صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 7

صدیقؓ کا دروازہ

                              بسم اللہ الرحمن الرحیم

 افلاطون نامی رافضی کا علمی محاسبہ

افلاطون صاحب کی تحقیق کا آغاز ایک سکین سے ہوتا ہے۔ سکین کا عنوان ہے

 اہلبیت اور صحابہؓ کے درمیان واضح فرق 

ہادی کون ہونا چاہئے؟" یہ سکین مجمع الزوائد کا ہے۔ اس سکین پر اپنی تعلیق میں فرماتے ہیں:

اہلسنت برادران کی حسنِ روایات میں: رسول اللہﷺ نے مسجد کی طرف آنے والے تمام راستے بند کرنے کا حکم دیا صرف حضرت علیؓ کا دروازہ جوں کا توں رہنے دیا۔ لوگو! نے کہا یا رسول اللہﷺ آپ نے ہم سب کے دروازے تو بند کروا دیے مگر علیؓ کا دروازہ کھلا رہنے دیا؟

رسول اللہﷺ نے جواب دیا "میں نے تمہارے دروازے بند نہیں کئے، اللہ نے کئے ہیں۔"

حالانکہ مجمع الزوئد میں لکھا ہے:

وعن عبد الله بن الرقيم الكناني قال: خرجنا إلى المدينة زمن الجمل ، فلقينا سعد بن مالك بها،فقال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بسد الأبواب الشارعة في المسجد، وترك باب علي، رواه أحمد،وأبو يعلى، والبزار، والطبراني في الأوسط، وزاد: قالوا: يا رسول الله،سددت أبوابنا كلها إلا باب علي قال: "ما أنا سددت أبوابكم ولكن الله سدها وإسناد أحمد حسن ( مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 114)

عبداللہ بن رقیم کنانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم جنگِ جمل کے دنوں میں مدینہ کی طرف نکلے۔ ہم وہاں پر سعد بن مالک سے ملے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے حکم دیا تھا کہ مسجد کی طرف نکلنے والے تمام راستے بند کر دیئے جائیں اور صرف حضرت علیؓ کا دروازہ چھوڑ دیا جائے۔ اس کو احمد، ابو یعلی بزار اور طبرانی نے اوسط میں نقل کیا ہے، اور (طبرانی نے) یہ مزید نقل کیا ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم سب اپنے دروازے بند کر دیں سوائے حضرت علیؓ کے دروازے کے؟ انہوں نے فرمایا: میں تم لوگوں کے دروازے نہیں بند کر رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بند کئے ہیں اور احمد کی اسناد حسن درجے کی ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ زیادت (انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ، کیا ہم سب اپنے دروازے بند کر دیں سوائے حضرت علیؓ کے دروازے کے؟ انہوں نے فرمایا: میں تم لوگوں کے دروازے نہیں بند کر رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بند کئے ہیں) طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے اور علامہ ہیثمی نے اس کی اسناد کو حسن نہیں کہا بلکہ احمد کی اسناد کو حسن کہا ہے جس میں یہ زیادت نہیں ہے۔ لیکن احمد کی اسناد بھی حسن نہیں، بلکہ مسند احمد کے محقق  احمد شاکر نے اس پر جرح کی ہے، اور ثابت کیا ہے کہ احمد کی اسناد ضعیف ہیں۔

مسند احمد کی روایت یوں ہے:

حدثنا حَجَّاج حدثنا فِطرْ عن عبد الله بن شَريك عن عبد الله بن الرُّقَيْم الكناني قال: خرجنا إِلى المدينة زمن الجَمَل، فلقينا سعد ابن مالك بها، فقال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم - بسدّ الأبواب الشارعة في المسجد وترك باب عليّ (مسند احمد شاکر: جلد 2 صفحہ 240)

جیسا کہ آپ نے دیکھا، اس روایت میں مذکورہ زیادت نہیں ہے۔ اس کی سند کے متعلق احمد شاکر فرماتے ہیں:

