جزیہ، خراج اور عشور کی آمدنی کو خلفاء، گورنران و افسران، فوجی کارندوں، اہلِ بیتؓ اور مجاہدین کی آل و اولاد اور دیگر اعمال خیر میں خرچ کیا جاتا تھا۔
خلیفہ کا وظیفہ:
خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے مذکورہ ملکی خزانہ سے پانچ ہزار 5000 اور دوسری روایت کے مطابق چھ ہزار 6000 درہم وظیفہ مقرر کیا گیا۔