Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنروں کے وظائف

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ہر اسلامی ریاست میں ایک دور اندیش اور صاحب بصیرت حاکم گورنر کی شکل میں مقرر کیا تھا اور اس کے ساتھ چند معاونین اور مشیروں، محصلین زکوٰۃ، قاضیوں، دستاویز تیار کرنے والوں، زکوٰۃ اور خراج وغیرہ کے افسروں کو کر دیتے، جو شخص جنگی مہمات اور نماز کی ذمہ داری پر مامور ہوتا وہی امیر کہلاتا تھا، اموال کی وصولی ، زمین کے بندوبست، ٹیکس کا تخمینہ لگانے، اور مردم شماری کے لیے الگ الگ افسران تھے، جنہیں اپنے اپنے کاموں میں پوری مہارت ہوتی تھی۔ آپؓ نے ان میں سے ہر ایک کے عہدہ و ضرورت، مرکز سے ریاست کی دوری اور نزدیکی وسائل کی فراہمی اور مہنگائی و ارزانی کی رعایت کرتے ہوئے ان کے لیے تنخواہیں مقرر کیں اور وظیفہ دینے کا کوئی ایک خاص وقت متعین کیا کہ جس میں کبھی تاخیر نہ ہوئی ہو۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 198)

ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں جب میں ’’گورنروں کے شعبہ و دائرہ کار‘‘ پر بحث کروں گا تو وہاں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