شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 7 از 13

 سفر کے تین ماہ بعد 3 مئی 1982 کے انگریزی روزنامہ تہران ٹائمز مین پڑھا کہ ایرانی کیبنٹ نے آیت اللہ منتظری کی تجویز پر 5شعبان مطابق 8 جون 1982 کو جو کہ بقول شیعہ امام مھدی عائب کی یوم ولادت ہے مستضعف ڈے کے طور سے منائے جانے کا فیصلہ کرکے ایک بین الاقوامی کانفرنس اس موقع پر منعقد کرنا طے کیا ہے چنانچہ اس اخبار کی 8 جون کی اشاعت کے مطابق 101 ملکوں کے 250 نمائندہ وفود پر مشتمل یہ مستضعف ڈے کانفرنس 8 جون کے بجائے 7جون 1982 مطابق 15شعبان کو تہران میں ہوئی امام زماں کے یوم ولادت کو یوم مستضعفین کے طور سے ہٹائے جانے کی مناسبت یا معنویت کیا ہے؟اسی اخبار تہران ٹائمز نے اپنے 7 جون کے اداریہ میں خوب وضاحت سے اس پر روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام زماں مھدی جو کہ اسوقت پردہ غیبوبیت میں ہیں جب ظاہر ہوں گے تو ان کا ظہور چونکہ عالمِ اسلامی کے نجات دھندہ کی حیثیت سے ہو گا اور ایک انقلاب عظیم وجود میں آئے گا جو ظلم و ستم کی ماری ہوئی دنیا کو عدل وانصاف کی نعمت سے مالا مال کرے گا اس لئے ایسے مسیحا کا یومِ ولادت بہت ہی بجا طور پر اسکا مستحق ہے کہ اسے کل عالم آج کے ستم پرور ماحول میں عدل وانصاف سے محروم انسانوں کو خوشخبری کے لئے مستضعف ڈے کے طور پر منایا کرے۔(انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ 43)

ایرانیوں نے تو دنیا کو یوں باور کرایا ہے کہ خمینی امامت کا جھنڈہ امام مھدی کے حوالے کرکے اپنے منصب سے دستبردار ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا کہ خمینی کی یہ آرزو پوری نہیں ہوئی اور وہ یہ جھنڈہ آیت اللہ خامنہ ای اسی کے حوالے کرکے چل بسے۔

اسی کتاب انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت میں یہ بھی ہے کہ:

ایک دن تہران کے مہمان خانہ بزرگ استقلال ہوٹل میں ایک اچھی طرح نمایاں نئے بینز کا اضافہ ہم نے دیکھا اور آپ. ے انداز کا بالکل منفرد اور یکتا تھا، اس کی عبارت عربی یہ تھی.

سنتحدوسنتلاحم حتی نسترد من ایدی المغتصبین اراضینا المقدسة القدس والکعبة والجولان

جسکا ترجمہ ہوتا ہے ہم متحد ہوں گے اور جنگ آزما ہوں گے یہاں کہ غاصبوں کے قبضے سے اپنی مقدس زمینیں بیت المقدس کعبہ اور گولا واپس لے لیں.

اس کافی عرصہ لگنے کی وجہ کیا تھی جو کچھ بھی واقع میں ہو لیکن ایک گمان تو بہرحال یہ کیا جاسکتا تھا کہ چند دن گزر جانے پر مہمانوں کے مجمع کی فضا کا اندازہ یہ کیا گیا کہ نظر قبول و پسند سے دیکھا جائے گا اور جو مجمع تھا واقعی اس میں کوئی ہلچل تو کیا سرسراہٹ بھی دیکھنے میں نہیں آئی ویسے اپنے اندازے میں جو بہت وسیع مطالعہ اور جائزے پر مبنی نہ تھا پچاسوں آدمی تھے جو اس پر ہل جاتے مگر ان میں اکثریت عربی نہ ماننے والوں کی تھی اور جو ایسے عربی دان میری نظر میں تھے وہ اتفاق سے جیسا کہ بعض طبیعتیں ہوتی ہیں کچھ مغفل قسم کے

(انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ45)۔

آگے چل کر مولانا صاحب لکھتے ہیں

بہرحال اس بینر کے آویزاں ہونے کے بعد جوں ہی میری نظر اس پڑی حجاج ایران کی نعرہ بازی حرمین یاد آگئی اور خمینی کا شاہ خالد کو جواب اور اب اوپر کے بیان کے پورے پس منظر کو اس بینر کے ساتھ رکھتے ہوئے کسی ہلکے شبہے کی بھی گنجائش اس میں نہیں رہی کہ حرمین بشمول کل عالم اسلام پر شیعی تسلط اس انقلاب کا ایک قطعی ہدف ہے ۔(انقلاب ایران اور اسکی اسلامیت صفحہ45)

مندرجہ ذیل بالا حقائق کی روشنی میں دیکھیں اور خمینی کے عزائم کو دیکھیں اب بھی ایرانی قائدین کی یہی کوشش ہے کہ وہ خمینی کی اسکیم کو عملی جامہ پہنائیں چنانچہ موجودہ صدر ہاشمی رفسنجانی اور آیتہ اللہ علی خامنہ ای عراق کے خلاف شیعوں اور کردوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ صدر صدام حسین کی حکومت کا تخت الٹ دیں تاکہ آگے چل کر ایران عراق میں اپنی پسند کی،حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے کیونکہ باغیوں کے سرکردہ لیڈر ایران میں سرکاری مہمان بنے ہوئے ہیں اور ایران انکی پوری مدد کررہا ہے۔

مولانا عتیق الرحمن صاحب :-خمینی کی تصویر پرستی پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

خمینی کی تصویر پرستی کی بات جہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ 5فروری کو پہلا جمعہ پڑھنے کے لئے جب ہم تہران یونیورسٹی کے میدان میں گئے جہاں شہر کا جمعہ ہوتا ہے اور موجودہ صدر جمہوریہ(اب خمینی کے جانشین) علی خامنہ ای یہیں کے امام جمعہ تھے تو یہ دیکھ کر آنکھیں پھٹی رہ گئیں کہ میدان جمعہ کے روسٹرم (منقئہ خطاب)کی پچھلی دیوار پر خمینی کی بہت بری تصویر آویزاں ہے اور پھر اسی پس منظر میں اس دن کے خطیب جمعہ(جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا) خطبہ دینے کے لئے آکر کھڑے ہوئے اور ہم کان خطبہ پر لگا کر اپنی پھٹی ہوئی نگاہوں سے خطیب کے ساتھ ساتھ کی تصویر ان کے پس منظر میں دیکھتے رہے.

خمینی کی تصویر پرستی اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ ان میں خود شیعی نظریہ سے بھی ایک جو بڑی حیرت ناک بات پیدا ہو چکی ہے وہ بھی لوگوں کو چونکانے سے قاصر ہے اور وہ یہ کہ حضرت علیؓ کی خیالی تصویریں کہیں کہیں ملتی ہیں خاص کر بسوں میں ہم نے آگے پیچھے لگی دیکھیں جیسے ہندوستان میں کرشن جی اورگرونانک جی وغیرہ کی تصویریں بعض ہندوؤں اور سکھوں کی بسوں میں ملا کرتی ہیں تو یہ حضرت علیؓ کی تصویریں بھی خمینی کی تصویروں کے آگے بالکل دب کر اور قطعاً بےوقعت ہو کر رہ گئی ہیں خمینی کی تصویروں کے ساتھ دلی تنظیم اور لگاؤ کا معاملہ ہے جبکہ حضرت علیؓ کی تصویروں کا مصرف صرف برائے زینت معلوم ہوتا ہے یہ چیز ہماری دوگنا تکلیف کا باعث بنی،ایک طرف خمینی کی تصویر کی پرستش میں شرک پروری کا سامان،دوسری طرف حضرت علیؓ کی تصویر اگرچہ وہ فرضی ہواس کی بےوقعتی۔(انقلاب ایران اور اس کی اسلامیت صفحہ 20،19)

خمینی کے بارے میں ان کے ایک ساتھی کی رائے

صفحہ 7 از 13