اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام - دفاعِ…

اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یہ چند روایات ہیں جو مختلف مواقع پر حاضرین سے متعدد مرتبہ آپؓ کے مشورہ لینے کی وجہ سے ایجاد دواوین و دفاتر کے متعدد اسباب پر دلالت کرتی ہیں۔

مؤرخین کا اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ کس سال دواوین و دفاتر کی کارروائی پوری ہوئی۔ طبری کے نزدیک یہ 15ھ کا واقعہ ہے، انہی پر ابن اثیر وغیرہ نے اعتماد کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے، اور دیگر مؤرخین مثلاً بلاذری، و اقدی، ماوردی اور ابن خلدون وغیرہ نے اسے محرم 20ھ کا واقعہ بتایا ہے۔ 

(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ 244، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)

راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ 20ھ میں اس کی کارروائی مکمل ہوئی، اس لیے کہ 15ھ میں قادسیہ کی جنگ لڑی گئی اور اس وقت تک عراق، شام اور مصر کی فتوحات مکمل نہیں ہوئی تھیں۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)

حضرت عمرؓ نے اموالِ غنیمت کی تقسیم میں صدیقی طریقہ کار کے خلاف عمل کیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں میں اموالِ غنیمت کو برابر تقسیم کیا، جب کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کی اسلام میں سبقت، جہاد میں نمایاں کردار اور رسول اللہﷺ کی نصرت و تائید کو مدنظر رکھتے ہوئے فرق مراتب کے لحاظ سے ان میں عطیات کو تقسیم کیا۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 159)

حضرت عمرؓ دور صدیقی ہی میں فرق مراتب کے لحاظ کے قائل تھے، چنانچہ جب آپؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دیکھا کہ سب لوگوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرتے ہیں تو ان سے کہا: کیا جس نے دو ہجرتیں کیں، اور دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی اس کے اور جس نے تلوار کے خوف سے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا، دونوں کے درمیان برابری کرتے ہیں؟ تو حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا: ان کا عمل اور اس کا بدلہ اللہ کے سپرد ہے۔ دنیا تو مسافر کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لیے ہے، حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: لیکن میں تو ابتدا میں جس نے اللہ کے رسول سے جنگ لڑی، انہیں ان لوگوں کا درجہ نہیں دوں گا جنہوں نے آپ کی نصرت و تائید میں آپؓ کے ساتھ جنگ لڑی۔ 

(الاحکام السلطانیۃ: الماوردی: صفحہ 201)

 چنانچہ آپؓ نے عطیات کے مستحقین کو چند درجات و مراتب میں تقسیم کر دیا: 

 اسلام میں پیش پیش رہنے والے، جن کی سبقت کی وجہ سے مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔

 مسلمانوں کے لیے مفاد و منافع فراہم کرنے والے، جیسے کہ حکام اور علماء جو مسلمانوں کو دین و دنیا کے فوائد پہنچاتے ہیں۔

 مسلمانوں کے نقصانات و مصائب کو دفع کرنے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے، جیسے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مسلمان فوجی، جاسوس اور دیگر خیر خواہ، نادار اور ضرورت مند لوگ۔ 

(السیاسۃ الشرعیۃ: ابن تیمیہ: صفحہ 48 اولیات الفاروق: صفحہ 358)

اموال کی تقسیم میں آپ کی سیاست آپ کے اس قول سے مترشح ہے کہ کوئی آدمی اس مال کا دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں ہے، اس میں آدمی اور اسلام میں اس کی سبقت کی رعایت کی جائے گی، آدمی اور اس کی خوشحالی دیکھی جائے گی، آدمی اور اس کی مصیبت دیکھی جائے گی، آدمی اور اس کی ضرورت دیکھی جائے گی۔ 

(جامع الاصول: جلد 2 صفحہ 71، أخبار عمر: صفحہ 94 )

