فوج کے وظائف - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فوج کے وظائف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 299، الخراج: أبو یوسف: صفحہ 50)

اس مقام پر سب سے اہم اس بات کی وضاحت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عطیات و وظائف کی تقسیم میں مسلمانوں میں برابری کیوں نہیں کی؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت و قرابت، انصار و مہاجرین کے ممتاز صحابہؓ کی امتیازی شان کی رعایت کرتے ہوئے کیوں واضح طور پر ان کو مالی نوازش میں فوقیت دی؟ اسی طرح اسلام میں سبقت کرنے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصائب برداشت کرنے کو معیار برتری کیوں قرار دیا؟ ان تمام اشکالات کا جواب یہ ہے کہ آپؓ کے دورِ خلافت میں جن پاک نفوس کی جماعت نے ان لاتعداد اموال کو حاصل کیا تھا، اسی کے کندھوں پر اسلامی سلطنت کی عمارت کھڑی تھی، اور وہ جماعت شریعت پر سب سے زیادہ کاربند اور اس کے مقاصد کو سب سے زیادہ سمجھنے والی تھی، نیز مال کو خرچ کرنے اور سماجی مفاد عامہ میں اسے استعمال کرنے میں سب سے زیادہ پاک باز و نیک نیت ثابت ہوئی تھی۔ لہٰذا اس جماعت کو مادی طور پر مضبوط کرنا گویا معاشرہ میں اس کے اثرات اور گرفت کو مضبوط کرنا تھا اور یہی اثر و نفوذ اسے اس بات پر زیادہ قادر بناتی کہ وہ پوری دل جمعی کے ساتھ بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔

واضح رہے کہ آپؓ نے عطیات و وظائف کی تقسیم میں بعض کو بعض پر برتری دینے والی سیاست میں تبدیلی کرنے اور سب کو یکساں عطیات دینے کا عزم کر لیا تھا، جیسا کہ اپنے آخری دور خلافت میں آپؓ نے اس کا اظہار یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ اگر میں آئندہ باحیات رہا تو لوگوں کے آخری فرد کو اس کے اوّلین فرد سے عطیات میں ملا دوں گا اور سب کے لیے یکساں بیان و قرار نافذ کروں گا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 216، الأموال: ابن زنجویہ: جلد 2 صفحہ 576)

اور عام ملکی اموال کے بارے میں حضرت عمرؓ نے اپنا مؤقف اس طرح ظاہر کیا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن نگران اور اسے تقسیم کرنے والا بنایا ہے، پھر کہا: بلکہ حقیقت میں اسے اللہ تعالیٰ تقسیم کرتا ہے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 216، یہ اثر صحیح ہے۔)

اور جب آپؓ نے فارس کی فتوحات سے بیت المال میں بہت زیادہ مال آتے ہوئے دیکھا تو رونے لگے، آپؓ کو روتا دیکھ کر حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا: آج تو شکر الہٰی اور خوشی و مسرت کا دن ہے، آپؓ روتے کیوں ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا: ہرگز نہیں، بے شک اس دولت کی جس قوم میں فراوانی ہوئی اس میں باہمی عداوت و کدورت پھوٹ پڑی۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 217۔ یہ اثر صحیح ہے)

اسی طرح جب فتح ’’جلولاء‘‘ کے موقع پر اموالِ غنیمت کی کثرت کو دیکھا تو یہ آیت تلاوت کرنے لگے:

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ ۞ (سورۃ آل عمران: آیت 14)

ترجمہ: ’’لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے، جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے۔‘‘

اور کہا: اے اللہ تو نے جن نعمتوں سے ہمیں مزین کیا ہے اسے پا کر ہم خوش ہی ہوں گے، اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ اسے جائز مقام پر خرچ کروں اور اس کے شر اور برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 217، یہ اثر حسن ہے)


صفحہ 2 از 2