غیر مسلموں سے نکاح
سوال: آج کل شریعتِ اسلامیہ کی نافذ کردہ پابندیوں سے فرار اختیار کرنے کے لئے کچھ نام نہاد مسلمان اپنے کو سیکولر کہہ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایسے کچھ لوگ اپنی شادی غیر مسلم عورتوں سے کر کے دونوں میاں بیوی اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ کیا ان کے جسمانی تعلقات، زنا کے دائرہ میں نہیں آتے؟ اور کیا ان کے بچے جائز ہوں گے؟
جواب: اسلام نے مشرکین سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔ اور خود قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود ہے وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡۚ (سورۃ البقرہ آیت 221)
غیر مسلموں میں صرف اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کا استثناء ہے کہ ان عورتوں سے مسلمان مرد نکاح کر سکتے ہیں، بشرطیکہ واقعی یہودی یا عیسائی ہوں، وحی اور نبوت کو مانتی ہوں اور مسلمان شوہر کے ایمانی، اخلاقی اور تمدنی اعتبار سے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ دوسری مشرک عورتوں سے نکاح کے جائز نہ ہونے اور نکاح بھی کر لے تو اس کے منعقد نہ ہونے پر امت کا اجماع و اتفاق ہے۔
ان کے جسمانی تعلقات واقعی زنا کے درجہ میں ہے، ان سے پیدا ہونے والے بچوں کا نسب ثابت و صحیح نہیں، اس لئے کہ مشرکہ سے نکاح فاسد نہیں بلکہ فقہاءؒ کی اصطلاح کے مطابق باطل ہے، اور نکاح باطل ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب نہیں مانا گیا ہے۔
(کتاب الفتاویٰ جلد 2، صفحہ 246 حصہ چہارم)