صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 7

یہاں پر تعارض ایسا نہیں کہ اس کی تاویل ممکن نہ ہو۔ جب تاویل ممکن ہے، تو تعارض نہ رہا۔ خوخہ کا مطلب فقط کھڑکی نہیں۔ عربی کی کتاب رحلۃ ابن جبیر کی پہلی جلد کے صفحہ 82 پر حاشیہ میں لکھا ہے:

الخوخة: الباب الصغير في الباب الكبير

خوخہ: بڑے دروازے میں ایک چھوٹے دروازے کو کہتے ہیں۔

پس حضرت ابوبکر صدیقؓ کے متعلق وارد شدہ روایات میں خوخہ کا مطلب چھوٹا دروازہ ہے، اور اگر اس کے لیے باب کا لفظ بھی آ گیا تو کوئی تعارض واقع نہیں ہوا۔

لیکن افلاطون میاں کا افلاطونی دماغ خواہ مخواہ کسی تعارض کی تلاش میں اس قدر بےچین ہے کہ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔

لہٰذا اہل سنت علماء اس کی تاویل کرنے پر مجبور ہیں، علامہ عینی نے لکھا  بخاری نے ابنِ عباسؓ والی حدیث کو کتاب صلوات میں لفظ خوخہ سے نقل کیا اور یہاں اس لفظ خوخہ کی معنیٰ کو نقل کیا ہے۔ تقریباً یہی تاویل علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے کی ہے کہ بخاری نے ابنِ عباسؓ والی حدیث کو کتاب صلوات میں لفظ خوخہ سے نقل کیا اور یہاں اس لفظ خوخہ کے معنیٰ کو نقل کیا ہے۔ لیکن یہاں ان علماء کی اس تاویل کو دو طرح سے رد کیا جاتا ہے۔

اول: کہ لفظ خوخہ (کھڑکی) کی معنیٰ باب (دروازہ) نہیں ہے اور اگر ہے تو رسول اللہﷺ کے سیدنا علیؓ کے علاوہ دروازہ بند کرنے والے حکم میں خوخہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ لہٰذا پھر حضرت ابوبکرؓ کا خوخہ کھلا رہنا اور کھلا ہی رہنے دینا، مشتبہ ہوجائیگا۔

علامہ عبد الفواد الباقی صحیح مسلم پر اپنی تعلیق میں فرماتے ہیں:

الخوخة هي الباب الصغير بين البيتين

خوخہ دو گھروں کے درمیان ایک چھوٹے سے دروازے کو کہتے ہیں۔

(التعليق على صحيح مسلم: جلد 4 صفحہ 1854)

مشہور لغت نویس ابنِ منظور نے اس لفظ خوخہ کا معنیٰ یوں کیا ہے کہ خوخہ گھر کی دیوار کا شگاف ہوتا ہے جس سے روشنی آتی ہے، خوخہ دو گھروں کے درمیان گزرگاہ ہے جس پر دروازہ نصب نہیں ہوتا، بعض کہتے ہیں کہ ہر دو چیزوں کے درمیان شگاف کو خوخہ کہا جاتا ہے۔

روایت میں بھی آیا ہے کہ مسجد کے تمام شگاف بند کئے گئے سوائے حضرت ابوبکرؓ کے گھر کے شگاف کے اور دیگر روایات میں سیدنا علیؓ کے گھر کا شگاف بھی آیا ہے۔ یہ چھوٹا سا دروازہ ہوتا ہے بڑے پنجرے کی طرح جو دو گھروں کے بیچ میں ہو اور اس پر دروازہ نصب کیا گیا ہو۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خوخہ کی معنیٰ باب (دروازہ ) نہیں، بلکہ خوخہ سے مراد اول شگاف دوم روشندان، سوم (زیادہ سے زیادہ) کھڑکی ہے، لہٰذا یہاں اہلسنت علماء کی یہ تاویل کہ باب بمعنیٰ خوخہ، تو اس سے ابنِ عباسؓ کے قول میں تعارض کا اشکال رفع نہیں ہوتا۔

یہ اب سراسر ہٹ دھرمی ہے۔ صاف طور پر اس کتاب میں لکھا ہے : 

هي باب الصغير كالنافذة الكبيرة تكون بين بيتين ينصب عليها باب

 یعنی یہ ایک چھوٹا سا دروازہ ہوتا ہے بڑے پنجرے کی طرح جو دو گھروں کے درمیان ہوتا ہے، اور جس پر دروازہ نصب کیا گیا ہوتا ہے۔ 

