صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 7

پہلی روایت حضرت عمر بن خطابؓ والی ضعیف ہے۔ افلاطون میاں نے جو سکین لگایا ہے، اسی کے حاشیے پر لکھا ہے:

بل المديني عبد الله بن جعفر ضعيف

بلکہ عبداللہ بن جعفر المدینی ضعیف ہے۔

دوسری روایت سعد بن وقاصؓ کی ہے، جس میں فطر راوی ہے جو کہ شیعت سے متہم ہے۔

تیسری روایت زید بن ارقم  کی ہے، اور اس میں میمون نامی راوی ضعیف ہے۔

چوتھی روایت حضرت ابنِ عباسؓ کی ہے، اور اس  میں ابوبلج نامی راوی ہے، جس کی توثیق موجود ہے، لیکن اس  کی تضعیف بھی کی گئی ہے۔ علامہ ہیثمی اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ھو ثقہ وفیہ لین

یعنی وہ ثقہ ہے، لیکن کمزور ہے۔

 (مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 119)

 پانچویں روایت ابنِ عمرؓ  کی ہے، جس میں ابو اسحاق راوی موجود ہے، جو کہ تدلیس سے متہم ہے، اور یہاں عن سے روایت کر رہا ہے، لہٰذا روایت میں ضعف بہرحال موجود ہے۔

یہ افلاطون میاں کی پانچ روایتوں کا حال ہے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا۔ اب ان کو لے کر متواتر حدیث کا انکار کرنا افلاطون میاں کا کارنامہ ہی ہو سکتا ہے۔

اس میں سے کوئی ایک حدیث بھی علی شرط الشیخین نہیں ہے یعنی متفق علیہ نہیں ہے۔

پھر بھی ہم وہی کہتے ہیں جو علامہ ابن حجرؒ نے فرمایا:

وهذه الاحاديث يقوي بعضها بعضا

یہ احادیث ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 18)

اور پھر افلاطون میاں فرماتے ہیں:

لیکن افسوس کہ اس قدر تواتر کے باوجود ان احادیث پر اہلسنت کے چند علماء نے بغیر کسی دلیل کے نکتہ چینی کی ہے۔

 میں کہتا ہوں کہ نکتہ چینی بغیر کسی وجہ کے نہیں کی۔ یہ روایت ظاہری طور پر متواتر حدیث کے خلاف ہے جو حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں وارد ہوئی ہے، اس وجہ سے بعض علماء کو اشتباہ ہوا کہ یہ روایت گھڑی گئی ہے۔ لیکن دیگر علماء نے اس کی تاویل کی، اور تاویل قابلِ قبول ہے۔

پھر اس کے بعد افلاطون میاں نے علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ، علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ اور علامہ ابن جوزی کے حوالے دیئے کہ انہوں نے اس حدیث کا انکار کیا، اور پھر علامہ سیوطی رحمۃاللہ کی کتاب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے ان روایات کے متواتر ہونے کا تذکرہ کیا جو اس بارے میں آئی ہیں کہ محمدﷺ  نے حضرت علیؓ کے دروازے کو چھوڑ کر تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا، جو مسجدِ ِنبویﷺ کی طرف کھلتے تھے، اور اس کے بعد علامہ بزدوی رحمۃاللہ کی کتاب کا حوالہ دیا کہ متواتر حدیث کا انکار کفر ہے۔

میں کہتا ہوں کہ علامہ بزدوی رحمۃاللہ کی عبارت کا اگلا حصہ پڑھ لیتے تو نہ ہی ان علماء پر اعتراض کرتے اور نہ ہی اپنے علماء پر اعتراض کا دروازہ کھلنے دیتے۔

علامہ بزدوی رحمۃاللہ آگے فرماتے ہیں:

وجه قول الفريق الآخر ما ذكر في الكتاب انه وان صار حجة بشهادة السلف بحيث صحت الزيادة به على الكتاب لكن بقي فيه شبهة الانتصال وتوهم الكذب باعتبار ان رواته في الاصل لم يبلغوا حد التواتر فيسقط به علم اليقين ولهذا لم يكفر جاحده لانه لا يثبت الا بانكار اليقين

ترجمہ: مفہوم یہ ہے کہ متواتر کا انکار کرنے والے کی تکفیر اس وقت نہیں کی جاتی جب شبہ باقی رہے، اور کذب کا امکان باقی رہے، اس وجہ سے کہ اس حدیث کے رواۃ اصل میں تواتر کی حد تک نہیں پہنچتے، پس اس وجہ سے اس کا  یقینی ہونا باقی نہیں رہتا، اور جو چیز یقینی نہ ہو اس کا انکار کفر نہیں۔

( کشف الاسرار للبزدوی: جلد 2 صفحہ 535)

دوسری بات یہ ہے کہ ملا باقر مجلسی کے نزدیک تحریف کی روایات متواتر ہیں، اور علامہ نوری طبرسی نے اس کی تائید کی، لیکن آپ کے بہت سے علماء ان متواتر روایات کا انکار کرتے ہیں۔ پس یہ واضح کیجیے کون کافر ہوا؟ لیکن اصل ڈرامہ تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے جب افلاطون روایات کے اثبات اور ابطال کے لئے اپنی ذہنی صلاحیتوں کا استعمال برائے کار لانے کی کوشش کرتا ہے، اور جس قدر بوگس طریقوں سے اس نے اپنا موقف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے الامان الحفیظ۔

پہلی روایت اور اس پر افلاطون کا تبصرہ:

پہلی روایت یوں ہے: ابوسعید خدری رحمۃاللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا۔

آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکرؓ کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے، دیکھو مسجد کی طرف دروازے سب بند کر دیئے جائیں۔صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔

(صحیح بخاری: جلد 5 صفحہ 124، ترجمہ و تشریح مولانا محمد داؤد راز)

اس حدیث کے ابطال کے لئے افلاطون میں فرماتے ہیں:

صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہؓ باب قول النبیﷺ سدو کل ابواب الا باب ابی بکر میں دو احادیث ہیں ایک حضرت ابنِ عباسؓ سے اور ایک ابوسعید خدریؓ سے۔ 

اب ان احادیث کے متعلق چار باتیں:

پہلی بات: اہلسنت علماء کے مطابق احادیث میں سے حضرت ابوبکرؓ کے دروازے کی مراد ہے ہی نہیں، ان احادیث میں حضرت علیؓ کا حقیقی دروازہ مراد ہے جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی کھڑکی یا مجازی معنیٰ (خلافت کا کنایہ) مراد ہے۔

ان احادیث کی تشریح میں اہلسنت عالم علامہ عینی نے لکھا:

قلت جمع بينهما بان المراد بالباب في حديث على الباب الحقيقي. والذي في حديث ابي بكر يراد به الخوخة كما صرح به في بعض طرقه علامہ عینی 

ترجمہ: (فرماتے ہیں کہ) حضرت علیؓ والی احادیث میں حقیقی دروازہ مراد ہے اور حضرت ابوبکرؓ کیلئے کھڑکی مراد ہے جیسا کہ بعض روایتوں میں اس کی تصریح ہے۔

یہی بات علامہ عسقلانیؒ نے مزید اضافے کے ساتھ لکھی کہ ومحصل الجمع ان الامر بسد الابواب وقع مرتين ففي الاول استثنى على لما ذكره وفي الاخرى استثنى ابو بكر ولكن لا يتم ذلك الا بان يحمل ما في قصة علي على الباب الحقيقي وما في قصة ابي بكر على الباب المجازي والمراد به الخوخة كما صرح به في بعض طرقه

صفحہ 2 از 7