حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ (جمل و صفین) کرنے والے فاسق تھے۔ (شرح مواقف)
مولانا ابوالحسن ہزارویحضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ساتھ جنگ (جمل و صفین) کرنے والے فاسق تھے۔ (شرح مواقف)
الجواب اہلسنّت
یہ سرخی بھی محض دجل اور شیعہ قوم کی روایتی عیاری کا ایک نمونہ ہے۔ ارباب انصاف سے توجہ کی درخواست ہے، شرح مواقف کے عکسی صفحہ نمبر 745 کی تیسری سطر پر المقصد السابع شروع ہوا جس کی ابتداء یوں ہے،
انه یجب یحب تعظیم الصحابہ کلھم.
۔ "کہ تمام صحابہ کرام رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم کی تعظیم کرنا واجب ہے۔"
پھر اِس باب میں آیاتِ قرآنی اور احادیث سے مذکورہ دعویٰ تعظیم صحابہ (رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم) کو ثابت کیا۔ پھر ان باہمی نزاعات و لڑائیوں کا ذکر کیا جو سبائی فریب کاری سے مسلمانوں کے درمیان واقع ہو گئیں اور مختلف حضرات کی آراء و خیالات اور ان کے اقوال بیان فرمائے کہ ان باہمی لڑائیوں میں صحابہ کرام رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم کے بارے میں کیا نظریہ رکھنا چاہیے کیونکہ عام اِنسانی تصور یہی ہے کہ جب دو جماعتوں میں اختلاف ہو تو ایک حق پر اور ایک ناحق ہوتی ہے۔ اب یہاں صحابہ کرام رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم کے درمیان واقع ہونے والی (صفین وجمل) جنگوں کے بارے میں کیا نظریہ رکھنا چاہیے۔ تو صاحب شرح مواقف نے یہ معاملہ بالکل صاف فرما دیا کہ ان جنگوں کی بنا پر کوئی صحابی العیاذباللّٰہ کافر ہرگز نہیں کہ ان کا یہ باہمی نزاع اجتہاد کی بنا پر تھا۔ اور مجتہد کا اجتہاد اگر صواب نہ بھی ہو تو بھی اسے ایک اجر ضرور ملتا ہے۔
البتہ یہ بحث زیر گفتگو آئی کہ ان میں سے کوئی فریق فاسق (یعنی گنہگار) ہے یا نہیں ان دونوں رائیوں کے قائلین موجود ہیں، چناچہ فرمایا:
ان بعضھم کالقاضی ابی بکر ذھب الی ان ھذہ التخطیة لا تبلغ حد التفسیق الخ۔
(عکسی صفحہ۔۔۔سطر 22)
"کہ بعض حضرات جیسے قاضی ابوبکر وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ خطاء (جو صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کے درمیان جنگ کی صورت میں واقع ہوئی اور ایک جماعت کا اجتہاد و صواب اور دوسری جماعت کا اجتہاد خطاء تھا) فسق کی حد کو نہیں پہنچا۔ کیونکہ اجتہاد خطاء بھی ہو تو ایک اجر ضرور ملتا ہے لہٰذا ان دوسرے حضرات کا اجتہاد خطاء بھی ہو گیا تو ان کو اس بنا پر فاسق کہنا بالکل جائز نہیں۔
اور دوسری رائے یہ ہے کہ خطائے اجتہادی فسق ہے، چنانچہ فرماتے ہیں...
ومنھم من ذھب الی التفسیق کالشیعة
(عکسی صفحہ سطر نمبر 23)
" کہ اُن میں بعض وہ ہیں جو اس خطائے اجتہادی کو فسق کہتے ہیں جیسا کہ شیعہ قوم۔"
محترم حضرات ! خود ہی انصاف فرمائیے، صاحب موافق نے جو مذہب شیعوں کا بیان فرمایا کہ شیعہ امت یہ نظریہ رکھتی ہے کہ وہ صحابہ فاسق تھے جو حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ساتھ صفین وغیرہ میں لڑے، اس شیعہ نظریہ کو سنی نظریہ کے طور پر پیش کر کے الزام دینا کیا دیانت داری ہے ؟؟ صاحب شرح نے تو شیعہ قوم کا نظریہ نقل کیا ہے اور نقل کرنے والے کے کھاتے میں اس نقل کو نہیں ڈالا جاتا۔ اس تجاہل عارفانہ پر سوا اس کے ہم کیا عرض کر سکتے ہیں کہ:
خود ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کرو...
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی...