Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملکی خزانے کو منظم کرنا

  علی محمد الصلابی

اسلامی سلطنت کا دائرہ چاروں طرف وسیع ہو گیا، اور پہلے زمانے کی ملکی سرحدوں سے متجاوز ہو کر دور دور تک اسلامی سرحدوں کے ناموں کا اطلاق ہونے لگا، ان سرحدوں میں سب سے اہم فرات کی سرحد مانی جاتی تھی، اس کی طولانی ایسی اہم سیاسی و جغرافیائی خطوط لائن سے گزرتی تھی جو اسلامی سلطنت اور رومن حکومت کی سرحدوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی تھی۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر اسلامی شہر سے اس کی ضرورت کی مقدار میں فوجی گھوڑوں کو تیار کیا، اس طرح ہر شہر میں ہمہ وقت تیار رہنے والے فوجی شہسواروں کی عددی قوت تیس 30 ہزار سے زیادہ ہو گئی، یاد رہے کہ یہ تعداد پیادہ پا فوج اور دیگر عسکری طاقتوں مثلاً پیادہ اور شتر بانوں کے علاوہ ہے۔ آپؓ نے ان شہسواروں کو منظم افواج کی شکل میں صرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے خاص ریزرو ( Reserve ) کیا تھا، آپ نے ملکی خزانے سے ان کی تنخواہیں مقرر کیں اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت کے علاوہ دیگر تمام مشغولیات سے انہیں روک دیا۔ گویا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے خراج کو عسکری طاقتوں کی مضبوطی اور اس کی افواج کی تنخواہوں کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بنا دیا۔

(الدعوۃ الإسلامیۃ فی عہد أمیر المومنین عمر بن الخطاب: صفحہ 135)

حضرت عمر فاروقؓ نے خراج کو ملکی خزانہ کی اہم مالی آمدنی قرار دیا اور اس کے لیے اصول و ضوابط وضع کیے۔ اس ضابطہ بندی کا مقصد یہ تھا کہ امت کے مفاد عامہ اور اس کی ملکی سرحدوں اور شاہراہوں کی حفاظت و استحکام میں بیت المال کا اہم کردار ہو اور یہ اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک کہ جنگ کے ذریعہ سے مفتوحہ زمین کو ان کے مالکان کے قبضے میں نہ رکھا جاتا، تاکہ زمین کی پیداوار کی ایک مخصوص مقدار بیت المال میں آتی رہے۔ زمین کو ان کی ملکیت میں سونپنے سے ایک فائدہ یہ متوقع تھا کہ ان کے اندر محنت اور زمین سے سرمایہ کاری کا جذبہ پروان چڑھے گا، اور مسلمانوں کی آمد سے پہلے اپنے حکام کو ٹیکس ادا کرنے میں وہ جس قدر اپنی جان کھپاتے تھے اس کا اسلامی عدل و رواداری سے موازنہ کریں گے۔ 

(اہل الذمۃ فی الحضارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 63)