Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عشور کسٹم آمدنی

  علی محمد الصلابی

عشور سے مراد وہ آمدنی ہے جسے اسلامی سلطنت سے گزرنے والی تجارت پر عائد کیا جاتا ہے، خواہ اس کا تعلق ملکی درآمدات سے ہو، یا برآمدات سے۔ یہ نظام موجودہ دور کے کسٹم محصول سے قریب تر ہے۔ اس محصول کو وصول کرنے والے ذمہ دار کو ’’عاشر‘‘ کسٹم آفیسر کہا جاتا ہے۔ 

(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 271 اقتصادیات الحرب: صفحہ 223)

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دورِ صدیقی میں اس ٹیکس کا کوئی وجود نہ تھا، اس لیے کہ وہ عرصہ اسلام کی دعوت، اس کی نشر و اشاعت کے لیے جہاد اور اسلامی سلطنت کی تعمیر و قیام کا عرصہ تھا، لیکن جب امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع ہو گیا، مشرق و مغرب میں اس کی سرحدیں پھیل گئیں، پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین کو فروغ ملا اور مفاد عامہ کی ضرورتیں بھی بین الاقوامی تعلقات کی متقاضی ہوئیں تو حضرت عمرؓ نے سوچا کہ جس طرح حربی کفار غیر مسلمین جن کے ساتھ کوئی صلح و معاہدہ نہیں اپنے ملک میں آنے والے مسلمان تاجروں سے کسٹم وصول کرتے ہیں، بالکل اسی طرح برابر کا معاملہ کرتے ہوئے جو غیر مسلم تاجر اسلامی ملک میں آئیں ان سے کسٹم وصول کیا جائے۔

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 128)

اسلام میں کسٹم محصول کا نظام سب سے پہلے سیدنا عمرؓ نے نافذ کیا اور اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ باشندگان ’’منبج‘‘ اور جو لوگ ’’بحر عدن‘‘ کے اس پار رہتے تھے سب نے حضرت عمرؓ سے پیش کش کی کہ وہ لوگ عربوں کی سرزمین میں کسٹم کی ادائیگی کرتے ہوئے تجارت کرنا چاہتے ہیں، آپؓ نے اس سلسلہ میں دیگر اصحابِ رسولﷺ سے مشورہ کیا، اور پھر سب نے اجازت دینے پر اتفاق کر لیا۔ چنانچہ اسی اعتبار سے آپؓ کو غیر مسلم تاجروں سے سب سے پہلے کسٹم وصول کرنے والا کہا گیا۔ البتہ آپؓ نے یہ تحقیق کرنا مناسب سمجھا کہ جب مسلمان تاجر دیگر غیر اسلامی ممالک کی سرحدوں سے گزرتے ہیں تو وہ ممالک کتنا کسٹم وصول کرتے ہیں، آپؓ نے مسلمانوں سے پوچھا کہ جب تم حبشہ والوں کی سرزمین سے گزرتے ہو تو تم سے کیا وصول کیا جاتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ جو سامانِ تجارت ہوتا ہے اس کا دسواں حصہ وہ لیتے ہیں، تو آپؓ نے فرمایا: تم ان سے اسی طرح وصول کرو جس طرح وہ تم سے وصول کرتے ہیں۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: قلعجی: صفحہ 651)

نیز آپؓ نے عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب تم غیر مسلموں حربیوں کے ملک سے گزرتے ہو تو وہ تم سے کتنا ٹیکس وصول کرتے ہیں؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: 10/1 یعنی دسواں حصہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی طرح تم بھی ان سے وصول کرو۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: قلعجی: صفحہ 651)

روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ ہمارے کچھ مسلمان تاجر دار الحرب میں تجارت کرنے جاتے ہیں اور وہ ان سے عشر 10/1 وصول کرتے ہیں۔ آپؓ نے جواب لکھا: تم بھی ان سے اسی طرح وصول کرو جس طرح وہ تم سے وصول کرتے ہیں اور ذمیوں سے نصف عشر 20/1 وصول کرو، اور مسلمانوں کے پاس دو سو درہم ہو جانے کے بعد ان کے ہر چالیس درہم پر ایک درہم لو۔ دو سو درہم سے کم رہنے پر ان سے کچھ نہ لو۔ جب دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم وصول کرو اور اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو اسی حساب سے لیا کرو۔ 