إسناده ضعيف، عبد الله بن الرقبم، بالتصغير، الكناني: مجهول، روى له النسائي في الخصائص وقال: "لا أعرفه، وقال البخاري: "فيه نظر"عبد الله بن شريك العامري الكوفي: ثقة، وثقه أحمد وابن معين وأبو زرعة، وقال النسائي في الضعفاء: "ليس بالقوي، مختاريَّ"، يعني من أصحاب المختار الكذاب، وكان ذلك في أوائل أمره، ولكنه تاب، كما في الميزان فطر: هو ابن خليفة والحديث في مجمع الزوائد 9: 114 ونسبه أيضاً لأبي يعلى والبزار والطبراني في الأوسط، وقال "وإسناد أحمد حسن وليس كما قال، بل هو ضعيف كما تری۔

اس کی اسناد ضعیف ہیں۔ عبداللہ بن رقیم کنانی مجہول ہے۔ امام نسائی نے خصائص میں اس سے روایت لی ہے، اور فرمایا: میں اسے نہیں جانتا۔ اور امام بخاری نے فرمایا: فیہ نظر عبداللہ بن شریک عامری ثقہ ہے، احمد اور ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے، اور امام نسائی نے ضعفاء میں فرمایا ہے:قوی نہیں ہے، اور مختاری ہے، یعنی مختار کذاب کے اصحاب میں سے ہے۔لیکن وہ شروع میں اس طرح تھا،بعد میں اس نے توبہ کر لی تھی،جیسا کہ میزان میں ہے۔فطر سے مراد فطر ابن خلیفہ ہے۔

اور یہ حدیث مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 114 میں بھی ہے،اور صاحبِ مجمع الزوائد نے اسے ابویعلی، بزار اور طبرانی کی اوسط میں ہونے کا ذکر بھی کیا ہے۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ احمد کی اسناد حسن ہیں، جبکہ ایسا نہیں جیسا کہ انہوں نے فرمایا بلکہ اس  کی اسناد ضعیف ہیں جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا۔

( مسند احمد شاکر جلد 2 صفحہ 240 مطبوعہ دارالحدیث القاھرہ)

اب ایسی فحش غلطی کرنے کے باوجود بھی افلاطون میاں کی شان ہے کہ بڑے بڑے محدثین پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔

اس کے بعد امام سیوطیؒ کا قول نقل کرتے ہیں جس میں انہوں نے بیس احادیث اس سلسلے میں نقل کرنے کے بعد فرمایا:

سب سے پہلے ہم اس باب میں حضرت علیؓ کیلئے وارد احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں سے کافی احادیث ذکر کرنے کے بعد علامہ جلال الدین السیوطی رحمۃاللہ نے لکھا کہ:

فهذه اكثر من عشرين حديثا في الامر بسد الابواب وبقيت احاديث اخر تركتها كراهة لاطالة 

یہ بیس سے زائد احادیث ہیں دروازے بند کرنے کے بارے میں، اور دیگر احادیث بھی ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ترک کیا ہے۔ ( الحاوی الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 15)

افلاطون میاں نے مذکورہ عبارت کا سکین تو لگا دیا ہے، لیکن ان بیس سے زائد احادیث کا مطالعہ نہیں کیا۔ ان بیس سے زائد احادیث میں سے چودہ کے قریب احادیث تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے متعلق ہیں، اور دس احادیث حضرت علیؓ کے بارے میں ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں جو احادیث ہیں، ان کے بارے میں ایک حدیث ذکر کرنے کے بعد امام سیوطی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

هذا حديث متواتر كما سأشير إلى طرقه

یہ حدیث متواتر ہے جیسا کہ میں اس کی طرق کی طرف آؤں گا۔

(الجامع للفتاوی: جلد 3 صفحہ 15)

سبحان اللہ! امام سیوطیؒ کی کتاب کا پہلا حوالہ ہی افلاطون میاں پر بھاری پڑ گیا ہے۔ لیکن افلاطون میاں اپنی ضد سے کہاں باز آنے والے ہیں؟ پھر فرماتے ہیں:

تفصیلاً ہم اس باب میں مولا علیؓ کے لئے پانچ صحابہؓ کی احادیث نقل کرتے ہیں۔

صفحہ 1 از 7