Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زکوٰۃ کے اخراجات

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے مستحقین زکوٰۃ کو آٹھ 8 قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ فرمایا:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَ فِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞ (سورۃ التوبة: آیت 60)

ترجمہ:’’صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنا مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں خرچ کرنے کے لیے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔‘‘

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فقراء و مساکین اموال زکوٰۃ سے اپنا حق پاتے تھے، اور یہ اموال ان کی فقیری و مسکینی، غربت و افلاس کے ازالے، اور انہیں خوشحالی و مال داری کے قریب تر کرنے کا سبب ہوا کرتے تھے۔

(النظام الإسلامی المقارن: صفحہ 112، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 171)

حضرت عمرؓ جب اموالِ زکوٰۃ سے ان کے مستحقین کو نوازتے تو دینے والوں سے کہا کرتے تھے: جب تم انہیں دو تو مال دار کر دو۔ 

(الأموال: أبوعبید: جلد 4 صفحہ 676، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 171)

یہ تھی فاروقی سیاست کی حکمت و دانائی کہ فقراء و مساکین کو ان کی ضرورت بھر تو دیا ہی جائے، مزید برآں وقتی ضرورت کی رعایت کرتے ہوئے اسے مقررہ حق سے زیادہ دیا جائے۔ البتہ وہ لوگ جو دائمی طور پر عاجز ہوں، مثلاً کسی دائمی مرض میں مبتلا ہوں تو درحقیقت اموال زکوٰۃ اس طرح کے لوگوں کے لیے دائمی اور منظم تعاون ہے، یہاں تک کہ فقر غنا میں تبدیل ہو جائے اور عجز قدرت میں تبدیل ہو جائے اور بے کاری کسب و عمل سے بدل جائے۔ آپؓ کی یہ سیاست جس طرح مسلمانوں کے لیے تھی اسی طرح جزیہ معاف کر دینے کے بعد محتاج و نادار اہل کتاب کے لیے بھی تھی۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 172)

فقراء و مساکین کی طرح اموال زکوٰۃ کے مستحق وہ لوگ بھی ہیں جو ان کی وصولی پر مامور ہوتے ہیں۔ ان کے ذمہ مختلف ذمہ داریاں اور متفرق کام ہوتے ہیں اور سب کا تعلق اموال زکوٰۃ کی تنظیم و تنسیق سے ہوتا ہے۔ مثلاً انہیں معلوم کرنا ہوتا ہے کہ کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ کس کس مال پر واجب ہے؟ کتنی واجب ہے؟ کون ان کا مستحق ہے؟ ان کی تعداد کتنی ہے؟ مستحقین کی کیا اور کتنی ضرورتیں ہیں؟ علاوہ ازیں اس سے متعلق بہت سارے امور و معاملات ہوتے ہیں جن کے لیے ماہرین و متخصصین اور ان کے معاون افراد کی ایک جماعت ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 173 )

تالیف قلب بھی زکوٰۃ کی ایک مد ہے کچھ لوگوں کو تالیف قلب کے لیے زکوٰۃ دی جاتی تھی، لیکن حضرت عمرؓ نے اموالِ زکوٰۃ سے ان کا حصہ ساقط کر دیا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؓ کے دورِ خلافت میں اسلام مضبوط ہو چکا تھا، اور مستحقین زکوٰۃ کی آٹھوں قسموں میں سے اس قسم تالیف قلب کا حقیقی معنوں میں کوئی مستحق نہ تھا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 202)

البتہ موجودہ دور میں تالیف قلب کی خاطر اموالِ زکوٰۃ کے مستحقین قدیم زمانے کی اصلی شکل میں یا دوسری شکل میں موجود ہیں اور ان میں دلجوئی کی خاطر دیے جانے والے اموالِ زکوٰۃ کی شرائط مکمل طور سے پائی جاتی ہیں۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 175)

