شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار…

شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب

  مولانا غلام محمد

صفحہ 9 از 13

امام زمان معاشرتی انصاف کے پیغام کے حامل ہونگے اور پوری دنیا کو عدل ل مہیا کریں گے،یہ ایسا فریضہ ہے جس میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ بھی پوری طرح کامیاب نہی ہوئے (معاذ اللہ) اگر حضورﷺ کا جشن ولادت پوری دنیائے اسلام کے لئے پرعظمت ہے توامام زمان کا جشن منانا تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ذیادہ پر عظمت ہے میں اس کو لیڈر نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کی حیثیت اس سے ذیادہ ارفع ہے، میں اس کو اول بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ اسکے بعد دوسرا کوئی بھی نہیں ہے۔اشتہار منجانب حزب المصطفی پاکستان فوٹو دیکھیں صفحہ 576پر)

دوستو! اب آپ خود سوچیں کہ ایسے عقائد اور نظریات کے حامل انسان کا لایا ہوا انقلاب کیا ہوگا یہ اسلامی انقلاب ہو گا یا شیعی انقلاب،اور ایسے شخص کے نعرےاتحاد بین المسلمین شیعہ سنی بھائی بھائی وحدت اسلامی وغیرہ سچے نعرے ہوں گے یا یہ صرف کتمان اور تقیہ یعنی جھوٹ دھوکہ اور فریب ہوں گے؟

   شیعوں کی ابدی سنی دشمنی کے اسباب

اب آخری بات عور کرنے کی یہ ہے کہ شیعوں کی دائمی سنی دشمنی کے اصلی اسباب کیا ہیں؟کیونکہ تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء سے لیکر آج تک شیعوں نے ہر قسم کا نقصان صرف اسلام اور سنی مسلمانوں کو پہنچایا ہے تاریخ میں ایسی کسی جنگ کا نام نہیں ملتا جو شیعوں نے کسی غیر مسلم حکومت سے کی ہو یا انہوں نے کسی غیرمسلم حکمراں کو قتل کیا ہو یا انہوں نے کسی غیر مسلم حکمران کے خلاف ملک میں انتشار پیدا کیا ہو، اسکا جواب بھی خود ان ہی تاریخ اور آج کے درجہ اول کی معتبر ترین کتابوں سے یہ معلوم ہوتا کہ ان شیعوں کے عقیدہ کے مطابق حضورﷺ کے وصال کے فورا بعد 3 صحابہؓ کے علاوہ آپ ﷺ کے باقی تمام صحابہ کرامؓ (نعوذ باللہ) مرتد اور کافر ہو گئے تھے اور انہوں نے غاصبانہ طور پر حضرت علیؓ کی خلافت پر قبضہ کیا، قرآن میں تحریف کی اور ان لوگوں کے قائد اور امام زمان غائب کے نائب خمینی کے بقول کہ ان صحابہؓ کو دنیا اور حکومت حاصل کرنے کے سوا اسلام جسکی اصل بنیاد قرآن و سنت ہے وہ شیعوں کے ہاں غیر معتبر ہے بلکہ وہ اسلام نہیں ہے شیعہ مذہب میں ہے کہ جب امام غائب مھدی ظاہر ہوں گے تو وہ یہودیوں اور عیسائیوں اور دوسرے غیر مسلموں کو نہیں بلکہ پہلے غاصبوں پیغمبرﷺ کے جانشین اور خلفاء اور دوسرے صحابہ کرامؓ اور سنی مسلمانوں کو اس دنیا میں ذندہ کرکے سزا دیں گےاب جب کہ شیعوں کے بنیادی عقائد میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جب ان کا امام العصر امان زماں،غائب(مھدی)ظاہر ہوگا تو سنیوں کو زندہ کرکے اس دنیا ہی میں سزا دیگا تو پھر شیعہ اپنی ذندگی میں سنیوں کو ہر وقت سزا دینے کے نقصان پہنچانےیہاں تک کہ موقع ملنے پر سنیوں کو قتل کرنے اور کرانے کے لئے کیوں کوشاں ہوں گے یہ نہایت آسان اور فطری جواب ہے جسمیں کوئی شبہ نہیں ہے پھر تاریخ بھی ہمیں یہی حقیقت بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے شروع سے لیکر آج تک بغیر کسی وقفہ کے ہر جگہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور انہوں نے کبھی بھی اور کہیں بھی قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کیا ہے اور یہ حقیقت ہے جسکا انکار کرنا ناممکن ہے ایسی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ پاکستان میں جب بھی قرآن و سنت پر مبنی قانون کے نفاذ کی کوشش ہوئی تو شیعہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ قانون منظور نہیں ہے اور یہ فقہ جعفریہ کے قانون کے لئے پڑتے ہیں جسکو زرارہ بن اعین نے بنا کرامام جعفر صادق کی طرف منسوب کیا ہے.(مذاہب عالم تقابلی مطالعہ صفحہ 683)

زرارہ وہ شخصیت ہے جس پر شیعوں کی معتبر کتابوں کے مطابق حضرت جعفر صادقؒ نے خود بار بار لعنت کی ہے پھر یہاں شیعوں کا پر فریب نعرہ اتحاد بین المسلمین کی اصلی حقیقت بھی معلوم ہو گئی کہ یہ شیعہ مذہب کے کتمان اور تقیہ کی ایک چال ہے جس میں شیعوں کے اپنے مذہبی اور سیاسی اغراض پوشیدہ ہیں اور اس میں اسلام اور سنی مسلمانوں کے اتحاد اخوت کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ خود خمینی کی تقریروں پر مشتمل ایک رسالہ خطاب بہ نوجوان کے عنوان سے اس کی خود ساختہ فرانس والی جلاوطنی کے دوران فرانس میں ہی فارسی زبان میں چھپا اس تاریخی خطاب میں اس نے کہا کہ:-

دنیا اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں میں ہماری قوت اس وقت تک تسلیم نہیں ہو سکتی جب تک کہ مکہ اور مدینہ پر ہمارا قبضہ نہیں ہو جاتا چونکہ یہ علاقہ مہبطِ وحی اور مرکز اسلام ہے اس لئے اس پر ہمارا غلبہ و تسلط ضروری ہے میں جب فاتح بن کر مکہ اور مدینہ میں داخل ہوں گا تو سب سے پہلے میرا کام یہ ہو گا کہ حضور ﷺ کے روضہ میں پڑے ہوئے دو بتوں (ابوبکرؓ و عمرؓ) (معاذ اللہ) کو نکال باہر کر دوں گا.

اب یہ کہتا ہوں کہ ایسے ناپاک ارادہ رکھنے والے کسی مذہب کے پیروکار سے یہ گمان رکھنا کہ وہ کسی مسلم حکومت کا خیرخواہ ہو سکتا ہے یا ان کا قران و سنت پر مبنی اسلام کے پیروکاروں سے نیک نیتی سے اتحاد ہو سکتا ہے یہ ایسی خوش فہمی ہے کہ جس کو فریب و دھوکہ کے سوا کچھ بھی نہی کہا جائے گا دعاء ہے کہ پروردگار اسلام اور ہم مسلمانوں کی خود حفاظت فرمائے آمین ثم آمین

حج کے موقعہ پر ایرانی حاجیوں کی حرم شریف کے اندر نعرہ بازی اور مظاہرہ کے بارے میں شاہ خالدین عبدالعزیزؒ کا انتہائی مہذب الفاظ سے مزین شکایتی خط۔

      خمینی کے نام شاہ خالد کا خط

              بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب عالی! آیتہ اللہ الخمینی

صفحہ 9 از 13