اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام
علی محمد الصلابیبیت المال اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ساری ملکی آمدنی جمع ہوتی ہے اور جہاں سے خلفاء، فوج، قضاۃ جج و منصف، عمال و افسران کی تنخواہوں اور ملک کی دیگر عام و خاص ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے۔
(سیاسۃ المال فی الاسلام: صفحہ 155)
اور دواوین سے مراد وہ رجسٹر اور دفاتر ہیں جن میں ملک کے مختلف معاملات درج کیے جاتے ہیں۔ فارسیوں کے نزدیک دیوان اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں معاملات کو درج کرنے والے منشی اور ان رجسٹروں کو ترتیب دینے والے عہدیداران جمع ہوتے تھے۔
(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ: 243، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 155)
موجودہ دور میں بیت المال کا جو مفہوم ہے اسلامی سلطنت کی تعمیر کے وقت اس معنیٰ و مفہوم میں اس کا وجود نہ تھا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مالیاتی سیاست یہ تھی کہ آپ ضرورت مندوں میں اموال تقسیم کرنے اور خرچ کرنے میں تاخیر نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی طریقہ نبویﷺ پر کاربند رہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں اسی طریقہ پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ جب اسلامی سلطنت کی گرفت مشرق و مغرب میں دور دور تک دراز ہو گئی، تو ایک ایسے لائحہ عمل کی ایجاد پر آپ نے غور و خوض شروع کیا جس میں زکوٰۃ و صدقات، خراج اور جزیہ کی آمدنی اور فتوحات میں ملنے والے اموالِ غنیمت کو منظم طریقہ سے استعمال کیا جا سکے، نیز اسلامی افواج کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور ضرورت تھی کہ مردم شماری کر کے ان کی ضروریات کو درج کیا جائے تاکہ سرکاری عطیات سے کسی کے محروم رہنے کا اندیشہ باقی نہ رہے، اور ایسا نہ ہو کہ ان عطیات سے کچھ ہی لوگ بار بار نوازے جائیں۔
بہرحال اسلامی فتوحات میں پیش قدمی ہوتی رہی، اور ان کے نتیجہ میں مسلمانوں کو اس قدر اموالِ غنیمت حاصل ہوئے کہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اس وقت خلیفۂ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ ان اموال کی مکمل نگرانی صرف خلیفۂ وقت اور اس کے امراء کے بس کی بات نہیں ہے اور ملک کی اقتصادی حکمت و مصلحت بھی اس میں نہیں کہ بلا کسی حساب و کتاب کے مالیاتی معاملات کی لگام مکمل طور سے عمال و افسران اور گورنروں کے ہاتھ میں دے دی جائے، چنانچہ اس فکر کے نتیجہ میں ملکی خزانے کی حفاظت اور مناسب استعمال کے لیے مستحکم اصولوں پر دیوان کی شکل میں ایک لائحہ عمل تیار ہوا، اور اسلامی سلطنت میں سب سے پہلے اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رواج دیا۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 157)
جو واقعہ اس لائحہ عمل کی ایجاد کا سبب بنا اس کی تفصیل مؤرخین نے یوں بیان کی ہے: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بحرین سے پانچ لاکھ 5،00،000 درہم مالِ غنیمت لے کر سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس آیا، آپؓ نے وہاں کے لوگوں کے بارے میں مجھ سے پوچھا اور میں نے آپؓ کو بتایا۔ پھر آپؓ نے مجھ سے کہا: تم وہاں سے کیا لائے ہو؟ میں نے کہا: پانچ لاکھ درہم۔ آپؓ نے فرمایا: کیا پاگل ہو گئے ہو، کچھ جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ہاں، ایک لاکھ، پھر لاکھ، پھر لاکھ، پھر لاکھ، اور پھر لاکھ۔ آپؓ نے فرمایا: شاید تم کو نیند آ رہی ہے، جاؤ گھر چلے جاؤ، سو جاؤ، پھر جب صبح ہو گی تو میرے پاس آنا۔ بہرحال جب صبح ہوئی تو میں آپؓ کے پاس آیا۔ آپؓ نے پوچھا: تم بحرین سے کیا لائے ہو؟ میں نے کہا: پانچ لاکھ درہم، آپؓ نے فرمایا: کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں جانتا ہوں۔ ایک لاکھ اور پھر اسے پانچ مرتبہ شمار کیا اسے اپنی پانچوں انگلیوں پر گنتے رہے۔ آپؓ نے پوچھا: کیا سب دراہم صحیح ہیں؟ میں نے کہا: میں تو یہی جانتا ہوں۔ پھر آپؓ منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! ہمارے پاس بہت مال غنیمت آ گیا ہے اگر چاہو تو وزن کر کے تم کو دے دوں اور چاہو تو گن کر دے دوں، دوران آپؓ کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: امیر المؤمنین! میں نے شاہانِ عجم کو دیکھا ہے کہ وہ عطیات کی تقسیم کے لیے اپنا دیوان بناتے ہیں۔
(الطبقات، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 300، 301، یہ خبر صحیح ہے)
یہ سن کر آپؓ نے بھی اس کی خواہش ظاہر کی
(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ 244، الخراج: أبو یوسف: صفحہ 48، 49)
اور رجسٹر و دفاتر کی تنظیم و تنسیق کے لیے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت ولید بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر حاضرین نے اپنی اپنی رائے دی اور حضرت ولید بن ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں شام گیا ہوں، میں نے وہاں کے بادشاہوں کو دیکھا ہے کہ وہ لوگ عام عطیات و مصارف اور فوجی اخراجات کے لیے الگ الگ رجسٹر رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے بھی ایسا ہی کیا اور بعض روایات کے مطابق مذکورہ بات حضرت خالد بن ولیدؓ نے کہی تھی۔
(الأحکام السلطانیہ: صفحہ 226، 227، فتوح البلدان: صفحہ 436)
اور بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مدینہ میں چند فارسی سرداران تھے، انہوں نے جب اس موقع پر حضرت عمرؓ کی حیرت و استعجاب دیکھی تو آپؓ سے کہا: امیر المؤمنین! حکام کسریٰ کے پاس دیوان نام سے ایک نظام رائج ہے۔ اس میں باقاعدہ ان کی آمدنی اور اخراجات درج ہوتے ہیں، اس کا کوئی جز بھی نہیں چھوٹتا، عطیات کے مستحقین کے کئی درجات ہوتے ہیں، اس میں کوئی در اندازی نہیں ہو سکتی۔ حضرت عمرؓ نے اس پر توجہ دی، اور کہا: ذرا اس کی کیفیت ٹھیک سے بتاؤ، فارسیوں کے سردار نے اسے دوبارہ تفصیل سے بتایا، پھر آپؓ نے رجسٹر تیار کروایا اور عطیات مقرر کیے۔
(الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 226۔ تاریخ الإسلام السیاسی: جلد 1 صفحہ 456)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دفاتر و رجسٹر تیار کرانے کے مشورہ کو خوب سراہا اور حضرت عمر فاروقؓ کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہا: میرے خیال میں مال بہت ہے، لوگوں کے لیے کافی ہو گا اگر احاطہ نہ کیا گیا کہ معلوم ہو جائے کہ کس نے اپنا حصہ لیا اور کس نے نہیں لیا تو ڈر ہے کہ بدنظمی پیدا ہو جائے۔
(الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 226، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 158)
یہ چند روایات ہیں جو مختلف مواقع پر حاضرین سے متعدد مرتبہ آپؓ کے مشورہ لینے کی وجہ سے ایجاد دواوین و دفاتر کے متعدد اسباب پر دلالت کرتی ہیں۔
مؤرخین کا اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ کس سال دواوین و دفاتر کی کارروائی پوری ہوئی۔ طبری کے نزدیک یہ 15ھ کا واقعہ ہے، انہی پر ابن اثیر وغیرہ نے اعتماد کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے، اور دیگر مؤرخین مثلاً بلاذری، و اقدی، ماوردی اور ابن خلدون وغیرہ نے اسے محرم 20ھ کا واقعہ بتایا ہے۔
(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ 244، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)
راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ 20ھ میں اس کی کارروائی مکمل ہوئی، اس لیے کہ 15ھ میں قادسیہ کی جنگ لڑی گئی اور اس وقت تک عراق، شام اور مصر کی فتوحات مکمل نہیں ہوئی تھیں۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)
