تحقیق لقب صدیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحقیق لقب صدیق

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2
اس تفصیل میں اس سوال کا جواب بھی مل گیا کہ حضرت ابوبکرؓ کو تصدیق رسالت  کے لئے کسی معجزہ کی ضرورت کیوں نہ پڑی وجہ یہ ہے کہ وہ تو پیدا ہی اس لئے ہوئے تھے کہ آپﷺ کے لئے مصدق کا کام کریں ان کا تو مقصد وجود ہی حضورﷺ کی تصدیق کرنا تھا جس طرح کوئی چیز اپنے جوہر ذات سے جدا نہیں ہو سکتی اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ تصدیقِ رسالت کی ذمہ داری سے ایک لمحہ کے لئے بھی دور نہ رہ سکتے تھے۔ ادھر شمع رسالت چمکی ادھر سینہ صدیق میں اتری۔ نبوت اور صدیقیت اس طرح ساتھ ساتھ چلیں جیسے فاعل اور قابل ساتھ ساتھ چلتے ہیں سورج روشنی دینے میں فاعلی قوت رکھتا ہے تو چاند اس سے منور ہونے میں قابل کے درجہ میں ہے حضورﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ فاعل اور قابل کے اس درجہ میں تھے دوسرے صحابۂ کرامؓ نے حضورﷺ کی تصدیق کی تو بہ تقاضائے علم کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپﷺ کی تصدیق کی بہ تقاضائے فطرت۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی تخلیق ہی اس کام کے لئے ہوئی تھی۔
سورج پردے کے پیچھے چلا جائے تو دنیا چاند سے مستفید ہوتی ہے اور وہ بھی حقیقت میں آفتاب کا ہی فیض ہوتا ہے۔ حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد صحابہؓ اس چاند کے گرد جمع ہوئے اور ایسے جمع ہوئے جیسے چاند کے گرد ستاروں کا ہالہ ہوتا ہے۔ چاند کبھی دن کو بھی نظر آتا ہے لیکن سورج کے اکرام میں وہ روشن نہیں ہوتا کیونکہ یہ دورِ آفتاب ہے اس میں چاندنی کیسے ہو جونہی سورج پردے کے پیچھے ہوا وہیں چاند اب دمک اٹھتا ہے حضرت ابوبکر صدیقؓ اس دور خلافت میں ایسے چمکے کہ علم و عزیمت میں دنیا نے ان کا مثل نہ دیکھا۔ جس طرح چاند سورج کے پیچھے چلتا ہے صدیق کا ہر قدم نبوت کے ساتھ ساتھ اٹھتا رہا یہ خلافت على منہاج النبوة کا مظاہرہ تھا صدیقؓ اتنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ لشکرِ اسامہ کے سامان کی جو گرہیں حضورﷺ اپنے ہاتھ سے باندھیں انہیں وہ مدینہ منورہ میں ہی کھول دے۔ نہیں، وہ کھلیں گی تو اسی میدان جہاد میں جہاں ان کے کھلنے کا ارادہ نبوت نے کیا تھا۔ صدیقؓ کا تو کام بس یہ ہے کہ اس کا ہر قدم نبوت کے ساتھ اٹھے اور وہ ہر بات میں نبیﷺ کی تصدیق کرتا چلا جائے۔ (خلفائے راشدینؓ: جلد 1 صفحہ 87)
سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صداقت اور سچائی کی گواہی لسان نبوت نے دی ہے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو کچھ کہا سچ کہا ہے۔
حضرت علی المرتضٰیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی کوئی بات مجھے کوئی بتاتا تو میں اس سے قسم لے لیتا تھا مگر جب حضرت ابوبکرؓ کوئی بات حضورﷺ کی بتاتے تو مجھے اس کی ضرورت نہ پڑتی تھی کیونکہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ خود سچے تھے حضرت علی المرتضٰیؓ نے ایک مرتبہ ایک حدیث بیان کرنے سے پہلے یہ بات فرمائی تھی۔
 كنت اذا سمعت من رسول اللهﷺ حديثا نفعني الله بما شاء منه واذا حدثني عنه غيرى استحلفته فاذا حلف لي صدقته وان ابابكرؓ حدثني وصدق ابوبكرؓ ۔
 ( مسند احمد: جلد 1 صفحہ 5، سنن ابو داؤد: جلد 1 صفحہ 497)
سو حضرت ابوبکرؓ کے صدیق ہونے میں کسی نے کبھی کوئی اختلاف نہیں کیا ہے۔ آپؓ صدیق ہیں اور اس پر قرآن وحدیث اور صحابہؓ واہل بیتؓ شاہد عدل ہیں۔

صفحہ 2 از 2