شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 8 از 13

ڈاکٹر موسیٰ موسوی اصفہانی ایک شیعہ مجتھد ہیں اسی کے ساتھ ساتھ وہ علوم جدیدہ کے بھی حامل ہیں موصوف نے تہران یونیورسٹی سے قانون اسلامی میں ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی کیا اور پیرس یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی کیا اور پیرس یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی کیا اور پیرس یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی کیا اور تہران یونیورسٹی میں اسلامی اقتصادیات قائدین کی تحریک میں شامل تھے اور دو مرتبہ اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے یہ شاہ کے خلاف انقلابی قائدین کی تحریک میں شامل تھے انہوں نے حال ہی میں عربی زبان میں (الثورۃ البائستہ) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اس کتاب میں ایک عنوان ہے انا والخمینی اسی فصل کا اردو ترجمہ ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مارچ اپریل 1986 میں شائع ہوا ہے جس میں خمینی کے بارے میں حیران کن انکشافات ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ انقلاب ایران سے پہلے میں نے

خمینی سے تفصیلی گفتگو کی جس میں اس نے کہا تھا کہ خود قتل کرنے والے سے قصاص کیا جاتا ہے قتل کا حکم دینے والے سے نہیں اسپر ڈاکٹر موسی موسوی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

سخت تعجب ہے کہ یہ بات کہنے والا اپنی حکومت کے چار سالوں میں چالیس ہزار انسانوں کو قتل کرتا ہے جس میں بوڑھے جوان، مرد اور عورتیں سب ہوتی ہیں اور ان کا جرم یہ کہنا ہوتا ہے کہ حریت ذندہ باد واستبداد مردہ باد.

مذکورہ رائے رکھنے والے نے خود لاکھوں کردوں اور عربوں، بلوچوں اور ترکماموں کو یہ کہنے پر قتل کرایا کہ ہم شاہ کے زمانے کے منصوبہ حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔(الثورة البائستہ بحوالہ الفرقان لکھنؤ صفحہ 55بابت ماہ مارچ اپریل 1986)

                 سنی مسلمانوں پر مظالم

خمینی کے برپا کردہ عظیم ایرانی اسلامی انقلاب سے اہل سنت کو کیا ملا بلوچستان (ایران) کے طلباء اھل سنت اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کی طرف سے شائع کردہ کتابچہ بنام خطرہ کی گھنٹی کے 41 صفحہ پر مرتب لکھتے ہیں کہ :

ایران کے اندر بلوچستان اور کردستان میں جو سنی آباد ہیں انکے ساتھ خمینی ازم کا رویہ انتہائی وحشیانہ ہے،ان پرتقریر و تحریر کی مکمل پابندی عائد ہے، ان کی دل آزاری کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے ابھی تک بیسیوں سنی مساجد و مدارس کو بلڈروزروں کے ذریعہ منہدم کیا گیا ہے ہزاروں مسلمانوں کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعہ موت کی وادیوں میں دھکیلا گیا ہے ہزاروں ابھی تک قید وبند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں، سینکڑوں پر جیلوں میں بےپناہ تشدد کرکے ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان کو ہمیشہ کے لئے معذور بنایا گیا ہے درجنوں ایسے افراد بھی ہیں جن کو دماغی کرنٹ لگا کر اور مخبوط الحواس بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔

ان اقتباسات سے آپ کو ایران میں رائج جمہوریت اور اسلام کا خوب اندازہ ہو گیا ہوگا اب آپ ایران کی مجودہ حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں،یہ فیصلہ آپ خود کریں!

