فے اور مال غنیمت
علی محمد الصلابیہر وہ مال جو مسلمانوں کو مشرکین و کفار سے بغیر جنگ و جدال کے حاصل ہو اسے فے کہا جاتا ہے، مال فے کا خمس، خُمس کے مستحقین میں تقسیم کیا جائے گا۔
(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: دیکھئے جمیل عبداللّٰه المصری: صفحہ 322)
ان مستحقین کا بیان قرآن میں اس طرح آیا ہے:
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ۞ (سورۃ الحشر: آیت 7)
ترجمہ: ’’جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے۔‘‘
اور مالِ غنیمت حربی کفار سے چھینے ہوئے اس مال کو کہتے ہیں جس پر مسلمان بذریعہ جنگ قابض ہوئے ہوں۔
(أبویوسف: صفحہ 19، بحوالۃ عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 183)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞(سورۃ الانفال آیت 41)
ترجمہ: ’’اور جان لو کہ بے شک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی، جس دن دو جماعتیں مقابل ہوئیں اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
چنانچہ خلافت فاروقی میں مفتوحہ علاقوں کی توسیع اور ان کی اقتصادی و معاشی خوش حالی کی وجہ سے اموالِ غنیمت کی بہتات ہو گئی، روم و فارس کے فوجی جرنیل پورے کروفر کے ساتھ میدان جنگ میں اترتے اور ان سے چھینا ہوا مال مسلمانوں کا دامن بھر دیتا، کبھی کبھی ان اموال کی قیمت پندرہ ہزار 15,000 اور تیس ہزار 30,000 درہم تک پہنچ جاتی۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 188)
آپؓ کے عہد میں مدائن، جلولاء، ہمدان، ری اور اصطخر جیسے بڑے بڑے شہر فتح کیے گئے اور مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال لگا، جیسے کسریٰ قالین زری جو 3600 مربع گز کا تھا وہ سونے اور قیمتی نگینوں سے منقش کیا ہوا تھا، پھلوں کی تصویریں ہیرے و جواہر اور بیل بوٹے ریشم سے بنائے گئے تھے، بہتی نہر کی تصویر کشی سونے سے کی گئی تھی، وہ قالین بیس ہزار 20،000 درہم میں فروخت کیا گیا، جلولاء اور نہاوند سے سونا چاندی اور ہیرے جواہرات کی شکل میں بہت سے اموال غنیمت پر مسلمان قابض ہوئے، صرف جلولاء کے مالِ غنیمت کا خمس چھ ملین درہم تھا۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 189)
اموالِ غنیمت میں سب سے عظیم چیز جو مسلمانوں کے ہاتھ لگی وہ قابل زراعت زمینیں تھیں، جنہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملکی مفاد عامہ کے لیے وقف کر دیا، نیز وہ غیر آباد خالصہ زمین مسلمانوں کو غنیمت میں ملی جس کے باشندے جنگ میں قتل کر دیے گئے، یا وہاں سے بھاگ نکلے، کسریٰ اور اس کی حکومت کی جائیدادیں بھی غنیمت میں ملیں، اس کے غلہ جات کی آمدنی کو بیت المال میں ملکی مفاد کے لیے وقف کر دیا گیا، اور بیان کیا جاتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کے غلہ جات سے آمدنی کی رقم سات ملین درہم تک پہنچ گئی تھی۔ خلاصہ یہ کہ اموالِ غنیمت کی کثرت ہو گئی، اور اس نے مسلمانوں اور اسلامی ملک کو مال دار، اور ان کے معیار معیشت اور معاشرت کو بلند کر دیا، خلافت عثمانی میں اس کے آثار و بہترین نتائج خوب واضح طور پر سامنے آئے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 189)
بہرحال یہ تھے عہد فاروقی میں ملکی آمدنی کے چند اہم ذرائع جن کا بیان یہیں پر ختم ہوتا ہے۔