صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 7

 (علامہ عسقلانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ) دونوں امروں کے اجتماع سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ دروازے بند کروانے والا واقعہ دو مرتبہ ہوا۔ ایک مرتبہ علیؓ کیلئے استثنا تھا اور دوسری مرتبہ میں حضرت ابوبکرؓ کیلئے، لیکن یہ تطبیق تب تک مکمل نہیں جب تک یہ حل نہ کیا جائے۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت علیؓ والی احادیث میں حقیقی دروازہ مراد ہے اور حضرت ابوبکر کیلئے کھڑکی مراد ہے جیسا کہ بعض روایتوں میں اس کی تصریح ہے۔

ملا علی قاری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ:

وان اريد به المجاز فهو كناية عن الخلافة وسد ابواب المقالة دون التطرق اليها والتطلع عليها . اري المجاز فيه اقوى اذ لم يصح عندنا ان  ابابكر كان له منزل بجنب المسجد وانما كان منزله بالسنح من عوالي المدينة

 اگر اس سے مجازی مراد لی جائے تو یہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا کنایہ ہے اور یہاں مجاز اقوی ہے۔

کوئی مضائقہ نہیں اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت علیؓ کے بارے میں جو روایات آئی ہیں، ان سے مراد حقیقی دروازہ ہے، اور حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان سے مراد خوخہ یا کھڑکی ہے۔ اگر یہ تاویل مان لی جائے، تو روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ لیکن افلاطون میاں اس تاویل کا ذکر کرنے کے بعد اپنی "دوسری بات" میں فرماتے ہیں:

دوسری بات: علیؓ کے علاوہ دروازوں کی بندش والی احادیث اور حضرت ابوبکرؓ  کے دروازے /کھڑکی کے علاوہ دروازوں کی بندش والی احادیث میں تعارض موجود ہے اور ان کے اجتماع میں اشکال ہے، لہٰذا ان میں سے ایک قسم کی روایات ضرور جعلی ہیں۔ اور حضرت علیؓ کے علاوہ دروازوں کی بندش والی احادیث کے موضوع ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لیکن حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ دروازوں کی بندش کے موضوع ہونے کی دلیلیں موجود ہیں (جو تیسری بات میں آئیں گی) جیسا کہ علامہ عسقلانی رحمۃاللہ نے فتح الباری میں دونوں قسم کی احادیث کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ (صفحہ 35)

افلاطون میاں نے اس کے بعد علماء کے اقوال میں اشکال ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

حافظ نے لکھا کہ ان دونوں قصوں میں اجتماع ممکن ہے کہ جیسا بزار نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل کوفہ کی روایات حضرت علیؓ کی شان میں حسن سندوں سے ہیں اور اہل مدینہ کی روایات حضرت ابوبکرؓ کی شان میں نقل ہوئی ہیں۔ اگر اہل کوفہ کی روایات درست ہیں تو روایات کے دونوں گروہوں میں اجتماع ابوسعید خدری رحمۃاللہ کی اس روایت کے بنا پر ہوگا جو ترمذی میں نقل ہوئی ہے۔ الخ

علامہ عسقلانی رحمۃاللہ کی مذکورہ تاویل پر یہ اشکالات ہیں:

1: حافظ عسقلانیؒ کا یہ کہنا کہ اگر اہل کوفہ کی روایات درست ہیں تو حافظ عسقلانیؒ نے ابن جوزی کی تردید میں خود کہا کہ صرف وہم کی بنیاد پر احادیث صحیحہ کا رد کرنا جبکہ یہاں ان احادیث کے بارے میں بزار کا قول نقل کر کے یہ کہنا کہ اگر اہل کوفہ کی روایات ثابت ہوں تو حافظ کے ان دونوں اقوال میں تنافض ہے۔

جواب اس کا یوں ہے  کہ آپ نے سکین تو لگا لیا، لیکن پھر بھی اگر آپ کو یہ پتہ نہ چلا کہ حافظ نے بزار کا قول ہی نقل کیا ہے، تو آپ کہاں سے افلاطون بن گئے؟ حافظ یہاں پر بزار ہی کا قول نقل کر رہا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

وقد اشار الى ذلك البزار في مسنده فقال ورد من روايات اهل الكوفة باسانيد حسان في قصة على 

اب موصوف اتنے واضح الفاظ سمجھنے سے قاصر ہوں، اور اعتراض حافظ ابن حجرؒ پر کریں تو کیا ایسا شخص اپنی تحقیق میں مزید فحش غلطیوں سے بچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

 2: حافظ کا یہ کہنا کہ روایات کے دونوں گروہوں میں اجتماع ابوسعید خدریؓ کی اس روایت کی بنیاد پر ہو گا جو ترمذی میں نقل ہوئی ہے کہ رسولﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تیرے اور میرے علاوہ کسی کیلئے بھی یہ جائز نہیں کہ مسجد میں حالت جنب میں آئے۔

اول اس میں ترمذی کی روایت سے کہیں سے بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ حضرت علیؓ کے گھر میں ایک ہی دروازہ تھا جو صرف مسجد کی طرف کھلتا تھا۔ اور اگر مسجد میں حالت جنب میں داخلہ اگر دوسرا دروازہ نہ ہونے کی وجہ سے تھا تو حضورﷺ کے گھر میں بھی ایک ہی دروازہ ہونا چاہیے جو صرف مسجد میں کھلتا ہو۔

افلاطون میاں نے سکین پورا نہیں پڑھا، اور اگر پڑھا ہوتا تو ایسا اعتراض نہ کرتے۔

علامہ ابن حجرؒ اس کی تائید میں ایک روایت نقل کرتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں:

ويؤيد ذلك ما أخرجه إسماعيل القاضي في أحكام القرآن من طريق المطلب بن عبد الله بن حنطب أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يأذن لأحد أن يمر في المسجد وهو جنب إلا لعلي بن أبي طالب لأن بيته كان في المسجد

اس روایت میں آخری الفاظ 

لأن بيته كان في المسجد کا ترجمہ یہ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہےکہ ان کا گھر مسجد میں ہی تھا۔ اب جو گھر مسجد میں ہی ہوگا، ظاہر ہے کہ اس کا دروازہ مسجد ہی کی طرف کھلے گا۔ بہرحال ابن حجرؒ نے اپنے موقف کی دلیل میں اس روایت کے ان الفاظ سے دلیل پکڑی، جس کو افلاطون میاں ایک بار پھر سمجھ نہیں پائے۔ اس کی تائید میں ایک اور روایت بھی پیش کی جاسکتی ہے جو حضرت ابنِ عمرؓ سے مروی ہے جس میں انہوں نے فرمایا: ليس في المسجد بيت غير بيته 

یعنی مسجد نبویﷺ میں حضرت علیؓ کے سوا کسی کا گھر نہیں ہے۔ 

رواه النسائي في سننه پہلی روایت مرسل ہے، دوسری روایت میں ابو اسحاق تدلیس سے متہم ہے۔

بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ابن حجرؒ نے اس روایت کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے۔ افلاطون میاں اگر سکین  شائع کرتے وقت اسے پڑھنے کی زحمت بھی فرما لیتے تو نہ ان کی تحریر  اتنی لمبی چوڑی ہوتی، اور نہ ہمیں ہر ایرے غیرے اعتراض کا جواب دینے کی زحمت اٹھانی پڑتی۔ لیکن مسئلہ یہ ہےکہ ان کے ہر ایرے غیرے اعتراض کا جواب نہ دیا جائے تو انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے کوئی تیر مار لیا ہے۔

صفحہ 3 از 7