خمینی کے شیعہ انقلاب کے بعد جو سنی مسلمان ایران چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں مہاجر بن کر رہ رہے ہیں ان کے لئےخمینی کے طے شدہ پروگرام کی ایک جھلک آپ دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔

1):-کراچی میں خمینی کے مخالفوں پر حملہ کرنے والے سمندری راستہ سے فرار ہو گئے(روزنامہ امن جنگ کراچی 11جولائی1987ء فوٹو دیکھیں صفحہ593پر)

2):-مجھے حکومت نے کسی دوسرے ملک میں خفیہ مشن کے لئے منتخب کیا تھا. کوئٹہ میں ایرانی دھشت گردوں کا اقبالی بیان۔ (روزنامہ جنگ 21 جولائی 1987ء فوٹو دیکھیں صفحہ 594پر)

دوستو ! یہ ہے اتحاد بین المسلمین اور شیعہ سنی بھائی بھائی کی اصل شکل وصورت،جو خود ایران کی موجودہ حکومت پاکستان میں ایرانی سنی مہاجرین مسلمانوں سے کر رہی ہے ، پھر ایران کے اندر خود سنی مسلمانوں کا کیا حال ہوگا؟ذرا اندازہ لگائیں۔

خمینی کے عقیدے خود ان کی کتابوں کے آئینہ میں

اب یہاں خمینی کے عقیدوں کے بارے میں کچھ خاص نکات پیش کررہا ہوں

چنانچہ یہ صاحب جناب رسول اللہﷺ کے رفقاء، قرآن کریم کے اولین مخاطبین،قرآن و سنت کے حاملین اور جنت الفردوس کے باسیوں حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں اپنی رسوائے زمانہ کتاب کشف الاسرار فارسی میں لکھتا ہے کہ

(1) وہ لوگ (صحابہؓ) جو سوائے دنیا اور حصول حکومت کے اسلام اور قرآن سے سروکار نہیں رکھتے تھے جنہوں نے قرآن کو اپنی نیاتِ فاسدہ کی تکمیل کا محض وسیلہ بنایا تھا ان کے لئے ان آیات کا(جو حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل اور آئمہ کی امامت پر دلالت کرتی تھی) قرآن مجید سے نکال دینا کتاب آسمانی کا تحریف کرنا اور ہمیشہ کے لئے قرآن کو دنیا والوں کی نگاہ سے اس طرح مستور بنا دینا کہ قیامت کے دن یہ ننگ و عار مسلمانوں اور قرآن کے حق میں باقی رہے، آسان تھا تحریف کا وہ عیب جو مسلمان یہود و نصارٰی پر لگاتے ہیں ان صحابہؓ پر ثابت ہے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)کشف الاسرار صفحہ 114فوٹو دیکھیں 525صفحہ پر)

اور اپنی کتاب حکومتہ الاسلامیہ میں لکھتا ہے :

(2) امام کو مقام محمود (درجہ عالی) اور ایسی خلافت تکوینی حاصل ہوتی ہے جس کی عظمت اور غلبہ کے سامنے کائنات کے تمام ذرے سرنگوں ہوتے ہیں ہمارے دین کی قطعی الثبوت مسائل میں سے یہ ہے کہ ہمارے اماموں کو وہ مقام حاصل ہے جس کو نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے نہ نبی جس کی بعثت ہوئی (الحکومتہ الاسلامیہ صفحہ 113عکس صفحہ 532 پر)

امام اسی کتاب کے صفحہ 113 پر لکھتے ہیں.

(3) ہمارے آئمہ کی تعلیم قرآن کی وحی کی تعلیم جیسی ہے، یہ کسی خاص طبقہ یا خاص دور کے لوگوں کیساتھ مخصوص نہیں لیکن ہر زمانے اور ہر علاقے کے تمام کے تمام انسانوں کے لئے ہے اور قیامت تک اس کا نفاذ اور اس کی اتباع قرآن کی طرح واجب ہے.الحکومتہ الاسلامیہ صفحہ 113)

امام غائب زماں(امام مھدی) اور حضور ﷺ کا تقابل خمینی کے الفاظ میں

کل نیشن ٹیلیویژن کے دوسرے حصے کے افتتاح کے موقع پر خمینی کا ایک پیغام نشر ہوا جس میں اس نے بارھویں امام حضرت مھدی امام زمان کے یوم ولادت کی نشان دہی کرکے اپنے نظریہ کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے

صفحہ 8 از 13