آپؓ نے عقیل بن ابی طالب، مخرمہ بن نوفل اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کو بلایا، یہ لوگ قریش کے نوجوانوں میں سے تھے اور ان سے کہا: لوگوں کے ناموں کو ان کے درجات و مراتب کے اعتبار سے رجسٹر میں درج کرو، چنانچہ انہوں نے مستحقین میں سب سے پہلے بنو ہاشم کو پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کو، پھر حضرت عمرؓ اور ان کے قبیلہ کو، اسی طرح درجہ بدرجہ تمام قبائل کی فہرست تیار کی اور اسے حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: نہیں، میں اس طرح نہیں چاہتا تھا، بلکہ نبی کریمﷺ کے گھرانے اور قرابت داروں سے شروع کرو، اور آپ کے اقرب فاقرب کا اعتبار کرو، یہاں تک کہ عمر کو وہاں درج کرو جہاں اللہ نے اسے رکھا ہے۔ چنانچہ آپؓ کے قبیلہ بنوعدی کے لوگ آپؓ کے پاس آئے اور کہا: آپ خلیفہ رسول ہیں اور ابوبکر کے بھی خلیفہ ہیں اور ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے۔ لہٰذا بہتر ہوتا کہ ان رجسٹرار فہرست تیار کرنے والے حضرات نے جہاں آپ کو درج کیا تھا خود کو وہیں رکھتے، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے بنو عدی چپ رہو، چپ رہو، کیا مجھے روند کر کھانا چاہتے ہو اور میں اپنی نیکیاں تم کو دے دوں؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، تمہارا وہی درجہ ہے، یہاں تک کہ تم کو پکارا جائے اور تم پر ہی رجسٹر بند ہو، یعنی تم سب سے آخر میں درج کیے جاؤ۔ سنو! میرے دونوں ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک راستہ پر چل چکے ہیں، اگر میں ان کی خلاف ورزی کرتا ہوں تو میری بھی خلاف ورزی کی جائے گی، اللہ کی قسم! ہمیں دنیا میں برتری نہیں ملی اور ہمیں اپنے عمل پر اللہ کے یہاں ثواب ملنے کی امید نہیں ہے مگر محمدﷺ کے ذریعہ سے۔ آپﷺ ہمارے شریف و بزرگ ترین فرد ہیں اور آپؓ کا قبیلہ عربوں میں اشرف ہے، پھر ان کا قریب سے قریب ترین فرد، اللہ کی قسم! اگر اہل عجم حسن عمل کے ساتھ آئیں، اور ہم عرب خاندان و قبیلہ کی برتری لے کر بغیر عمل کے آئیں تو وہ قیامت کے دن ہم سے زیادہ نبی کریمﷺ کی شفاعت کے مستحق ہوں گے، جس کا عمل اسے پیچھے کر دے اس کا حسب نسب اسے آگے نہیں لے جا سکے گا۔ 

(فتوح البلدان: صفحہ 436، الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 227)

بہرحال حضرت عمرؓ نے دیوان کی تیاری و ترتیب شروع کی اور اس میں مستحقین کے نام اور ان کے عطیات کی مقدار درج کی گئی، اس دیوان کا نام ’’دیوان جند‘‘ یعنی فوجی دیوان رکھا گیا، اس بنا پر کہ تمام عرب مسلمان اللہ کے راستے کے فوجی مجاہد ہیں۔ سب سے پہلے قبیلہ بنو ہاشم کے مجاہدین کا رجسٹر تیار کرایا، پھر ان میں جس کو نبی اکرمﷺ کی سب سے زیادہ قرابت داری حاصل تھی، پھر ان کے بعد طبقہ بہ طبقہ اور قبیلہ بہ قبیلہ ہر ایک کو درج کیا، ہر مسلمان کے لیے معین مقدار میں عطیہ مقرر کیا، نبی اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ، آپ کے اقرباء، اور تمام مسلمان مردوں و عورتوں، بچوں اور غلاموں کے لیے مختلف مقدار میں ان کی ولادت کے وقت ہی سے وظیفہ مقرر کیا۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 160)

صفحہ 2 از 3