صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 7

4: أخبرنا الفضل بن الحباب الجمحي حدثنا علي بن المديني حدثنا معن بن عيسى حدثنا مالك عن أبي النضر مولى عمر بن عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله (إسناده صحيح على شرط البخاري)

نیز امام ترمذیؒ نے اس روایت کو الگ سند کے ساتھ بیان کیا ہے، اور اسے حسن صحیح قرار دیا۔

5: حدثنا أحمد بن الحسن قال حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك بن أنس عن أبي النضر عن عبيد بن حنين عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس

نیز امام مسلمؒ نے اسے الگ سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔

6: حدثنا عبد الله بن جعفر بن يحيى بن خالد حدثنا معن حدثنا مالك عن أبي النضر عن عبيد بن حنين عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر

نیز امام نسائیؒ نے اس کا اپنی سند سے بیان کیا ہے۔

7: أخبرنا عبد الملك بن عبد الحميد، قال: أنا القعنبي، عن مالك، عن أبي النضر، عن عبيد بن حنين، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم

یہ تو صرف چند معتبر کتب سے اس حدیث کے بعض طرق ہو گئے جو حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے۔ باقی کا تذکرہ ہم اس لئے نہیں کر رہے کہ افلاطون میاں سمجھ گئے ہونگے۔

ابنِ عباس کی طرف منسوب روایت کی سند بھی مطعون ہے۔

جس میں ابنِ عباسؓ کا غلام عکرمہ ہے جس کے بارے میں علماء جرح نے کلام کیا ہے اور اس کے جھوٹے ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں جیسا کہ سیر اعلام النبلا میں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ عکرمہ ثقہ ہے، اور اس بارے میں بحث کی جاسکتی ہے لیکن اوپر ہم نے چند اسناد بطور نمونہ پیش کی ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ افلاطون میاں کے بس کی بات نہیں کہ ان روایات کی تضعیف کر سکیں، اس لئے اس میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

مجموعی طور پر صحیح بخاری میں، حضرت ابوبکرؓ کی شان میں لکھی گئی ان احادیث کی صورتحال یہ ہے کہ: بخاری نے ابنِ عباسؓ سے دو لفظوں "باب" (دروازہ) اور "خوخہ" (کھڑکی) سے روایت کی ہے (جہاں کھڑکی کے ذکر کا باب تھا وہاں کھڑکی لکھا اور جہاں دروازے کا باب تھا وہاں دروازہ لکھا) لہٰذا ابنِ عباسؓ کے خود کے اقوال میں تعارض، اس تعارض سے بچنے کیلئے اہلِ سنت علماء نے ابنِ عباسؓ کی"خوخہ" والی حدیث کو قبول کر کہ "باب" والی حدیث میں لفظ باب کو خوخہ پر حمل کیا ہے۔ اس خوخہ والی حدیث کو ماننے کی صورت میں یہ قول ابو سعید خدریؓ کے "باب" والے قول کے متعارض ہے۔ لیکن مزید اضطراب یہ ہے کہ بخاری نے ابو سعید خدریؓ سے بھی دونوں الفاظ "باب" اور "خوخہ" سے روایت کی ہے، لہٰذا ابو سعید خدریؓ کے خود کے اقوال میں بھی تعارض ہے۔ اور ابنِ عباسؓ کی طرف منسوب روایت اور ابو سعید خدریؓ کی "خوخہ" والی روایت دونوں کی سندیں مجروح ہیں۔

خوخہ اور باب کے تعارض کا معاملہ بھی ہم نے دیکھ لیا اور حضرت ابو سعید خدریؓ سے اس روایت کی مختلف اسناد بھی ہم نے دیکھ لی ہیں۔ اب افلاطون میاں کے آخری استدلال کی طرف آتے ہیں۔

چوتھی بات: صحیح بخاری کی روایات درایت کے خلاف ہیں۔

حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ تمام دروازوں کی بندش والی حدیث کے جعلی اور موضوع (من گھڑت) ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا مکان مدینے سے دور مقام سنح میں تھا اور محمدﷺ کی رحلت کے بعد چھ یا سات ماہ تک وہیں رہے تھے۔

