اموال غنیمت کے مصارف مدات
علی محمد الصلابیاموالِ غنیمت کے خمس کی تقسیم خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۞ (سورۃ الأنفال: آیت 41)
ترجمہ: ’’اور جان لو کہ بے شک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے۔‘‘
اموالِ غنیمت کے بقیہ چار خمس 5/4 مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے تھے، شہسواروں کو تین حصے دے جاتے تھے، دو حصے گھوڑے کے اور حصہ شہسوار کا، اور پاپیادہ مجاہدین کو ایک حصہ ملتا تھا۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 22 )
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ کو ملنے والے خمس کے مصارف یہ تھے کہ آپ اسے اپنی ذاتی ضروریات اور اپنی بیویوں پر خرچ کرتے تھے، اور پھر جو حصہ بچ جاتا اسے مفاد عامہ میں یا فقراء و محتاجوں میں خرچ کر دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے والے خمس کا دوسرا حصہ آپﷺ کے قرابت داروں یعنی بنو ہاشم اور بنوعبدالمطلب کو جو اسلام لا چکے تھے اور دعوت نبوی کو قبول کرچکے تھے ملتا تھا۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو خمس کے مذکورہ دونوں حصوں کے مصارف کے بارے میں صحابہؓ میں اختلاف ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ کا حصہ آپ کے بعد ہونے والے خلیفہ کا حق ہے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ آپﷺ کے قرابت داروں کا حصہ انہی کا حق ہے، جب کہ بعض لوگوں نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ خلیفہ کے بعد اس کے قرابت داروں کا حق ہے۔ لیکن بالآخر اس بات پر سب متفق ہو گئے کہ اصل مستحقین کی عدم موجودگی میں مذکورہ دونوں حصے اسلحہ اور گھوڑوں کی خریداری میں خرچ کر دیے جائیں۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 22)
اور اس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دونوں حصوں کی مخصوص آمدنی کو مسلمانوں کے مفادِ عامہ مثلاً اسلامی لشکر کی تیاری، سرحدوں کی حفاظت اور ملکی استحکام واستقرار کے اسباب وذرائع میں خرچ کیا جانے لگا۔
اور خمس اوّل میں فقراء، مساکین اور مسافروں کے جو حصے تھے وہ اپنی حالت پر اسی طرح باقی رہے، جس طرح اللہ کے رسولﷺ کے دور میں تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس میں کوئی ترمیم و تبدیلی نہ ہوئی۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ: 204،205)
عہد فاروقی میں وزارت خزانہ اور اس کی تعمیر و ترقی کی متعدد صورتوں کے واضح نقوش کی یہ روداد تھی جو بیان ہوئی۔ آپ عام ملکی خزانہ کے بارے میں بہت محتاط اور صاحب ورع ثابت ہوئے تھے۔ جس کی جھلک آپؓ کے اس قول میں دیکھی جا سکتی ہے: ’’میں اللہ کے مال سے جتنا اپنے لیے حلال سمجھتا ہوں اسے تم کو بتائے دیتا ہوں، وہ ہے: جاڑے اور گرمی کا ایک جوڑا، حج وعمرہ کرنے کے لیے ایک سواری، قریش کے ایک متوسط فرد جو نہ بہت مال دار ہو اور نہ بہت فقیر، کی طرح اپنے اہل و عیال کا خرچہ، میں بھی عام مسلمانوں کا ایک فرد ہوں، مجھے بھی ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے جو تمام مسلمانوں کو پڑتی ہے۔‘‘
(تاریخ المدینۃ: ابن شبۃ: جلد 2 صفحہ 698 یہ اثر صحیح ہے)
اور آپؓ کہا کرتے تھے: ’’اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں صرف اپنی ضرورت بھر خوراک کھاتا ہوں، صرف بقدر ضرورت اپنا حلہ جوڑا پہنا کرتا ہوں اور صرف واجبی حق لیتا ہوں۔‘‘
(تاریخ المدینۃ النبویۃ: ابن شبۃ: جلد 2 صفحہ 298)
نیز کہتے تھے: ’’میں نے اللہ کے مال میں خود کو یتیم کے مال کے قائم مقام کر دیا ہے، جو مال دار ہو وہ پاک دامنی کا طالب ہے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھائے۔‘‘
(الطبقات، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 313 عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 218)