اب یہاں تعارض کہاں آ گیا؟ یا پھر افلاطون میاں یہ سمجھا رہے ہیں کہ چونکہ کھڑکی دروازہ نہیں ہوتا، اور دروازہ کھڑکی نہیں ہوتی، اس لئے ہم یہ تسلیم کر لیں کہ خوخہ باب نہیں ہوتا اور باب خوخہ نہیں ہوتا، اگرچہ جس سکین کو لے کر اپنا موقف انہوں نے ثابت کرنا تھا، وہاں بھی صاف طور پر لکھا ہو کہ: ھی باب الصغیرۃ یعنی یہ ایک چھوٹا دروازہ ہوتا ہے۔

دوم: ابنِ عباسؓ کے اقوال میں موجود تعارض سے بچنے کی یہی ایک راہ ہے جیسا کہ علماء اہلسنت نے اس سے "خوخہ"(کھڑکی) ہی مراد لی ہے۔ لیکن اس صورت میں ایک اور تعارض کھڑا ہوجائیگا کہ ابو سعید خدریؓ کی حدیث جو لفظ "باب کے ساتھ ذکر ہوئی اس کا کیا بنے گا؟

اس کا ممکنہ جواب یہی ہوگا  کہ: "ابو سعید خدریؓ سے، بخاری میں ہی ایک اور جگہ مناقب الانصار میں لفظ خوخہ (کھڑکی) سے ذکر ہوئی ہے۔"(لیکن اردو ترجمے والے نے خیانت کر دی)۔ واضح رہے کہ یہاں ابو سعید خدریؓ  کے اقوال میں بھی تعارض ثابت ہو رہا ہے۔

افلاطون میاں اگر سکین لگانے اور ترجمہ کرنے کے باوجود بھی ابھی تک اس بحث میں پھنسے ہوئے ہیں کہ خوخہ سے باب مراد لیا جاسکتا ہے یا نہیں، تو ہم انہیں ڈسٹرب نہیں کرے گے۔

لیکن بہرحال اس ممکنہ جواب کو یوں رد کیا جائیگا کہ: ابو سعید خدریؓ کی، مناقب الانصار، میں خوخہ (کھڑکی) والی روایت کی سند بھی مجروح ہے اس میں راوی اسمعیل بن عبداللہ (المعروف ابن ابی اویس) کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے۔

جیسا کہ حافظ مزی نے تہذیب الکمال میں لکھا ہے کہ ابوبکر بن ابی خیثمہ نے یحییٰ بن معین سے نقل کر کہ کہا: اسمعیل بن عبداللہ سچا ہے مگر عقل کم ہے اور احادیث کو درست طریقے سے نقل نہیں کرتا۔

معاویہ بن صالح نے یحییٰ بن معین سے نقل کر کہ کہا کہ: ابو اویس اور اس کا بیٹا (اسمعیل بن عبداللہ) ضعیف ہیں۔

یحییٰ بن معین سے نقل شدہ ہے کہ: اسمعیل بن عبداللہ اور ابو اویس، دونوں باپ بیٹا حدیثیں چوری کرتے تھے۔

ابرہیم بن جنید نے یحییٰ بن معین سے نقل کرکے کہا کہ: اسمعیل بن عبداللہ مخلط، (اختلاط کنندہ) تھا، جھوٹا تھا، اور یہ کچھ نہیں (ضعیف ہے)۔

امام نسائی نے کہا: اسمعیل بن عبداللہ ضعیف ہے، ثقہ نہیں۔

حافظ ابن عدی نے کہا کہ: اسمعیل بن عبداللہ نے اپنے تایا مالک سے ایسی غریب احادیث نقل کی ہیں جن کو کوئی بھی اس سے قبول نہیں کرتا۔

میں کہتا ہوں کہ امام بخاریؒ نے اس روایت کو حضرت ابو سعید خدریؓ سے تین اسناد سے نقل کیا ہے۔

1: حدثنا محمد بن سنان، قال: حدثنا فليح، قال: حدثنا أبو النضر، عن عبيد بن حنين، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري، قال: "خطب النبي صلى الله عليه وسلم (باب الخوخة والممر في المسجد)

2: حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عامر، حدثنا فليح، قال: حدثني سالم أبو النضر، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس (باب الخوخة والممر في المسجد)

3: حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن أبي النضر مولى عمر بن عبيد الله، عن عبيد يعني ابن حنين، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه (باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة)

پھر اسی روایت کو ابن حبان نے الگ سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔

ہیلی

صفحہ 5 از 7