صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 7

میں کہتا ہوں کہ یہ متواتر روایات اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کا ایک گھر مسجد سے منسلک تھا۔ ان کے ہوتے ہوئے ضعیف روایات کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

دوم اہلسنت علماء کے بقول، حضرت ابوبکرؓ چھ ماہ تک، مقام سنح سے آتے اور نماز عشاء کے بعد واپس مقام سنح پلٹ جاتے۔اگر مدینہ میں ان کی بیوی، اسماء بنت عمیسؓ یا امِ رومانؓ موجود تھیں تو کبھی نہ کبھی تو ان کے ہاں کوئی رات ٹھہرتے، جب کہ کسی اہلِ سنت عالم نے ان کے مدینے میں ہی ٹھہر جانے کا کوئی اشارہ تک ذکر نہیں کیا۔

آنے جانے سے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا مدینہ میں گھر تھا، کیونکہ اگر ان کا مدینہ میں گھر نہیں تھا تو وہ سارا دن کہاں گزارتے تھے؟ ظاہر ہے کہ مسجد میں ایک شخص پورا دن نہیں گزارتا جبکہ وہ خلیفہ بھی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنے جانے کا قول اغلب پر محمول ہے۔ 

حر عاملی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:

روي أن عبد الله بن مسكان لم يسمع من أبي عبد الله عليه السلام إلا حديث من أدرك المشعر، فقد أدرك الحج. أقول: هذا محمول على الأغلب فإن رواية ابن مسكان عنه عليه السلام بغير واسطة كثيرة بلفظ سمعته

یعنی روایت کی گئی ہے کہ عبد اللہ بن مسکان نے امام جعفر سے کوئی حدیث نہیں سنی سوائے اس حدیث کے (من أدرك المشعر، فقد أدرك الحج) میں کہتا ہوں کہ یہ اغلب پر محمول ہے، ورنہ ابن مسکان نے امام جعفر سے بہت سی احادیث بغیر واسطے کے لفظ 'سمعتہ' کے ساتھ روایت کی ہیں۔

(وسائل الشیعہ: جلد 10 صفحہ 60)

اب یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا مدینے میں گھر تھا ہی نہیں یا پھر یہ مان لیں کہ حضرت ابوبکرؓ بیویوں کے معاملے میں عدالت اور انصاف سے کام نہیں لیتے تھے۔ بیوی کے ساتھ انصاف رات گزارنے تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایک بیوی کے ساتھ دن گزارا جائے، اور دوسری کے ساتھ رات گزاری جائے تب بھی انصاف ممکن ہے۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ اغلب پر ہی محمول کیا جائیگا، اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

نتیجہ: حضرت علیؓ کے علاوہ دروازوں کی بندش والی احادیث صحیح اور متواترہ ہیں۔ لہٰذا ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ دروازوں کی بندش والی احادیث صحیح میں موجود ہیں۔ لیکن خود ان احادیث میں اضطراب، مطعون سند اور درایت کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

اس کے جواب میں یوں کہوں گا کہ حضرت علیؓ کے متعلق جو روایات ہیں، وہ اتنی اعلیٰ درجے کی نہیں ہیں جتنی حضرت ابوبکر صدیقؓ  کے متعلق روایات اعلیٰ درجے کی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس میں کوئی اضطراب، مطعون سند اور درایت کی مخالفت نہیں ہے، اور افلاطون کی پوری بحث کے ہر نقطہ کا جواب دیا جا چکا ہے۔

علماء اہلِ سنت دونوں قسم کی احادیث کو جمع کرنے کی جو کوششیں کرتے ہیں ان میں اشکال ہے لہٰذا ان دونوں قسم کی احادیث کا اجتماع مشکل ہے اور اس صورت میں کسی ایک قسم کی احادیث کا جعلی و موضوع (من گھڑت) ہونا ثابت ہے اور چونکہ حضرت علیؓ کی استثناء والی احادیث میں کوئی ایسا نقص موجود نہیں جس کی وجہ سے انہیں موضوع (من گھڑت) کہا جا سکے، لیکن حضرت ابوبکرؓ کی استثناء والی احادیث میں ایک سے زیادہ علتیں ہونے کی وجہ سے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ احادیث صحیح بخاری میں ہیں لیکن ہیں جعلی۔ جو حضرت علیؓ کے مقابلے میں گھڑی گئی ہیں۔

افلاطون کی پوری تحریر پر ہماری جرح و نقد آپ کے سامنے ہیں، فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

تمت بالخير ولله الحمد

کلام

3 شعبان المعظم 1435 ھ


صفحہ 7 از 7