بعض اسلام معارض اور جمود و تعطل کے نظریات کو فروغ دینے والے ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے اس واقعہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اپنے عہد حکومت میں تالیف قلب کی خاطر دیے جانے والے اموالِ زکوٰۃ کو اس کے مستحقین سے ساقط کر دیا تھا اور نص قرآنی سے ثابت شدہ ایک شرعی حکم کے نفاذ پر پابندی لگا دی تھی، حالانکہ یہ دعویٰ قطعاً باطل اور حقیقت حال سے بہت دور ہے۔ دراصل حضرت عمرؓ نے ایک عظیم حکمت و مصلحت کی وجہ سے یہ اقدام کیا تھا، وہ حکمت یہ تھی کہ اب اسلام مضبوط اور غالب ہو چکا ہے، جب کہ اپنے ابتدائی مراحل میں وہ بہت ہی کمزور اور کسمپرسی کے عالم میں تھا۔ لہٰذا اس غلبہ و قوت اور تائید و نصرتِ الہٰی کے بعد اب نہ اِن کو نہ اُن کو، کسی کو بھی دل جوئی و تالیف قلب کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 177، 178) 

اور حضرت عمرؓ کی اس اجتہادی کارروائی پر صحابہؓ نے بھی اتفاق رائے ظاہر کیا۔ واضح رہے کہ صحابہؓ نے کسی زور اور دباؤ کے نتیجہ میں یہ اتفاق رائے نہیں ظاہر کیا تھا، ’’تالیف قلب‘‘ کی خاطر اموال زکوٰۃ کے مستحقین کے حقوق پر پابندی عائد کرنے کے اسباب جواز موجود تھے۔ انہوں نے بھی سوچا کہ شان و شوکت کے ساتھ اسلام کی پیش رفت کے مدنظر اب ان چند افراد کی کوئی بہت بڑی حیثیت اور کوئی بہت بڑا وزن نہیں ہے۔ اب تو بہت ساری اقوام اسلام لا چکی ہیں اور جس کسی خدشہ کے پیش نظر تالیف قلب کے لیے چند لوگوں کو اموالِ زکوٰۃ دیا جاتا تھا اب وہ خدشہ اور خطرہ بھی باقی نہیں رہا۔ بلکہ ان کے متعلق اب اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں ان میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا رجحان نہ پیدا ہو جائے۔ مزید برآں یہ ان کا کوئی ایسا واجب حق نہ تھا کہ نسل در نسل وہ اسے وراثت میں پاتے ہی رہیں۔ 

(الأبعاد السیاسیۃ لمفہوم الأمن فی الإسلام: صفحہ 306)

بے شک سیدنا عمرؓ نے تالیف قلب کے طور پر اموالِ زکوٰۃ کے مستحقین کے بارے میں وارد شدہ نص قرآنی سے متعلق جمود کا مؤقف اختیار نہیں کیا، بلکہ نص قرآنی کی گہرائی میں اتر کر آپؓ نے سمجھ لیا کہ اس حصہ کا مقصد اشراف عرب کو اسلام میں داخل کر کے اسلام کو قوی اور غالب بنانا ہے اور ان میں جو لوگ راضی برضا خود بخود اسلام لے آئیں انہیں اسلام پر قائم رکھنا ہے۔ گویا آپؓ نے نص قرآنی کے ظاہری الفاظ سے قطع نظر اس کی علت پر غور کیا اور چونکہ آپؓ کے عہد خلافت میں اللہ نے اسلام کو مضبوط اور غالب کر دیا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت ہو چکی تھی لہٰذا آپؓ نے سوچا کہ اب تالیف قلب کی خاطر دیا جانے والا مال لینے والوں کے حق میں باعث ذلت و رسوائی ہے، اور جس علت کی بنا پر اللہ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا تھا اب وہ علت ختم ہو چکی ہے۔ اسی نظریہ کے تحت آپ نے ان کا حصہ موقوف کر دیا، اور اسی مبنی بر حکمت فاروقی اقدام کے پیش نظر ہم یہ کہتے ہیں کہ تالیف قلب کے نام سے اموالِ زکوٰۃ کے مصارف پر پابندی لگا کر حضرت عمرؓ نے کسی قرآنی نص کو معطل نہیں کیا، کیونکہ کسی شرعی حکم کو معطل کرنا اسے منسوخ کرنے کے مترادف ہے اور منسوخ کرنے کا حق صرف صاحب شریعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچتا ہے، پس وفات رسولﷺ کے بعد کسی شرعی حکم کے لیے نسخ ہے ہی نہیں۔ 

