Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حرام طریقے سے مال کماتے تھے۔ (کتاب ابوذرغفاری)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ حرام طریقے سے مال کماتے تھے۔ (کتاب ابوذرغفاری)

الجواب اہلسنّت

گذشتہ اوراق میں گزر چکا ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے اِس بنا پر سخت باز پرس کی کہ بحرین کا گورنر بنانے سے پہلے تو یہ مال آپ کے پاس نہ تھا۔ اِس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اپنی صفائی پیش کی اور حلال طریقے سے یہ مال حاصل ہونے کے شواہد پیش کیے کہ میری گھوڑی نے بچہ دیا اس کو فروخت کیا۔ اسی طرح میرے تجارت کے شریک دوستوں نے ہدیے دیے تو اِس گھوڑی کی نسل سے ہونے والی نسل کو بیچ کر اور ہدایا کے ذریعے یہ مال جمع کیا ہے۔ اسی واقعہ کو کتاب میں بیان کیا گیا ہے جِسے شیعہ لوگوں نے بھونڈے انداز میں یہاں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے نہ یہ لازم آیا کہ واقعی حرام مال کمایا تھا اور نہ ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی یہ باز پرس کرنے میں حضرت عمر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے کوئی غلط کام کیا لہٰذا یہ بات قابلِ اعتراض نہ تھی مگر مرضِ باطن چین جو نہیں لینے دیتا۔