عشور کسٹم آمدنی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عشور کسٹم آمدنی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ سرکاری کسٹم کے بارے میں جو شخص غور کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپؓ نے غیر مسلم تاجر پر عشر 10/1 اس لیے مقرر کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا بھی اسی طرح معاملہ تھا، گویا یہ برابر کے معاملہ کا آغاز تھا اور ذمیوں پر نصف عشر یعنی 20/1 اس لیے مقرر کیا تاکہ ان میں اور مسلمانوں میں فرق ہو سکے، نیز بنو تغلب کے نصاریٰ کی بزبانِ خود مطلوبہ جزیہ کی تنفیذ تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں سے لی جانے والی زکوٰۃ سے دوگنا دینے کے لیے ہم خوشی خوشی تیار ہیں، جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

اور مذکورہ فاروقی ہدایت میں مسلمانوں پر جو مقدار مقرر کی گئی ہے وہ زکوٰۃ کے قائم مقام ہے، اور سامانِ تجارت میں زکوٰۃ کا نصاب معلوم و معروف ہے۔

اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپؓ نے سب سے پہلے زکوٰۃ و دیگر سرکاری محصولات کی وصول یابی کے لیے سب سے کمتر حد متعین کی، اور جب تک راس المال اپنی اصلی حالت پر باقی ہو، اور اس کے ذریعہ سے گردش کرنے والے سامان کی قیمت راس المال سے زیادہ نہ ہو، تو اگرچہ راس المال کے ذریعہ سے سامانِ تجارت کی گردش ہوتی رہے سال گزرنے کے بعد ہی اس سے زکوٰۃ لی جائے گی، مسلمانوں اور ذمیوں سے اسے کئی مرتبہ نہیں وصول کیا جائے گا۔

برابری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے آپؓ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ جب غیر مسلم، مسلمانوں سے وصول کرنے والا کسٹم معاف کر دیں گے تو اسی اعتبار سے مسلمان بھی اسلامی حکومت میں آنے والے کافر تاجران سے کسٹم معاف کر دیں گے۔ اسی طرح اگر وہ مکمل طور پر اپنے ہاں سے اس نظام کو ختم کر دیں گے تو مسلمان بھی اپنے یہاں سے مکمل طور پر اسے ختم کر دیں گے، موجودہ دور کی حکومتیں بھی اسی پالیسی پر عمل کرتی ہیں اور اسی کو عصر حاضر میں ’’کسٹم کی پابندیاں ختم‘‘ کرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 132)

بسا اوقات جب مسلمانوں کو دوسرے ممالک سے آنے والے اور وہاں کی تیار کردہ بعض مصنوعات کی سخت قلت ہوتی ہے تو اس سامان کو کثرت سے درآمد کرنے کے لیے تاجروں سے وصول کیے جانے والے کسٹم کو کم یا اسے کسٹم سے بالکل آزاد کر دیا جاتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اسے عملاً نافذ کیا، آپؓ نے اپنے امراء کو حکم دیا تھا کہ جب غیر مسلم تاجر تیل اور غلہ جات لے کر حجاز میں داخل ہوں تو ان سے نصف عشر یعنی 20/1 کسٹم وصول کریں، اور ایسا بھی ہوا کہ آپؓ نے کبھی کبھی ان سے کسٹم کو بالکل معاف ہی کر دیا۔ چنانچہ بروایت زہری عن سالم عن ابیہ عن عمر وارد ہے کہ حضرت عمرؓ ’’نبطیوں‘‘ سے روئی میں عشر 10/1 اور گیہوں و کشمش میں نصف عشر 20/1 وصول کرتے تاکہ مدینہ تک زیادہ سے زیادہ مال پہنچ سکے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 133)

خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مالیاتی نظام میں اصول سازی کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور ان کے پڑوسیوں میں تجارتی لین دین میں کافی سہولت ہو گئی، اور لوگوں کو متعدد و نوع بہ نوع ضروریات کی بہ آسانی تکمیل ہونے لگی۔

آپؓ نے بیت المال تک آنے والی ملک کی داخلی آمدنی کی تنظیم و تنسیق پر نہ صرف توجہ دی بلکہ ان اسباب و ذرائع کو بھی منظم کیا جو بیت المال کی آمدنی میں اضافہ اور ملک میں خوش حالی و پرمسرت زندگی کا سبب بن سکیں، اسی وجہ سے آپ نے بین الاقوامی تجارت پر توجہ دی اور غیر ملکی تاجروں سے حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، گورنروں اور امراء کو غیر ملکی تاجروں کے ساتھ مخصوص رواداری کرنے کا حکم بھیجا، اور آپؓ ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ کسٹم وغیرہ کی وصولی میں ان تاجروں کو سارے ملکی حقوق میسر ہوں، ان کے ساتھ کسی طرح کا تعصب نہ برتا جائے۔ 

(سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 113)


صفحہ 2 از 2