کیا خراجی زمین کے بارے میں فاروقی مؤقف سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف تھا؟
علی محمد الصلابییہ کہنا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خراج کی زمین کو تقسیم نہ کر کے سنت نبویﷺ کی مخالفت کی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین کو فاتحین میں تقسیم کیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ اگر حاکم وقت بذریعہ جنگ ملنے والی مفتوحہ زمین کو تقسیم نہ کرے تو اس کا فیصلہ قابل قبول نہ ہو گا، ایک بڑی غلطی ہے اور خلفائے راشدینؓ کے حق میں سخت گستاخی ہے کیونکہ خیبر کی زمین کے متعلق آپﷺ کا عمل تقسیم کے جواز پر دلالت کرتا ہے، وجوب پر نہیں۔ اگر تقسیم عدم وجوب پر ہمارے سامنے کوئی دلیل نہ بھی ہوتی تو خود خلفائے راشدین، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم کا عمل عدم وجوب کے لیے دلیل بن سکتا تھا، لیکن اس سے قطع نظر بطور دلیل ہمارے سامنے دور رسالت کا یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ مکہ بذریعہ جنگ فتح کیا گیا، جیسا کہ بے شمار صحیح احادیث سے ثابت ہے، بلکہ سیرت و مغازی کے مؤرخین کے نزدیک یہ بات تواتر کی حد تک پہنچتی ہے، چنانچہ جب اہل مکہ نے صلح حدیبیہ کا عہد توڑ دیا تو آپﷺ نے اپنے صحابہؓ کے ساتھ مکہ کے قریب ’’مر الظہران‘‘ میں پڑاؤ ڈالا، لیکن مکہ والوں میں سے کوئی آپﷺ سے مصالحت کے لیے نہیں آیا اور نہ ہی آپﷺ نے اپنے کسی آدمی کو ان کے پاس صلح کے لیے بھیجا، البتہ ابو سفیان مسلمانوں کی جاسوسی کے لیے باہر نکلا تھا۔ اسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے گرفتار کر لیا اور بطور قیدی لائے اور حاصل کلام یہ کہ حضرت عباسؓ نے ان کو امان دے دی اور وہ مستامن کے حکم میں ہو گیا اور اس کے بعد وہ اسلام لے آئے اور مسلمان بن گئے۔ پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ کفار مکہ کی اجازت کے بغیر ابو سفیان اسلام لے آنے کے بعد مصالحت کر لیں؟
میری بات کی مزید وضاحت و تائید نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے کہ:
مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِیْ سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہٗ فَہُوَ آمِنٌ۔
(صحیح مسلم: حدیث 86 صفحہ 1780)
’’جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا اسے امان ہے، جو اسلحہ پھینک دے اسے امان ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا اسے امان ہے۔‘‘
یہ حدیث بتاتی ہے کہ آپﷺ نے اس شخص کو امان دی جس نے آپﷺ سے قتال نہیں کیا، اگر اہل مکہ نے صلح کی ہوتی اور وہ معاہد ہوتے تو انھیں اس بات کی ضرورت نہ تھی۔ نیز آپﷺ نے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو ’’طلقا‘‘(حدیث میں یہ الفاظ وارد ہیں: ’’اِذْہَبُوْا أَنْتُمُ الطَّلَقَائُ۔‘‘ جاؤ تم سب آزاد ہو۔ مترجم) آزاد کہا۔ اس لیے کہ آپﷺ نے انھیں ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے لوگوں کی طرح قید سے رہائی دے دی۔
جنگ کے ذریعہ مکہ فتح ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ نے اس موقع پر مردوں اور عورتوں کے ایک مخصوص گروہ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔نیز حدیث کی صحیح و معتبر کتب سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے فتح مکہ کے خطبہ میں فرمایا تھا:
إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَمٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَلَمْ یَحِلَّ فِیْہِ الْقِتَالُ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ وَاُحِلَّ لِیْ سَاعَۃً فَہُوَا حَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ۔
(السنن الکبٰری: النسائی: الحج: جلد 2 صفحہ 39، الفتاوی: جلد 20 صفحہ 313)
’’بلاشبہ یہ شہر حرم یہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے، اس میں قتال کرنا مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھا، صرف میرے لیے ایک گھڑی کچھ مخصوص وقت حلال کی گئی، اب وہ بھی اللہ کی حرمت کے ساتھ حرام ہے۔‘‘
جو اس بات کی دلیل ہے کہ مکہ بذریعہ جنگ فتح ہوا اور آپﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر مغفر لوہے کا خود تھا، آپ احرام کی حالت میں وہاں نہیں گئے تھے، پس اگر اہل مکہ نے آپ سے صلح کی ہوتی تو آپ کے لیے اس کے حلال ہونے کے کوئی معنیٰ نہ ہوتے جیسا کہ اگر آپ ان بستی والوں سے صلح کرتے جو حدود حرم سے باہر ہیں، بلد حرام مکہ کے حلال کیسے ہو سکتا تھا جب کہ اس کے باشندے آپ سے مصالحت کر چکے تھے؟
