اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام - دفاعِ…

اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

دفاتر و دیوان کے اس نظام کو نافذ کر کے حضرت عمرؓ نے یہ واضح کر دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ میرے نزدیک کس قدر اہم ہے اور اسی سبب سے مجاہدین کے حقوق کی حفاظت کی خاطر آپؓ نے ان کے تمام تر معاملات پر خصوصی توجہ دی اور قریش کے ماہرین انساب اور باکمال و عالی مرتبت شخصیتوں کی نگرانی میں مدینہ منورہ میں عربی زبان میں ’’فوجی دیوان‘‘ تیار کرایا۔ پھر اسلامی سلطنت کی دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرز پر دواوین و دفاتر تیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہاں انہی مفتوحہ ریاستوں کی زبان میں مردم شماری کے رجسٹر تیار کیے گئے، انہیں عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید کے دور حکومت میں عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ دواوین و دفاتر کے ذریعہ سے مردم شماری کا کام پورا ہوجانے کے بعد حضرت عمرؓ ایک سال تک جمع کرتے رہتے اور پھر سال کے آخر میں اسے لوگوں میں حسب دفاتر تقسیم کرتے، ایک سال تک مال جمع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یکجائی ڈھنگ سے اس عمل کی انجام دہی کو آپؓ باعث خیر و برکت سمجھتے تھے۔ اس مقام پر ایک سال تک مال روکنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے کچھ محافظ و نگران بھی رہے ہوں، چنانچہ تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ عہد فاروقی میں حضرت زید بن ارقمؓ مسلمانوں کے بیت المال کے محافظ و نگران تھے۔

(صبح الاعشیٰ فی قوانین الإنشاء: قلقشندی: جلد 1 صفحہ 89)

اور حضرت ابوعبیدؓ نے اپنی سند سے عبدالقاری جو قبیلہ قارہ سے تھے کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بیت المال کی نگرانی پر مامور تھا۔ 

(فقہ الزکاۃ: جلد 1 صفحہ 318، سیاسۃ المال: صفحہ 160)


صفحہ 3 از 3