حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر لعنت کی
مولانا ابوالحسن ہزارویحضرت عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا نے معاویہؓ اور عمرو بن العاصؓ پر لعنت کی
(الکامل فی التاریخ، تتمہ المختصر فی اخبار البشر، حضرت عُثمان شہید از محمد بن یحیٰی تاریخ ملت)
الجواب اہلسنّت
محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع آف محمدی شریف رحمتہ اللہ سیرت امیر معاویہ (رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ) میں رقم فرماتے ہیں "اور حضرت عائشہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہا کے بد دعائیں کرنے کی یہ روایت ابو مخنف لوط بن یحیٰی رافضی شیعہ بزرگ سے مروی ہے نیز اسناد میں ابومخنف ایک واسطہ کے ذریعے عن شیخ من اہل المدینہ سے نقل کرتا ہے وہ شیخ اپنی جگہ مجہول بالذات و الصفات ہے۔"
(سیرت امیر معاویہ حصہ دوم صفحہ 162)
2_ ابو مخنف لوط بن یحیٰی کی یہ روایت ہے جِس کی بنا پر ہمیں الزام دیا جارہا ہے ملاحظہ فرمائیں لوط بن یحیٰی کون ہے...
۔ابو مخنف لوط بن یحیٰی، ھال، لا یوثق به، ضعیف، لیس بشئ شیعی محترق، صاحب اخبارھم۔
1۔ المغنی للذہبی جلد 2 صفحہ 807 تحت ابنِ مخنف۔
2۔ میزان الاعتدال للذہبی جلد 2 صفحہ 360 تحت لوط بن یحیٰی۔
3۔ لسان المیزان لابن حجر جلد 4 صفحہ 492۔
ابو مخنف لوط بن یحیٰی نہایت مجروح، غیر ثقہ، ضعیف، متروک اور جلا بھنا رافضی شیعہ ہے۔ قصہ گو اخباری ہے۔
محترم حضرات ! مانا کہ یہ روایت اہلِ سنت کی کتابوں میں دستیاب ہے مگر ذرا جھانک کر دیکھو تو سہی آئی کِس کے گھر سے ہے؟ اور کسی زبان سے جاری ہو کر منہ کے راستے عالمِ وجود میں داخل ہوئی ہے؟ جلے بھنے رافضی شیعہ کہانیاں بنانے اور گھڑنے والے اخباری سے ہی یہ روایت وجود پذیر ہوئی ہے ناں ؟ تو ایسی روایت کو الزام میں پیش کرتے ہوئے رافضی شیعہ لوگوں کو شرم بھی نہ آئی۔ مگر مقصود تحقیق اور راہِ حق کا تلاش کرنا ہوتا تو پھر آدمی حقائق پر غور کرتا۔ یہاں تو دھوکا فراڈ اور جھوٹ بہتان کے سوا کُچھ بھی نہیں نظر آتا۔ ہماری اس گزارش سے مذکورہ روایت کا حال حشر سب پر عیاں ہو گیا کہ یہ روایت جلے بھنے رافضی شیعہ کی ایجاد کردہ ہے۔ ابو مخنف کے بارے میں گذشتہ اوراق میں بھی ہم عرض کر چکے ہیں۔ مزید تسلی کے لیے وہاں ملاحظہ فرما لیا جائے۔