(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 145، 146، سیاسۃ المال: صفحہ 128)

اس جدید اسلامی قانون نے بین الاقوامی سطح پر تجارتی منڈی کو منظم کیا اور پھر اسلامی تجارت نے تجارت کی دنیا میں خوب خوب فائدہ اٹھایا، اس لیے کہ عالمی تجارت کے لیے اسلامی سلطنت کے دروازے کھل گئے اور دنیا کے گوشے گوشے سے اسلامی سلطنت تک سامانِ تجارت آنے لگا، پھر فطری طور پر مسلم و غیر مسلم تاجروں کو دنیا کے ہر خطے سے اموال کے درآمد و برآمد کرنے میں کافی حوصلہ ملا، بشمول جزیرہ عرب، اسلامی سلطنت کے اندرون ملک تجارتی مراکز کافی متحرک ہو گئے اور جزیرہ عرب کی ریاستوں سے دیگر اسلامی ریاستوں کو آنے جانے والے تجارتی قافلے رواں دواں ہو گئے۔ اسی طرح اسلامی سلطنت کی بندرگاہیں ہندوستان، چین اور مشرقی افریقہ سے آنے والی قیمتی و نفیس بار بردار کشتیوں کا استقبال کرنے لگیں، خلافت راشدہ اور بنو امیہ کے دور میں ترقی کا یہ سماں بالکل صاف طور پر نظر آیا۔ 

(التجارۃ وطرقہا فی الجزیرۃ العربیۃ: دیکھئے محمد العمادی: صفحہ 332)

عہد فاروقی میں کچھ کسٹم آفیسران مقرر تھے جو اسلامی سلطنت کے حدود سے گزرنے والے اموال تجارت سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے اور اس میں نصاب و سال گزرنے کا اعتبار کرتے تھے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے مجھے عراق کا محصل زکوٰۃ وصول کرنے والا آفیسر بنا کر بھیجا اور کہا: جب ایک مسلمان کا مال دو سو درہم تک پہنچ جائے تو اس سے پانچ درہم وصول کرو اور جب دو سو سے زیادہ ہو جائے تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم لو۔ 

(الحیاۃ الاقتصادیۃ فی العصور الإسلامیۃ الاولیٰ: صفحہ 101)

شیبانی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے زیاد بن جریر کو اور دوسرے قول کے مطابق زیاد بن حدیر کو ’’عین التمر‘‘ کا محصل بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ان کے مال سے ربع عشر یعنی 40/1 وصول کریں، اور اہل ذمہ سے اگر وہ اپنے اموال کو تجارت میں استعمال کرتے ہوں نصف عشر یعنی 20/1 اور حربی کفار سے عشر یعنی 10/1 اور آپؓ نے کسٹم وصول کرنے والے کی تنخواہ کسٹم آمدنی سے مقرر کی۔

(شرح السیر الکبیر: جلد 5 صفحہ 2133، 2134، الحیاۃ الاقتصادیۃ: صفحہ 101)

خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ سرکاری کسٹم کے بارے میں جو شخص غور کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپؓ نے غیر مسلم تاجر پر عشر 10/1 اس لیے مقرر کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا بھی اسی طرح معاملہ تھا، گویا یہ برابر کے معاملہ کا آغاز تھا اور ذمیوں پر نصف عشر یعنی 20/1 اس لیے مقرر کیا تاکہ ان میں اور مسلمانوں میں فرق ہو سکے، نیز بنو تغلب کے نصاریٰ کی بزبانِ خود مطلوبہ جزیہ کی تنفیذ تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں سے لی جانے والی زکوٰۃ سے دوگنا دینے کے لیے ہم خوشی خوشی تیار ہیں، جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