رسول اللہﷺ کی رحلت کے بعد چھ یا سات ماہ تک وہاں رہنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپؓ رسول اللہﷺ کی رحلت سے پہلے مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب رہتے تھے۔

جیساکہ صحیح بخاری میں موجود ہے کہ 

ان رسول الله مات وابوبكر بالسنح 

یعنی آنحضرت ﷺ کی جب وفات ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ اس وقت مقام سنح میں تھے۔

اس روایت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ سنح کے مقام پر ان کا یہی ایک گھر تھا؟ اس روایت میں ایسا ہرگز نہیں لکھا، لیکن افلاطون  میاں اس روایت سے ایسا ثابت کرنے پر بضد ہیں۔

صحیح بخاری: سیدنا ابوبکرؓ کا گھر مقام سنح میں تھا، مسجد کے ساتھ نہیں تھا۔

اقبل ابوبكر على قومه من مسكنه بالسنح 

یعنی حضرت ابوبکرؓ اپنی قوم کی طرف آئے اپنے گھر سے جو کہ سنح میں تھا۔

اس روایت میں بھی یہ نہیں لکھا کہ حضرت ابوبکرؓ کا یہی ایک گھر تھا۔

طبقات الکبری میں صراحت سے موجود ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا گھر مقام سنح میں، اپنی بیوی حبیبہ بنتِ حارثہ کے پاس  تھا۔ وہ یہاں بیعت کے بعد چھ ماہ رہے اور مدینے پا پیادہ آتے یا گھوڑے پر سوار ہو کر، لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر واپس سنح لوٹ جاتے۔

ملا علی قاریؒ، توربشتی سے نقل کر کہ لکھتے ہیں: یہاں مجاز مراد لینا ہی قوی ہے کیونکہ ہمارے ہاں حضرت ابوبکرؓ کا مدینے میں گھر ہونا صحیح (ثابت) نہیں ہے، بلکہ ان کا گھر مقام سنح میں تھا۔

معذرت کے ساتھ،  متواتر  حدیث کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کا گھر مسجد سے متصل تھا، اور آپ اس کے مقابلے میں مجھے علامہ توربشتی کا قول پیش کر رہے ہیں؟ سبحان اللہ۔ 

میں اس کے مقابلے میں اگر حافظ ابن حجر کا قول بھی پیش کروں تو کافی ہے، چہ جائیکہ اس کا مقابلہ متواتر حدیث سے کیا جائے۔

علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: وهذا الإستناد ضعيف؛ لأنه لا يلزم من كون منزله كان بالسّنح ألايكون له دار مجاورة للمسجد، ومنزله الذي كان بالسنح هو منزل أصهاره من الأنصار، وقد كان له إذ ذاك زوجة أخرى، وهي أسماء بنت عميس، بالاتفاق، وأم رومان على القول بأنها كانت باقية يومئذ 

یعنی یہ استناد ضعیف ہے، اس لئے کہ ان کا سنح کے مقام پر گھر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا مسجد کے ساتھ ہی گھر نہ ہو، اور ان کا گھر جو سنح کے مقام پر تھا، وہ ان کے انصار میں سے سسرال کا گھر تھا۔ اور ان کی ایک دوسری بیوی بھی تھی، جو کہ اسماء بنت عمیسؓ تھیں، اور اس پر اتفاق ہے، اور ام رومانؓ بھی ایک قول کے مطابق ان دنوں حیات تھیں۔

(فتح الباری: جلد 10 صفحہ 451)

اس کے بارے میں افلاطون میاں فرماتے ہیں:

علامہ عسقلانی کی تاویل یوں رد ہوتی ہے کہ

 اول یہ بغیر دلیل کا دعویٰ ہے کسی ضعیف ترین روایت میں یہ بات موجود نہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کے تین گھر ہوں، ایک مقام سنح میں اور دو مدینے میں۔ جبکہ بخاری کی روایات اور دیگر علماء کی تصریحات اس کے خلاف ہیں۔

صفحہ 6 از 7