Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قرار داد کے اہم دعوتی آثار و نتائج

  علی محمد الصلابی

قرار داد کا سب سے اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جاگیردارانہ نظام ہمیشہ کے لیے مکمل طور پر ختم ہو گیا چنانچہ ہر ظالمانہ جاگیردارانہ نظام، جو صرف اپنے فائدے کے لیے ساری زمینوں پر قابض تھا اور مفت کاشتکاری کے لیے سارے کسانوں کو غلام بنائے ہوئے تھا، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے معطل کر دیا آپؓ نے قابل زراعت زمین کو اس کے مالکوں کی ملکیت میں باقی رکھا، اور وہ لوگ عدل و انصاف پر مبنی خراج کے بدلے اس کی کاشتکاری کرتے رہے اور بقدر استطاعت ہر سال خراج ادا کرتے رہے، حضرت عمرؓ کی قرار داد، جس میں وہاں کے اصلی باشندوں کو قابل زراعت زمین کی ملکیت دی گئی تھی، اور بقدر استطاعت خراج کی ادائیگی کے عوض وہ اس کی کاشتکاری کے حق دار تھے، اس قرار داد پر کسان رشک کرنے لگے، اور انہیں زندگی میں پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ ہم بھی قابل زراعت زمین کے مالک ہیں نہ کہ ظالم حکمران طبقہ کے جاگیردارانہ نظام کے غلام، کیونکہ ان ظالم حکمرانوں کے دور میں وہ صرف ایک مزدور وغلام کی حیثیت سے زندہ تھے، بلا کسی معاوضہ کے کاشتکاری کرتے تھے، اور ان کی ساری محنت و کاوش کا نتیجہ آمدنی کی شکل میں جاگیرداروں کی جیب میں جاتا تھا، اور وہ لوگ کاشتکاروں کے لیے روٹیوں کے صرف چند ٹکڑے ہی چھوڑتے تھے۔ 

(الدعوۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: حنسی غیطاس: صفحہ 130)