مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ام جمیل نامی عورت سے زنا کیا۔…

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ام جمیل نامی عورت سے زنا کیا۔ (کتاب المختصر، المستدرک، البدایہ والنہایہ تاریخ الامم والملوک)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

 مغیرہ بن شعبہؓ نے ام جمیل نامی عورت سے زنا کیا۔

(کتاب المختصر: المستدرک: البدایہ والنہایہ: تاریخ الامم والملوک)

جواب اہلسنت: اربابِ علم اس بات کو نوٹ فرما لیں۔ رافضی شیعہ قلمکاروں کی بددیانتی اگر جہاں بھر میں تقسیم کر دی جائے تو ہر شخص کے حصے میں اتنا بھار ضرور آئے گا کہ اسے کامل بد دیانت کہا جا سکے۔

اندازہ لگائیے کتاب مذکور میں وہ واقعہ لکھا گیا ہے جو دورِ فاروقی میں پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے صحابیِ رسولﷺ پر یہ الزام لگایا تو اسلامی نصاب شہادت سے وہ اسے ثابت نہ کر سکے۔ زنا کا جو الزام ثابت نہ کیا جا سکا رافضی شیعہ اسے زنا سے تعبیر کر رہا ہے جو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔

سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے روبرو یہ الزام حضرت مغیرہؓ پر لگایا گیا تو الزام لگانے والوں سے یہ واقعہ ثابت نہ کیا جا سکا جس کی بنا پر شرعی حد قذف ان کو لگائی گئی تھی۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں حد بعد ثبوت کے جاری ہوتی ہے اور چوتھے گواہ نے خاطر خواہ گواہی نہ دی تھی۔ پھر جب حد ہی ثابت نہ ہوئی تو حد دفع کرنے کا کیا معنیٰ۔

ابن جریر طبری، محمد بن اسماعیل بخاری رحمہمااللہ نے اپنی تاریخ میں اور حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمۃاللہ اور حافظ جمال الدین ابو الفرج ابن جوزی رحمۃاللہ اور شیخ شمس الدین مظفر رحمۃاللہ"سبط ابن جوزی رحمۃاللہ اور دیگر مؤرخین ثقہ نے نقل کی ہے کہ مغیرہ بن شعبہؓ امیر بصرہ کا تھا۔ بصرہ کے لوگ ان کی بدی چاہتے تھے کہ ان کو موقوف کرا دیں (یعنی معزول کروا دیں) اس لیے اس پر تہمت زنا کی باندھی اور چند گواہ جھوٹے مقرر کیے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کے حضور میں اس فاحشہ کی گواہی مغیرہؓ پر دیں۔

(تحفہ اثنا عشریہ: صفحہ 616۔ اُردو)

 پھر حضرت شاہ صاحبؒ نے مکمل واقعہ لکھا ہے کہ گواہ پیش کیے گئے لیکن جھوٹے تو جھوٹے ہی ہوتے ہیں جس چوتھے گواہ کو پڑھا کر لائے تھے وہ بےاختیار عدالتِ فاروقی میں سچ بول پڑا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت مغیرہؓ پر تو سزا حد کی نہ لگی مگر جو جھوٹی گواہی دینے آئے تھے اُن کو بہتان کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ (ملخص: ازتحفہ)

یاد رہنا چاہیے کہ یہ بصرہ وہی شہر ہے جو ابن سبا کی تحریک کا مرکزی کردار رہا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے درمیان آپس کی دشمنیاں پیدا کرنے کی ہمیشہ جسارت کی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا ایک ایسے واقعہ کی روایت جس کا جھوٹا ہونا اسلامی عدالت میں بالکل عیاں ہو چکا ہو اس پر اعتماد کرنا کِسی پاگل شخص کا کام ہو سکتا ہے۔ وہی لوگ جو اس بہتان کو تراش کر صحابہ کرامؓ سے دشمنی کا اعلان کر رہے تھے انہوں نے یہ روایت گھڑی اور تاریخ کی کتابوں کے واسطہ سے اُڑا دی۔

ہم عرض کرتے ہیں کہ جس الزام کو امیر المؤمنین فاروقِ اعظمؓ کی عدالت میں ثابت نہ کیا جا سکا وہ کِسی کے نزدیک قابل قبول ہرگز نہیں، اور اتنی بات تو رافضی شیعہ لوگ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ زنا کا دعویٰ چار گواہوں کے بغیر معتبر نہیں چنانچہ شیعہ اصول اربعہ میں داخل شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن الحسن کی تہذیب الاحکام جلد 10 کتاب الحدود کی دوسری روایت ہے:

 عن ابی عبداللّٰہ قال: لا یجب الرجم حتی تقوم البینۃ الاربعۃ شھود انھم قد راوہ یجامعھا

(تہذیب الاحکام: جلد 10 صفحہ 2 کتاب الحدود الزمی مطبوعہ تہران)

"ابو عبداللهؓ نے فرمایا کہ چار گواہوں کی گواہی کے بغیر رجم کرنا واجب نہیں یہاں تک کہ وہ چار گواہ (قاضی کے) روبرو یہ گواہی دیں کہ انہوں نے اِس (ملزم) کو جماع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔"

اس باب کی روایت نمبر 1 میں ہے کہ وہ گواہ (ملزم) کے زنا کرتے وقت دیکھ چکے ہوں کہ اس نے داخل اور خارج کیا جیسے سرمچو سرمہ دانی میں ہوتا ہے۔ اِس باب میں دسیوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چار گواہوں کے بغیر زنا کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ جب سبائیوں سے چار گواہ نہ پیش کیے جا سکے تو شیعہ قانون کے مطابق بھی الزام ثابت نہ ہوا پھر بھی یہ لکھنا کہ "انہوں نے زنا کیا" یہ جھوٹ نہیں! (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تحفہ اثنا عشریہ باب دہم در مطاعن خلفاء وغیرہم فی باب مطاعن فاروقی طعن نمبر 6 صفحہ 616 اور فوائد نافع حصہ اول صفحہ 622 تا 630)