ہے اس میں بہت فنکاری کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ ہورہا ہے اور تقریباً پوری دنیا کے مسلمانوں میں خاص کر تعلیم یافتہ طبقہ میں لٹریچر تقسیم کیا جارہا یے اور بغیر کسی معاوضے اور قیمت کے اور بغیر بتائے ہوئے پتہ کے یہ لٹریچر خودبخود ان کے گھر پہنچ رہا ہے اور سنی علماء کا کرایہ پر خرید کر جلسے کرائے جارہے ہیں اور ان کی صدارت میں جلسے کرائے جارہے ہیں، پاکستان کے مسلمانوں سے بھی موجودہ ایرانی شیعی حکومت کے تعلقات شیعہ سنی بھائی بھائی اور اسلامی وحدت کے نام سے حقیقت میں کتمان اور تقیہ کا حربہ ہے یہ بہتر تعلقات اسلامی وحدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ شیعیت کی وحدت کی بنیاد پر پاکستان میں شیعوں کو مضبوط بنا کر شیعوں کی آبادی میں اضافہ کرکے مذہبی تصادم کراکر پاکستان کو کمزور بنانا اور پاکستان کو شیعہ ریاست میں تبدیل کرنے کے ناپاک عزائم کا حصہ ہے مسلمانوں کو خبردار رہنا چاہیے.

موجودہ دور میں ایرانی شیعہ علماء اور ایران کے اعلیٰ سطح کے سرکاری اور نیم سرکاری عہدہ داروں کا پاکستان میں بار بار آنا جیسا کہ ہمارے ریڈیو،ٹیلیویژن اور اخبارات سے ظاہر ہورہا ہے میرے خیال میں اتنی آمدورفت پاکستان کے گذشتہ 40 برسوں میں ان آخری چند سالوں کے سوا کبھی نظر نہیں آئی.

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ انقلاب ایران اور اس کی اسلامیت کے صفحہ 42،41پر لکھتے ہیں:

جن دیواری کتبات کا اوپر کہیں ذکر آیا ہے ان میں بھی جابجا ایسے کتنے دیکھنے میں آئے جو موجودہ انقلاب کو امام مھدی(غائب امام) کی آمد سے جوڑنے اور اسے انقلاب مھدی کا پیش خیمہ اور اس کے شروع ہونے کا تصور دیتے تھے اور سلسلہ کی سب سے زیادہ واضح اور مکمل چیز قم کے سفر میں آیت اللہ منتظری کے دولت کدہ سامنے آئی یہ ایک منقش کتبہ تھا جو وزارت تعلیم کی طرف شائع کیا گیا تھا، اس کتبہ کی عبارت یہ تھی (ایک انقلاب تا انقلابِ مہدی ادامہ دارد) تولدِ امام زمان (عج) برمستضعفانِ جہان مبارک باد.

ترجمہ:-یہ انقلاب انقلابِ مہدی تک باقی رہنے والا ہے

امام زمان (غائب امام)کی ولادت دنیا کے تمام کمزور (پسے ہوئے)طبقوں کو قوموں کو مبارک ہو۔

مولانا صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں۔

صفحہ 6 از 13