(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 132، 133 )

حضرت عمر فاروقؓ کی نگاہِ بصیرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جن احوال و اسباب کی رعایت پر شرعی نصوص قائم ہیں ان کی تبدیلی اور تغیر پر آپؓ کی نگاہ ہوتی تھی اور اس کا خیال رکھتے تھے، صرف ظاہری نص پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے جیسے کہ اس سے پہلے بات گزر چکی ہے۔ 

(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 136)

اموالِ زکوٰۃ کے مصارف و اخراجات میں یہ چیزیں بھی شامل تھیں کہ اسے گردن آزاد کرانے، قرض داروں، مسافروں اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کیا جاتا تھا، چنانچہ قرآنِ کریم نے مسافروں پر توجہ دی، اموال زکوٰۃ، فے اور غنیمت کے خمس میں ان کا حصہ مقرر کیا، اجنبی اور زادِ راہ ختم ہو جانے والے یا لٹ جانے والے مسافروں پر ایسی خاص توجہ فرمائی کہ دنیا کے کسی نظام اور شریعت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نبی کریمﷺ کی سنت اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے اس خصوصی عنایت کی عملی مثالیں فراہم کرتے ہیں اور اسی اسوۂ حسنہ کو زندہ رکھتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں ’’دار الدقیق‘‘ کے نام سے ایک عمارت بنوائی، آٹا، ستو، کھجور، کشمش اور دیگر ضروریات سفر جن کی ایک مسافر کو جس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو اور آنے والے مہمان کو ضرورت ہوتی ہے، یہ ساری چیزیں اس میں رکھتے تھے، مکہ و مدینہ کی درمیانی گزرگاہوں پر آپؓ نے کچھ سرائے خانے بنوائے جو لٹے ہوئے یا زادِ راہ ختم ہو جانے والے مسافروں کے لیے معاون ثابت ہو سکیں اور چشمے سے دوسرے چشمے تک ان کو پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ 

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 283)

اسلامی سلطنت کے لیے ضروری ہے کہ مستحقین زکوٰۃ والی آیت کریمہ میں جن آٹھ اصناف کی تحدید کی گئی ہے ان کو ڈھونڈے اور ان کی خبر گیری کرے، ہر شہر میں مردم شماری کے مقام، دفاتر و دواوین ہوں، پھر ان سب کی معلومات حکومت کے مرکزی دفتروں میں بھی موجود ہوں۔ عہد خلافت راشدہ میں صدقات و زکوٰۃ کا ایک مرکزی دیوان ہوتا تھا اور پھر دیگر ریاستوں میں اس کی شاخیں ہوا کرتی تھیں، لیکن یہ تنظیم اس وقت ہوئی جب مردم شماری کے دفاتر و رجسٹر حضرت عمرؓ کے عہد میں تیار کر لیے گئے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 184)

مستحقین زکوٰۃ کی آٹھوں قسمیں جن کا ذکر آیت کریمہ میں ہوا ہے اگر ہم دقت نظری سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی افواج کی تیاری، فقر کے خاتمہ، قرض کی ادائیگی اور ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل جیسی اہم دینی، سیاسی اور معاشرتی مصلحتوں و مفادات کو شامل ہے۔ مختصر لفظوں میں یہ کہ آیت کریمہ معاشرہ کے تمام تقاضوں اور سماج میں تمام لوگوں کے درمیان باہمی محبت، رواداری اور امن و سکون کا ماحول پیدا کرنے کے اہم اسباب کو سمیٹے ہوئے ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 184)