صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 7

دوم اگر دوسرا دروازہ نہ ہونے کی وجہ سے ہی حضرت علیؓ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا تو صحابہ کرامؓ نے اس واقعہ پر جو کلام کیا تو صحابہ کرامؓ کی چہ مگوئیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اور اگر ایسا ہی تھا تو رسولﷺ نے یہ صریح عذر پیش کیوں نہ کیا کہ چونکہ دیگر صحابہؓ کے گھروں میں دوسرے دروازے ہیں جبکہ علیؓ کے گھر میں ایک ہی دروازہ ہے۔ لہٰذا میں نے باقیوں کے دروازے بند کروا کے صرف علیؓ کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا حکم ہوا ہے اور میں نے اتباع کی ہے۔

جس روایت میں ایسا مذکور ہے، اس  کی اسنادی کیفیت پر ہم نے شروع میں ہی روشنی ڈالی تھی۔ اس کی طرف رجوع کیجیے۔

سوم صحابہ کرامؓ اس قصے کو حضرت علیؓ کی ایسی فضیلت سمجھتے تھے جو رسول اللہﷺ کے ساتھ ازواج کے برابر ہو۔ اگر حضرت علیؓ کا دروازہ مجبوری میں کھلا رکھا گیا تھا تو اس میں کیا فضیلت؟ اور صحابہؓ ایک اجباری فعل کو اتنی بڑی فضیلت کیوں کر سمجھ سکتے ہیں؟؟

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ حضرت علیؓ کا گھر مسجد کے اندر ہی تھا، تو افلاطون میاں کے اعتراض کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ وہ گھر ایک کونے میں تھا، اور اگر رسول اللہﷺ چاہتے تو حضرت علیؓ کو باہر کی طرف دروازہ بنوانے کا حکم دے سکتے تھے، اور اگر چاہتے تو انہیں مسجد سے باہر ہی گھر بنانے کا حکم بھی دے سکتے تھے، لہٰذا اجباری فعل نہیں ہوا، پس فضیلت ثابت ہو جاتی ہے۔ اب افلاطون میاں کو اس کا جواب ملے تو ضرور مطلع فرمائے۔

 حافظ عسقلانیؒ کا یہ کہنا کہ دونوں امروں کے اجتماع سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ دروازے بند کروانے والا واقعہ دو مرتبہ ہوا۔ ایک مرتبہ حضرت علیؓ کیلئے استثناء تھا اور دوسری مرتبہ میں حضرت ابوبکرؓ کیلئے۔

 اس میں دو بنیادی اشکال ہیں

 اول یہ واضح ہے کہ رسولﷺ کا دروازے بند کرنے کا حکم مسجد میں سے گزر روکنے کیلئے تھا، رسول اللہﷺ نے پہلی مرتبہ تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا تو صحابہ کرامؓ نے دروازے بند کر کے بڑے بڑے شگاف بنا لئے تاکہ مسجد سے گذر جاری رکھیں۔ تو اس طرح سے صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ کے نافرمان ہوئے۔ جبکہ حضرت علیؓ کی شان والی احادیث بلکہ کسی اور ضعیف روایت سے بھی یہ پتا نہیں چلتا کہ رسول اللہﷺ نے دروازوں کی بندش والے حکم کے دوران کسی کو خوخہ بنانے کی اجازت دی ہو۔

کسی صحیح روایت میں نہیں لکھا کہ جب رسول اللہﷺ نے یہ حکم دیا کہ  دروازے بند کر لئے جائیں تو صحابہ کرامؓ نے شگاف بنا لئے۔ بلکہ بعض روایات میں یہی آیا ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے منع کیا تو صحابہ کرامؓ نے اجازت مانگی کہ ہوسکتا ہے انہیں اجازت مل جائے، لیکن انہیں نہیں ملی۔

اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے شگاف بنا لئے تھے؟ اور اگر رسول اللہﷺ نے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا، تو صحابہ کرامؓ اس وقت نافرمان ہوتے جب وہ دروازے کھولے رکھتے، شگاف بنوانے سے نافرمانی ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے اس امر کی نشاندہی نہیں کی کہ دروازے کس لئے بند کئے جائیں۔ بہرحال ان روایات کی اسنادی حالت بھی لائقِ تحقیق ہے۔