حضرت عمرؓ نے اموالِ غنیمت کی تقسیم میں صدیقی طریقہ کار کے خلاف عمل کیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں میں اموالِ غنیمت کو برابر تقسیم کیا، جب کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کی اسلام میں سبقت، جہاد میں نمایاں کردار اور رسول اللہﷺ کی نصرت و تائید کو مدنظر رکھتے ہوئے فرق مراتب کے لحاظ سے ان میں عطیات کو تقسیم کیا۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)
حضرت عمرؓ دور صدیقی ہی میں فرق مراتب کے لحاظ کے قائل تھے، چنانچہ جب آپؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دیکھا کہ سب لوگوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرتے ہیں تو ان سے کہا: کیا جس نے دو ہجرتیں کیں، اور دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی اس کے اور جس نے تلوار کے خوف سے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا، دونوں کے درمیان برابری کرتے ہیں؟ تو حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا: ان کا عمل اور اس کا بدلہ اللہ کے سپرد ہے۔ دنیا تو مسافر کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لیے ہے، حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: لیکن میں تو ابتدا میں جس نے اللہ کے رسول سے جنگ لڑی، انہیں ان لوگوں کا درجہ نہیں دوں گا جنہوں نے آپ کی نصرت و تائید میں آپؓ کے ساتھ جنگ لڑی۔
(الاحکام السلطانیۃ: الماوردی: صفحہ 201)
چنانچہ آپؓ نے عطیات کے مستحقین کو چند درجات و مراتب میں تقسیم کر دیا:
اسلام میں پیش پیش رہنے والے، جن کی سبقت کی وجہ سے مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔
مسلمانوں کے لیے مفاد و منافع فراہم کرنے والے، جیسے کہ حکام اور علماء جو مسلمانوں کو دین و دنیا کے فوائد پہنچاتے ہیں۔
مسلمانوں کے نقصانات و مصائب کو دفع کرنے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے، جیسے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مسلمان فوجی، جاسوس اور دیگر خیر خواہ، نادار اور ضرورت مند لوگ۔
(السیاسۃ الشرعیۃ: ابن تیمیہ: صفحہ 48 اولیات الفاروق: صفحہ 358)
اموال کی تقسیم میں آپ کی سیاست آپ کے اس قول سے مترشح ہے کہ کوئی آدمی اس مال کا دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں ہے، اس میں آدمی اور اسلام میں اس کی سبقت کی رعایت کی جائے گی، آدمی اور اس کی خوشحالی دیکھی جائے گی، آدمی اور اس کی مصیبت دیکھی جائے گی، آدمی اور اس کی ضرورت دیکھی جائے گی۔
(جامع الاصول: جلد 2 صفحہ 71، أخبار عمر: صفحہ 94 )
آپؓ نے عقیل بن ابی طالب، مخرمہ بن نوفل اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کو بلایا، یہ لوگ قریش کے نوجوانوں میں سے تھے اور ان سے کہا: لوگوں کے ناموں کو ان کے درجات و مراتب کے اعتبار سے رجسٹر میں درج کرو، چنانچہ انہوں نے مستحقین میں سب سے پہلے بنو ہاشم کو پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کو، پھر حضرت عمرؓ اور ان کے قبیلہ کو، اسی طرح درجہ بدرجہ تمام قبائل کی فہرست تیار کی اور اسے حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: نہیں، میں اس طرح نہیں چاہتا تھا، بلکہ نبی کریمﷺ کے گھرانے اور قرابت داروں سے شروع کرو، اور آپ کے اقرب فاقرب کا اعتبار کرو، یہاں تک کہ عمر کو وہاں درج کرو جہاں اللہ نے اسے رکھا ہے۔ چنانچہ آپؓ کے قبیلہ بنوعدی کے لوگ آپؓ کے پاس آئے اور کہا: آپ خلیفہ رسول ہیں اور ابوبکر کے بھی خلیفہ ہیں اور ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے۔ لہٰذا بہتر ہوتا کہ ان رجسٹرار فہرست تیار کرنے والے حضرات نے جہاں آپ کو درج کیا تھا خود کو وہیں رکھتے، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے بنو عدی چپ رہو، چپ رہو، کیا مجھے روند کر کھانا چاہتے ہو اور میں اپنی نیکیاں تم کو دے دوں؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، تمہارا وہی درجہ ہے، یہاں تک کہ تم کو پکارا جائے اور تم پر ہی رجسٹر بند ہو، یعنی تم سب سے آخر میں درج کیے جاؤ۔ سنو! میرے دونوں ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک راستہ پر چل چکے ہیں، اگر میں ان کی خلاف ورزی کرتا ہوں تو میری بھی خلاف ورزی کی جائے گی، اللہ کی قسم! ہمیں دنیا میں برتری نہیں ملی اور ہمیں اپنے عمل پر اللہ کے یہاں ثواب ملنے کی امید نہیں ہے مگر محمدﷺ کے ذریعہ سے۔ آپﷺ ہمارے شریف و بزرگ ترین فرد ہیں اور آپؓ کا قبیلہ عربوں میں اشرف ہے، پھر ان کا قریب سے قریب ترین فرد، اللہ کی قسم! اگر اہل عجم حسن عمل کے ساتھ آئیں، اور ہم عرب خاندان و قبیلہ کی برتری لے کر بغیر عمل کے آئیں تو وہ قیامت کے دن ہم سے زیادہ نبی کریمﷺ کی شفاعت کے مستحق ہوں گے، جس کا عمل اسے پیچھے کر دے اس کا حسب نسب اسے آگے نہیں لے جا سکے گا۔
(فتوح البلدان: صفحہ 436، الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 227)
بہرحال حضرت عمرؓ نے دیوان کی تیاری و ترتیب شروع کی اور اس میں مستحقین کے نام اور ان کے عطیات کی مقدار درج کی گئی، اس دیوان کا نام ’’دیوان جند‘‘ یعنی فوجی دیوان رکھا گیا، اس بنا پر کہ تمام عرب مسلمان اللہ کے راستے کے فوجی مجاہد ہیں۔ سب سے پہلے قبیلہ بنو ہاشم کے مجاہدین کا رجسٹر تیار کرایا، پھر ان میں جس کو نبی اکرمﷺ کی سب سے زیادہ قرابت داری حاصل تھی، پھر ان کے بعد طبقہ بہ طبقہ اور قبیلہ بہ قبیلہ ہر ایک کو درج کیا، ہر مسلمان کے لیے معین مقدار میں عطیہ مقرر کیا، نبی اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ، آپ کے اقرباء، اور تمام مسلمان مردوں و عورتوں، بچوں اور غلاموں کے لیے مختلف مقدار میں ان کی ولادت کے وقت ہی سے وظیفہ مقرر کیا۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 160)
دفاتر و دیوان کے اس نظام کو نافذ کر کے حضرت عمرؓ نے یہ واضح کر دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ میرے نزدیک کس قدر اہم ہے اور اسی سبب سے مجاہدین کے حقوق کی حفاظت کی خاطر آپؓ نے ان کے تمام تر معاملات پر خصوصی توجہ دی اور قریش کے ماہرین انساب اور باکمال و عالی مرتبت شخصیتوں کی نگرانی میں مدینہ منورہ میں عربی زبان میں ’’فوجی دیوان‘‘ تیار کرایا۔ پھر اسلامی سلطنت کی دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرز پر دواوین و دفاتر تیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہاں انہی مفتوحہ ریاستوں کی زبان میں مردم شماری کے رجسٹر تیار کیے گئے، انہیں عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید کے دور حکومت میں عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ دواوین و دفاتر کے ذریعہ سے مردم شماری کا کام پورا ہوجانے کے بعد حضرت عمرؓ ایک سال تک جمع کرتے رہتے اور پھر سال کے آخر میں اسے لوگوں میں حسب دفاتر تقسیم کرتے، ایک سال تک مال جمع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یکجائی ڈھنگ سے اس عمل کی انجام دہی کو آپؓ باعث خیر و برکت سمجھتے تھے۔ اس مقام پر ایک سال تک مال روکنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے کچھ محافظ و نگران بھی رہے ہوں، چنانچہ تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ عہد فاروقی میں حضرت زید بن ارقمؓ مسلمانوں کے بیت المال کے محافظ و نگران تھے۔
(صبح الاعشیٰ فی قوانین الإنشاء: قلقشندی: جلد 1 صفحہ 89)
اور حضرت ابوعبیدؓ نے اپنی سند سے عبدالقاری جو قبیلہ قارہ سے تھے کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بیت المال کی نگرانی پر مامور تھا۔
(فقہ الزکاۃ: جلد 1 صفحہ 318، سیاسۃ المال: صفحہ 160)