مشرکانہ افعال میں شرکت اور معاونت کرنا
سوال: دیویوں اور دیوتاؤں کی مخصوص پوجا میں شرکت کے لئے آج کل شائع ہوتے ہیں۔ اس کے منتظمین اور مجلسِ استقبالیہ میں کئی مسلمانوں کے نام اور تصویریں بھی شامل ہوتی ہیں۔ کیا ایسے لوگوں کا اسلام سے تعلق برقرار رہے گا؟
جواب: اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنے مذہب پر قائم رہیں اور دوسروں کے مذہبی اُمور میں خلل نہ پیدا کریں۔ گو ہم انہیں غلط ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ہم کوئی ایسا فعل کر گزریں جو ہمارے بنیادی عقیدہ اور فکر کے خلاف ہو، مسلمانوں کے لئے غیراللہ کی پرستش کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اور شرک کا ارتکاب جس طرح گناہ ہے اسی طرح مشرکانہ افعال میں شریک اور معاون ہونا بھی گناہ ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لئے پوجا کے انتظام و انصرام میں شامل ہونا قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔
البتہ ہو سکتا ہے کہ ان مسلمانوں نے بہ کراہت خاطر کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت اپنا نام دیا ہو، اس لئے ان کو کافر قرار دینے میں احتیاط برتنی چاہئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ان کا یہ فعل قریب بہ شرک ہے، ایسے لوگوں کو محبت و حکمت کے ساتھ سمجھائیں اور اس مشرکانہ عمل سے بچائیں۔
(کتاب الفتاویٰ ساتواں حصہ، صفحہ 41)