دوم کچھ ایسی  روایات موجود ہیں جو مسجد میں شگاف بنانے کی پابندی پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ ابونعیم اصفہانی روایت نقل کر کے لکھتا ہے کہ عن بریدۃ الاسلمی قال امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسد الابواب فشق ذلک علی اصحاب رسول اللہ ﷺ

 جب رسول اللہﷺ نے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا کہ میرے لئے مسجد میں ایک شگاف چھوڑ دیجیے تو آپﷺ نے انکار کر دیا اور حضرت علیؓ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا جس میں سے وہ حالت جنب میں بھی آتے جاتے تھے۔ ایسی ہی ایک روایت علامہ سمہودی نے نقل کی ہے کہ: عن عمر بن سهل ان رسول الله امر بسد الابواب الشوارع في المسجد 

 جب رسول اللہﷺ نے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا کہ میرے لئے مسجد میں ایک شگاف چھوڑ دیجیے کہ میں آپﷺ کو آتے جاتے دیکھ سکوں تو آپﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اس کی اجازت بھی نہیں دوں گا۔

ابونعیم اصفہانی کی نقل کردہ روایت میں ابوداؤد یعنی نفیع بن حارث نامی راوی متہم بالوضع ہے۔ اور علامہ سمہودی کی حضرت عمرو بن سہل سے روایت کی سند نہیں ملی۔

ایسی صورت میں پہلی منع کے باوجود خوخہ کا وجود ہی مشتبہ ہے چاہے وہ حضرت ابوبکرؓ کے گھر کا ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ بھی کہ اگر پہلی دفعہ میں استثناء صرف حضرت علیؓ کے لئے تھا تو یقیناً حضرت ابوبکرؓ کیلئے نہیں تھا۔ اور دوسری مرتبہ میں وہ استثناء حضرت ابوبکرؓ کیلئے تھا تو حضرت علیؓ کا استثناء برقرار رہا یا نہیں؟

اگر برقرار رہا تو اس سے حضرت ابوبکرؓ والی حدیث کا متن باطل ہو جائیگا کہ تمام لوگ اپنے دروازے بند کر دو سوائے حضرت ابوبکرؓ کے، اور اگر حضرت علیؓ کا استثنا کالعدم ہو گیا تو اہلِ سنت علماء کی یہ تاویل بھی کالعدم ہو جائیگی کہ حضرت علیؓ کیلئے دوسرا دروازہ نہیں تھا۔ لہٰذا ان کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔

مذکورہ بالا اگر مگر خیالی پلاؤ ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ جن روایات کی بنیاد پر یہ خیالی پلاؤ پکایا جا رہا ہے، وہ روایات تو ضعیف بلکہ موضوع ہیں، اور ان کی بنیاد پر اگر مگر زور و شور سے ہو رہا ہے۔ اس لئے لائق التفات نہیں۔

تیسری بات حضرت ابوبکرؓ کی شان میں موجود احادیث خود اپنے جعلی اور وضعی (من گھڑت) ہونے کا اعلان کر رہی ہیں۔ صحیح بخاری کی احادیث میں تعارض اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابنِ عباسؓ کی طرف بابِ ابوبکرؓ یعنی حضرت ابوبکرؓ کے دروازے کی بات منسوب کی گئی ہے۔ جبکہ انہی حضرت ابنِ عباسؓ سے کتاب الصلوۃ میں لفظ خوخہ یعنی حضرت ابوبکرؓ کی کھڑکی والی بات لکھی ہے۔ اب ایک ابنِ عباسؓ دو باتیں کیسے کہہ سکتے ہیں؟

انہوں نے یا باب کہا، یا خوخہ۔

لہٰذا حضرت ابنِ عباسؓ کے دونوں اقوال میں تعارض ہے اور اذا تعارضا تساقطا (یعنی جب دو چیزوں میں تعارض ہو اور کسی میں کوئی ترجیح نہ ہو تو دونوں ساقط ہو جائیں گی)۔

صفحہ 4 از 7