Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابی حکم بن عاصؓ خود منافق ہے اور ان کی تمام اولادملعون ہے۔ (سیر اعلام النبلاء)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

 صحابی حکم بن عاصؓ خود منافق ہے اور ان کی تمام اولادملعون ہے۔ (سیر اعلام النبلاء)

الجواب اہلسنّت

قارئین کرام ! اِن دونوں صفحات میں عربی کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو حکم بن عاصؓ کے منافق ہونے والا معنٰی دے نہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منافق کہا اور نہ کسی اور شخص نے ان کو منافق کہا۔ بلکہ یہ خرافات محض حسد کی جلنے والی آگ کی چنگاریاں ہیں جو اہلِ سنت کی کتابوں کو آڑ بنا کر سُلگائی جا رہی ہیں۔

2_ اسی عکسی صفحہ نمبر 108 کی سطر نمبر 5 پر درج ہے:

(ویرویٰ فی سبہ احادیث لم یصح۔) 

"کہ حکم بن عاصؓ (اور ان کی اولاد) کے بارے میں سب و شتم کی جتنی روایات ہیں وہ (گھڑی ہوئی ہیں) صحیح نہیں۔" 

اس صاف وضاحت سے یہ معلوم ہو گیا کہ جو خرافات رافضی شیعہ راویوں نے حکم بن عاصؓ اور ان کی اولاد کے بارے میں گھڑی ہیں صاحبِ کتاب ان کا رد کر رہے ہیں کہ کہیں لوگ ان روایات کو صحیح سمجھ کر اپنے ایمان کو برباد نہ کر بیٹھیں۔

 محترم حضرات ! اندازہ لگائیے کتاب میں جِس بات کو جھوٹا اور من گھڑت بتایا جارہا ہے اسی صفحہ پر یہ سُرخی جمائی گئی ہے کہ حکم بن العاصؓ اور اس کی اولاد منافق تھے۔

حالانکہ کتاب والا کہتا ہے کہ وہ روایات جِس میں حکم وغیرہ پر لعنت اور سب و شتم کے لفظ ہیں وہ صحیح نہیں۔ اسی صفحے کا حوالہ دے کر رافضی شیعہ کہتا ہے دیکھو سنیو تمہاری کتاب میں لکھا ہے حکم منافق اس کی اولاد ملعون ہے لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ۔ کیا کمال درجہ کا دجل ہے اب آپ ہی فرمائیے ایسے فریب خوردہ لوگوں کی اصلاح کس طرح ممکن ہے...؟؟

3_محترم حضرات ! منافق اور ملعون کہنا گالی اور برائی ہے، اور اللّٰه سُبحانہ و تعالٰی کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے گالی گلوچ سے اور کِسی کی برائی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ گالی دینا اور کِسی کو بُرا کہنا صِرف اِسلام ہی نہیں بلکہ اِنسانی شرافت کے بھی خلاف ہے۔ اب اس طرح کی خرافات سے خُدا کو معلوم کِس کو راضی کیا جاتا ہے حالانکہ ان خرافات کو اللّٰه سُبحانہ و تعالٰی، اس کا رسول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم اور اہل اللّٰه "دین یا اِنسانی شرافت" کوئی بھی قبول نہیں کرتا۔

4_جب اللّٰه سُبحانہ و تعالٰی کے نبی خود سب و شتم سے روکتے ہیں تو وہ خود اس کا ارتکاب کِس طرح سے کریں گے۔ رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات طیبہ تو اس طرح کے غلط جُملے ارشاد فرمانے سے پاک ہے نہ اللّٰه سُبحانہ و تعالٰی کے نبی فحش گو تھے اور نہ اس کو پسند فرماتے تھے۔ پھر ایسی خرافات کی نسبت رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرنا کِس طرح درست ہے؟؟ ہم عرض کرتے ہیں کہ ایسی تمام روایات جھوٹی اور رافضیوں شیعوں کی گھڑی ہوئی ہیں جِس میں فحش گوئی یا گالم گلوچ پائی جائے۔ یہی بات (عکسی صفحہ) پر صاحبِ کتاب نے لِکھی ہے۔ لہٰذا یہ سُرخی قائم کر کے رافضیوں نے اپنی غلیظ عادت کو تسکین تو دے لی ہے مگر انجام بد سے بچنے میں یہ تحریر ذرا کام نہ آئے گی بلکہ وہی انجام ہوگا جو پیغمبرِ اِسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے والے کا ہوتا ہے۔