مزید برآں فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ نے حضرت خالدؓ سے قتال و جدال کیا اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے کافروں کے ایک گروہ کو قتل کیا۔
خلاصہ یہ کہ فتح مکہ سے متعلق آثار و روایات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یقیناً جان لے گا کہ مکہ بذریعہ جنگ فتح ہوا تھا۔م اس کے باوجود نبی کریمﷺ نے اس کی سر زمین کو تقسیم نہیں کیا اور نہ وہاں کے مردوں کو غلام بنایا، چنانچہ خیبر بذریعہ جنگ فتح ہوا اور آپﷺ نے اس کی مفتوحہ اراضی کو فاتحین میں تقسیم کیا اور مکہ بھی بذریعہ جنگ فتح ہوا لیکن آپ نے اس کی زمین کو فاتحین میں تقسیم نہ کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں عمل جائز ہیں
(الفتاوی: جلد 20، صفحہ 312، 313)
اور جب مسئلہ میں اتنی وسعت ہے تو مفتوحہ اراضی کو فاتحین میں تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے حضرت عمرؓ سنت نبویﷺ کے مخالفت نہیں کہے جائیں گے۔ دراصل آپؓ کا یہ مؤقف جن چند دلائل پر مبنی تھا وہ یہ تھے:
1۔ سورہ حشر کی فے والی آیت۔
2۔ بذریعہ جنگ فتح مکہ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل کہ آپؓ نے وہاں کی زمین وہاں کے باشندوں کے حوالے کر دی اور اس پر خراج نہیں مقرر کیا۔
3۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی طرف سے اس مسئلہ کے لیے منعقد کی گئی میٹنگ میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد پاس کی جانے والی قرارداد۔
بہرحال اس مسئلہ میں فاروقی مؤقف کی صحت ثابت ہو جانے کے بعد بذریعہ جنگ مسلمانوں کی ملکیت میں آنے والی ہر زمین کے لیے آپؓ کا عمل ایک سنت بن گیا جس کی پیروی ہوتی رہی اور فاتح حکام مفتوحہ زمین کو ان کے مالکان کے قبضہ میں دے کر ان سے خراج وصول کرتے رہے۔ یہیں سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اموال غنیمت میں منقولہ و غیر منقولہ یعنی اراضی کی تقسیم میں تفریق کا مؤقف اختیار کیا، اس میں آپؓ شرعی نصوص کو قوی ترین دلیل مانتے تھے، آپؓ نے شرعی نصوص سے دلائل کو جمع کیا اور ان میں آپؓ کی کامل و درست نظر کو جہاں تک رہنمائی ملی اسی اعتبار سے انہیں آپ نے بطور استدلال استعمال کیا۔
علاوہ ازیں آپؓ کے اس اقدام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مفتوحہ ممالک کے باشندوں میں ان کی غیر منقولہ جائدادیں و ملکیتیں انہی کے ہاتھوں میں باقی رہیں اور اسلامی لشکر اراضی و دیگر غیر منقولہ جائداد، اسباب عیش و عشرت اور مال و دولت کے فتنوں و جھگڑوں سے محفوظ رہا۔
(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 131)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہر اہم مسئلہ میں قرآن کی طرف پلٹتے تھے، وہیں سے اس کا حل ڈھونڈتے تھے، مختلف آیات کو مختلف اعتبار سے پڑھتے، آیات کے مفہوم و منطوق کو سمجھنے میں تدبر و تفکر سے کام لیتے، مفہوم کو منطوق کے موافق کرتے، بعض آیات کی بعض آیات سے تخصیص کرتے یہاں تک کہ اس نتیجہ تک پہنچ جاتے جو متوقع مصلحتوں کے مفاد میں ہو۔ آپؓ کی فقہی بصیرت شریعت کی روح سے میل کھاتی ہوئی ہوتی تھی۔ صرف ظاہری نصوص پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ دراصل شرعی نصوص کے ذریعہ سے شرعی مقاصد تک آپؓ کی بصیرت و رسائی نے آپؓ کے لیے مذکورہ تمام علمی مراحل کو آسان تر کر دیا تھا، کیونکہ یہ متعدد مراحل سے گزرنے والی اور ایسی پر پیچ کارروائی ہے کہ جس میں صرف اسی کے لیے قدم رکھنا بہتر ہے جسے اجتہاد پر قدرت و تجربہ حاصل ہو، درست و پختہ سمجھ سے نوازا گیا ہو، اور اگر اپنے اجتہادی فیصلہ پر اقدام کرنا مناسب سمجھے تو اقدام کی اس میں جرأت بھی ہو۔ حضرت عمر فاروقؓ پیش نظر مسئلہ میں اپنے اجتہادی فیصلہ پر سختی سے جمے رہے حتیٰ کہ بعض لوگ یہاں تک سوچ بیٹھے کہ بعض اوقات آپ شرعی نصوص کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ حالانکہ آپ کی شخصیت ہرگز ایسی نہ تھی، آپؓ ایک ممتاز مجتہد تھے آپؓ کو ایسا ربانی ملکہ ملا تھا کہ آپؓ کا ہر اجتہاد شرعی روح کے مماثل و موافق ہوتا تھا، یہاں تک کہ بسا اوقات آپؓ کی کوئی مخصوص رائے ہوتی تھی اور اسی کے موافق قرآن کی آیات نازل ہو جاتیں۔
اس واقعہ سے مزید ایک نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی تفسیر کرتی ہیں اور ایسے ہی سنت نبویﷺ کا معاملہ بھی ہے۔ لہٰذا مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ جب کسی مسئلہ کا شرعی حکم معلوم کرے تو اس سے متعلق تمام نصوص پر غور کرے، نہ کہ چند ایک پر اکتفا کرے، ورنہ ایسی صورت میں اس کا اجتہاد غیر معتبر اور نتیجہ ناقابل عمل ہو گا۔
(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 131، 132 )