اور مذکورہ فاروقی ہدایت میں مسلمانوں پر جو مقدار مقرر کی گئی ہے وہ زکوٰۃ کے قائم مقام ہے، اور سامانِ تجارت میں زکوٰۃ کا نصاب معلوم و معروف ہے۔

اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپؓ نے سب سے پہلے زکوٰۃ و دیگر سرکاری محصولات کی وصول یابی کے لیے سب سے کمتر حد متعین کی، اور جب تک راس المال اپنی اصلی حالت پر باقی ہو، اور اس کے ذریعہ سے گردش کرنے والے سامان کی قیمت راس المال سے زیادہ نہ ہو، تو اگرچہ راس المال کے ذریعہ سے سامانِ تجارت کی گردش ہوتی رہے سال گزرنے کے بعد ہی اس سے زکوٰۃ لی جائے گی، مسلمانوں اور ذمیوں سے اسے کئی مرتبہ نہیں وصول کیا جائے گا۔

برابری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے آپؓ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ جب غیر مسلم، مسلمانوں سے وصول کرنے والا کسٹم معاف کر دیں گے تو اسی اعتبار سے مسلمان بھی اسلامی حکومت میں آنے والے کافر تاجران سے کسٹم معاف کر دیں گے۔ اسی طرح اگر وہ مکمل طور پر اپنے ہاں سے اس نظام کو ختم کر دیں گے تو مسلمان بھی اپنے یہاں سے مکمل طور پر اسے ختم کر دیں گے، موجودہ دور کی حکومتیں بھی اسی پالیسی پر عمل کرتی ہیں اور اسی کو عصر حاضر میں ’’کسٹم کی پابندیاں ختم‘‘ کرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 132)

بسا اوقات جب مسلمانوں کو دوسرے ممالک سے آنے والے اور وہاں کی تیار کردہ بعض مصنوعات کی سخت قلت ہوتی ہے تو اس سامان کو کثرت سے درآمد کرنے کے لیے تاجروں سے وصول کیے جانے والے کسٹم کو کم یا اسے کسٹم سے بالکل آزاد کر دیا جاتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اسے عملاً نافذ کیا، آپؓ نے اپنے امراء کو حکم دیا تھا کہ جب غیر مسلم تاجر تیل اور غلہ جات لے کر حجاز میں داخل ہوں تو ان سے نصف عشر یعنی 20/1 کسٹم وصول کریں، اور ایسا بھی ہوا کہ آپؓ نے کبھی کبھی ان سے کسٹم کو بالکل معاف ہی کر دیا۔ چنانچہ بروایت زہری عن سالم عن ابیہ عن عمر وارد ہے کہ حضرت عمرؓ ’’نبطیوں‘‘ سے روئی میں عشر 10/1 اور گیہوں و کشمش میں نصف عشر 20/1 وصول کرتے تاکہ مدینہ تک زیادہ سے زیادہ مال پہنچ سکے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 133)

خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مالیاتی نظام میں اصول سازی کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور ان کے پڑوسیوں میں تجارتی لین دین میں کافی سہولت ہو گئی، اور لوگوں کو متعدد و نوع بہ نوع ضروریات کی بہ آسانی تکمیل ہونے لگی۔

آپؓ نے بیت المال تک آنے والی ملک کی داخلی آمدنی کی تنظیم و تنسیق پر نہ صرف توجہ دی بلکہ ان اسباب و ذرائع کو بھی منظم کیا جو بیت المال کی آمدنی میں اضافہ اور ملک میں خوش حالی و پرمسرت زندگی کا سبب بن سکیں، اسی وجہ سے آپ نے بین الاقوامی تجارت پر توجہ دی اور غیر ملکی تاجروں سے حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، گورنروں اور امراء کو غیر ملکی تاجروں کے ساتھ مخصوص رواداری کرنے کا حکم بھیجا، اور آپؓ ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ کسٹم وغیرہ کی وصولی میں ان تاجروں کو سارے ملکی حقوق میسر ہوں، ان کے ساتھ کسی طرح کا تعصب نہ برتا جائے۔ 

(سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 113)