فاروقی عہد خلافت میں خراج کی تنفیذ کیسے ہوئی؟
علی محمد الصلابیجب ممتاز و مشاہیر اور اہل حل و عقد صحابہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر اتفاق کر لیا کہ مفتوحہ اراضی کو ان کے مالکان کے قبضہ میں باقی رکھا جائے اور منقولہ اموال غنیمت فاتح مجاہدین میں تقسیم کر دیے جائیں تو آپ نے فن مساحت کی دو ماہر و عظیم شخصیتوں یعنی عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو سواد عراق کی مساحت کی پیمائش و بندوبست کے لیے وہاں بھیجا، اور جب آپ نے ان کو اس مہم پر روانہ کیا تو انہیں اپنی گراں قدر نصیحتوں اور گہری بصیرت پر مبنی توجیہات و رہنمائیوں سے نوازا، انہیں حکم دیا کہ پیمائش و بندوبست کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کی مالی حیثیت، زمین کی شادابی و خشکی، درخت و دیگر نباتات کی نوعیت اور رعایا کے ساتھ نرم برتاؤ کو خاص طور سے دھیان میں رکھیں، اور جس مقدار کی ادائیگی مالکان زمین کے لیے ناممکن ہو وہ خراج ان پر مقرر نہ کریں، بلکہ خراج کی وصولی کے بعد ان کے پاس اتنا چھوڑیں جس سے وہ اپنی ضروریات اور مشکل حالات کو درست کر سکیں۔
چونکہ سیدنا عمرؓ عدل کی بنیادوں پر اپنی قرار داد نافذ کرنا چاہتے تھے اس لیے آپؓ نے مناسب سمجھا کہ باشندگان عراق کی اسلامی فتح سے پہلے کی حالت معلوم کریں۔ چنانچہ آپؓ نے عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر سواد عراق کے ممتاز مالکان کا ایک وفد آپؓ کے پاس روانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے حکم کی تعمیل میں سواد عراق کے مالکان کا وفد آپؓ کی خدمت میں روانہ کیا۔ آپؓ نے وفد سے پوچھا کہ آپؓ لوگ عجمی حکام کو اپنی زمین کا کتنا لگان دیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستائیس 27 درہم۔ آپؓ نے فرمایا: لیکن میں تم سے اتنا لینا پسند نہیں کرتا۔
(الخراج: أبویوسف: صفحہ 40، 41)
آپؓ کا یہ مؤقف اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی فتوحات مفتوحہ اقوام کے لیے عدل و انصاف کا پیغام لے کر آئیں۔
سیدنا عمر فاروقؓ چاہتے تھے کہ زمین کی پیمائش و ملکیت کے اعتبار سے اس کے مالکان پر خراج مقرر کرنا ان کے حق میں زیادہ مفید اور ادائیگی میں زیادہ بہتر و آسان ہے، نیز اس میں ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہیں ہے۔ چنانچہ عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، اور سواد عراق کا رقبہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ 3،60،000،00 مربع جریب ٹھہرا۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 38۔ جریب ایک پیمانہ ہے جو چار قفیز کے برابر ہوتا ہے اور ایک قفیز ایک سو چوالیس ہاتھ کی لمبائی کے برابر اور وزن میں بارہ صاع کے برابر ہوتا ہے۔)
ان دونوں نے پیداوار کے حساب سے انگور کی کھیتی پر فی جریب دس درہم، کھجور پر فی جریب آٹھ، گنا پر فی جریب چھ، گیہوں پر فی جریب چار اور جو پر فی جریب دو درہم سالانہ خراج لگان مقرر کیا
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 39۔ سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 108)
اور امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کو اس تفصیل سے باخبر کیا۔ آپؓ نے اسے ہی نافذ کر دیا۔ آپؓ وہاں کے زمینداروں اور دیگر باشندوں پر خاص توجہ رکھتے تھے اور انہیں عدل پہنچانے کی کوشش کرتے تھے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عثمان اور حذیفہ رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو ان کی طاقت سے زیادہ خراج لگان کی ادائیگی پر مجبور کیا ہو۔ آپ نے اس شبہ کی وضاحت چاہتے ہوئے ان دونوں سے پوچھا: تم نے زمین پر خراج لگان کیسے مقرر کیا ہے؟ شاید تم نے مالکان زمین کو ان کی طاقت سے زیادہ کی ادائیگی پر مجبور کیا ہے؟ حضرت حذیفہؓ نے جواب دیا: میں نے اس سے زیادہ ان کے لیے چھوڑ دیا ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دوگنا چھوڑ دیا ہے، اگر آپ کہیں تو ان سے وہ بھی وصول کر لوں۔ اس وقت آپؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! اگر میں عراق کی بیواؤں کے لیے زندہ رہا تو انہیں اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی امیر کی محتاج نہ رہیں گی۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 40، سیاسۃ المال فی المال فی الإسلام: صفحہ 108)
جو معاملہ سواد عراق کے ساتھ کیا گیا بالکل یہی طریقہ مصر کی مفتوحہ زمین کے ساتھ بھی اپنایا گیا، البتہ وہاں اس کی ذمہ داری حضرت عمرو بن عاصؓ نے نبھائی اور جس یونٹ متعینہ حد کو معیار بنا کر اس پر خراج لاگو کیا گیا وہ ایک ایکڑ اراضی یعنی تقریباً چار ہزار مربع میٹر زمین تھی۔
(الدولۃ العباسیۃ: خضری: صفحہ 144۔ سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 109)
حضرت عمرؓ نے شام کی زمین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا، البتہ جس زمین پر خراج مقرر کیا گیا اس کا کل رقبہ کتنا تھا؟ وہاں کے کھیتوں اور پھلوں کی کیا نوعیت تھی؟ اور اس زمین کی پیمائش و بندوبست کس نے کی؟ اس سلسلہ میں مؤرخین نے کوئی واضح اور صریح معلومات نقل نہیں کی ہیں۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 111)
اس سلسلہ میں خلیفۃ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ اتنے دور اندیش و باریک بین تھے کہ مفتوحہ علاقوں پر اپنے گورنروں کو حاکم مقرر کرنے سے پہلے وہاں کے اموال و جائیداد کا مکمل خاکہ معلوم کر لیتے اور جب وہ اپنے منصب سے معزول اور مستعفیٰ ہوتے تو دوران حکومت حکام جو مال بھی بچا کر اپنے پاس رکھے ہوتے آپؓ اسے واپس کرنے کا حکم دیتے، بشرطیکہ آپؓ کو معلوم ہو جائے کہ ان کو ملنے والے وظائف کے حساب سے زیادہ ان کے پاس مال جمع ہے۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 114)
آئندہ صفحات میں جب میں فاروقی گورنروں کا بیان آئے گا تو وہاں ان شاء اللہ اس پر تفصیلی بحث ہو گی، یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ عراق، شام اور مصر سے اسلامی بیت المال کے لیے حضرت عمرؓ نے جن مستقل و مخصوص جائیداد اور ذرائع آمدنی کو منتخب کیا وہ کافی ہو گئیں، اور پھر ملکی خزانے میں فراوانی پیدا کرنے میں ان سرکاری ذرائع آمدنی کا کافی دخل رہا، خاص طور پر مصر میں، کیونکہ وہاں پچھلے زمانہ میں شاہان عجم کی ملکیت سے چھوڑی ہوئی اور مسلمانوں کی ملکیت میں آنے والی قابلِ زراعت زمینوں کا رقبہ کافی وسیع تھا۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 118 )